پارلیمانی سیکرٹری برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب شہریار ملک نے کہا ہے کہ پراپرٹی ٹیکس کی سالانہ رینٹل ویلیو سے کیپیٹل ویلیو پر منتقلی حکومت پنجاب کے معاشی اصلاحات کے ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسعت دے کر محصولات میں اضافے اور صوبے کی مالی خودمختاری کو یقینی بنانا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پنجاب سول آفیسر میس کلب میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کے زیر اہتمام تربیتی ورکشاپ سے خطاب کے دوران کیا ۔ پارلیمانی سیکرٹری بتایا کہ پراپرٹی ٹیکس کے اس نئے نظام کے تحت پراپرٹی ٹیکس کے تخمینے کے لیے بورڈ آف ریونیو کے مرتب کردہ ڈی سی ٹیبلز کو معیار بنایا جائے گا ۔ ٹیکسیشن کے اس نئے نظام ملے نفاذ سے پنجاب بھر میں مزید 10 لاکھ پراپرٹی یونٹس کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جا سکے گا جس کے نتیجے میں قومی خزانے میں 7 ارب روپے کا اضافی متوقع ہے۔ ورکشاپ کے دیگر شرکاء میں ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن عمر شیر چٹھہ، محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کے مختلف شعبہ جات کے ڈائریکٹرز ، ای ٹی آوز ، انسپیکٹرز اور پنجاب اربن یونٹ سے سینئر افسران شامل تھے۔ ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے اپنی خطاب میں پنجاب حکومت کے مالی اصلاحاتی ایجنڈہ کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پراپرٹی ٹیکس میں اصلاحات صوبے میں ٹیکسیشن کے شفاف اور موثر نظام کے قیام کے حوالے سے اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ انہوں نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے افسران اور ورکشاب میں حصہ لینے والے عملہ کو تاکید کی کہ وہ نئے نظام کے مؤثر نفاذ کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تاکہ صوبے کی معیشت کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
اربن یونٹ کی ٹیکنیکل ٹیم نے محکمہ کے عملے کو اس نئے نظام کے تکنیکی و عملی پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی اور ٹیکس کے تخمینے پر اس کے اثرات سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کے پراپرٹی ٹیکس کے نظام میں یہ تبدیلی ایک تاریخی اقدام ہے جو ٹیکس سسٹم میں بہتری کے ساتھ صوبائی وسائل میں اضافے کو یقینی بنائے گا۔
80