لاہور-آسلام آباد (ٹیوٹرپاکستان) آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کی ملک بھر سے200 سے زائدرجسٹرڈپرائیویٹ سکولزایسوسی ایشنز،مدارس،فنی تعلیمی اداروں واکیڈمیزکا کاشف مرزا اور ہدایت خان کی قیادت میں مشترکہ اعلامیہ
اعلان کردہ 12سو ارب میں سے نجی تعلیمی اداروں کے کرایے ، بلز ، اساتذہ کی تنخواہوں کیلئے حصہ مقرر کیا جائے حکومت نے ہماری بات نہیں سنی، اداروں پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تو ملین مارچ کرینگے ، نمائندوں کی پریس کانفرنس-
ملک بھر کی پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنز نے 15 ستمبرسے سکولز کھولنے کا حکومتی فیصلہ مسترد کرتے ہوئے 15اگست سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کردیا۔آل پاکستان پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنز کے نما ئندگان نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا چھ ماہ سے تعلیمی ادارے بند ہیں جس سے بچوں کا نقصان ہو رہا ہے ، ہم پندرہ اگست سے ملک بھر کے تعلیمی ادارے کھولیں گے ۔ صدر پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کاشف مرزا اور ہدایت خان نے کہا کہ حکومت سے مذاکرات بھی کئے گئے مگر ہماری بات نہیں سنی گئی، حکومت نے ہمارے اداروں پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تو ہم ملین مارچ کریں گے ۔پیر کوملک بھر کی نجی سکولوں کی ایسوسی ایشنز کی کانفرنس نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ہوئی،انہوں نے کہا حکومت کے اعلان کردہ 12سو ارب میں سے نجی تعلیمی اداروں کے کرائے ، یوٹیلیٹی بلز اور اساتذہ کی تنخواہوں کے لیے بھی حصہ مقرر کیا جائے ، پورے ملک میں دولاکھ سات ہزار سکول،پندرہ لاکھ اساتذہ اور ڈھائی کروڑ بچوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے ۔
آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نےتعلیمی ادارے14ستمبر تک بند رکھنےکےفیصلے کو مسترد کرکےسکولز و تعلیمی ادارےفوری کھولے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
مدارس کے ملک بھر میں کامیاب تجربہ کی روشنی میں حکومت اسکولز15اگست سے کھولے، بصورت اسکولز15اگست دیگر مدارس دینیہ کی طرح اتحادی تنظیموں کےساتھ ملکر از خود تعلیمی ادارے کھول دیں۔
ملک بھرتعلیمی آئینی حقوق کے جائزمطالبات کیلیے پرامن احتجاج کا اعلان۔لائحہ عمل کیCEC میٹینگ میں حتمی منظوری!
1-چیف جسٹس پاکستان،آرمی چیف،وزیر اعظم، وزرااعلی،گورنرز سےاپیل کی کہ SOPs کے تحت دیگر شعبہ جات کی طرح سکولزوتعلیمی ادارےبھی فوری کھولے جائیں۔پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نےعالمی معیار کے SOPs تیار اورجاری کر دیے ہیں:کاشف مرزا
2۔نجی سکولز،پیف وپیما،دیگرتعلیمی اداروں واکیڈمیزکا معاشی قتل کیا جارہا ہے۔تعلیمی اداروں کی بندش سے50%تعلیمی ادارے مکمل بنداور10لاکھ لوگ بے روزگار ہوجائینگے۔
3۔7.5کروڑ پاکستانی بچےاپنے آئینی حق سےمحروم ہیں،جن میں50 فیصد سے زائد تعداد لڑکیوں کی ہے۔تعلیمی نقصان کاازالہ ناممکن، تعلیم ہر بچے کاحق اور25-Aریاست کا آئینی فریضہ ہے:-
حکومت جان بوجھ کر شعبہ تعلیم کو تباہ کر رہی ہے، چائلڈلیبر رجحان میں خطرناک اضافہ ہواہے۔کاشف مرزا
4-امیروں کی اولاد گھر میں ٹیوٹر اورعام انسان کا بچہ تعلیم سے محروم کیوں؟آن لائن تعلیم اورتعلیم گھر ٹی وی اک فلاپ ڈرامہ!
5-کرونا سے شدیدمتاثرممالک میں تعلیمی ادارے کھلےہیں، چین کےصوبےووہان، برازیل، سپین، انگلینڈ،انڈیا، ایران، بنگلہ دیش، سری لنکا سمیت امریکہ، روس، ڈنمارک،فرانس،سوئٹزرلینڈ، آسٹریا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ،جرمنی،جاپان، کوریا، سعودی عرب،اسرائیل، ہانگ کانگ وغیرہ شامل ہیں،تو پاکستانی بچےتعلیم سے محروم کیوں؟
6- سکولز کی ٹائمنگ صبح 7 تا10اور2شفٹ میں سماجی فاصلے کو برقرار رکھ کے کلاسز جاری رکھی جا سکتی ہیں
7-ٹیچرز تنخواہیں اور90فیصد اسکولزعمارتیں کے کرائے فکسُ ہیں۔بند سکولز کو بھی اوسط شرح بنیاد پریوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی ہے۔وزیراعظم ٹیچرز کیلیے ’’تعلیمی ریلیف پیکیج‘‘کااعلان کریں-
8- بورڈ امتحانات منسوخ کرنے کی بجائےامتحانات سماجی فاصلے برقرار رکھ کرکیے جائیں۔بورڈز فیس کی مد میں 45لاکھ طلباسےوصول شدہ25ارب روپے واپس کریں –
9- حکومت غیرآئینی اقدامات بند کرے۔فیسوں کے حوالےسے حکومت سندھ اورپنجاب کا فیس میں 20فی صد کمی کا نوٹیفیکیشن وآرڈیننس آئین کےآرٹیکل 18,8،5,4,3, 25(1)،37اور38 سےمتصادم،امتیازی وغیر قانونی ہے-
9۔ انسانیت کے جذبہ اور ملک بھرکے مستحق طلبا کے لیے کرونا ایجوکیشنل ریلیف فنڈقائم کیا،وزیر اعظم پاکستان و وزراءاعلی کوملک بھر کے2لاکھ پرائیویٹ سکولزآئسولیشن سینٹرز اور قرنطینہ سنٹرزاور 15 لاکھ ٹیچرز بطوروالیئنٹیرز پیشکش بھی کی گئی-
10-خودکشی کرنے والےٹیچر کی موت اور پنجاب بھر کی تعلیمی بدانتظامی کےذمےداروزیر تعلیم پنجاب مراد راس سمیت دیگر تعلیم دشمن وزراتعلیم کوفوری بر طرف کیا جائے-کاشف مرزا نے اخر میں چیف جسٹس پاکستان،آرمی چیف اور وزیراعظم سے داد رسی کی اپیل ہے-
دیگر قائدین میں ہدائیت اللہ، ملک ابرار حسین،پرویز ہارون،سلیم خان،امجد شاہ،ندیم انور، شاھد چوھدری،حنیف انجم، شاھدنور،ملک خالد محمود،سلیم ناصر،نذربریچ،راجہ محمد الیاس کیانی ،محمد اشرف ہراج ،نواز پندرانی،اکرم شیخ،عرفان کیانی ،محمد ابراہیم ،جاوید اقبال راجہ ،ملک حفیظ الرحمان، افتخار چوہدری، مسرت کامران، عاطف کیانی، محمد امین، زاہد محمود، رانا سہیل، قاسم اقبال، حافط طارق،اور دیگر موجود تھے۔
228