بانی تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل سکندر ذوالقرنین اور سلمان صفدر نے سائفر کیس کی سماعت کی تفصیل بتادی۔
اڈیالہ جیل راولپنڈی کے باہر سکندر ذوالقرنین اور سلمان صفدر نے میڈیا سے گفتگو کی اور 8 فروری کے بعد آب و ہوا کلیئر ہونے کا اشارہ دیا۔
سکندر ذوالقرنین نے کہا کہ آرٹیکل 10 اے کے مطابق فیئر ٹرائل ہونا چاہیے، گواہ کچھ بتائے جاتے ہیں اور پراسیکیوشن کسی اور کو لے آتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم کورٹ کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں مگر عدالت سمجھ سے باہر ہے، سائفر کو آج بھی سیکریٹ کہا جا رہا ہے، ان کا جس چیز کو دل کرتا ہے سیکریٹ بنا دیتے ہیں۔
سلمان صفدر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ایک ماہ بعد ملاقات ہوئی تو قانونی معاملات پر بات چیت کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سائفر کیس بار بار لڑکھڑاتا ہے، اس کو دوبارہ واپس کھڑا کیا جاتا ہے، روزانہ کی بنیاد پر سخت سردی میں اس کیس کو چلانا سمجھ سے بالاتر ہے۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ کل بانی پی ٹی آئی لاہور ہائیکوٹ میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس اور توشہ خانہ کیس کے سوا کسی میں گرفتاری نہیں۔ لاہور ہائیکورٹ سے تمام مقدمات میں ضمانت مل چکی ہے۔