الیکشن کمیشن کے ڈی جی آئی ٹی خضر عزیز نے کہا ہے کہ ہم کوئی انٹرنیٹ یا پبلک نیٹ استعمال نہیں کر رہے، نتائج کے لیے پرائیویٹ نیٹ ورک استعمال کیا جا رہا ہے۔
جیو نیوز کی الیکشن ٹرانسمیشن میں گفتگو کرتے ہوئے خضر عزیز نے کہا کہ اس مرتبہ آر ٹی ایس استعمال نہیں ہو رہا، قوم کو اطمینان دلاتے ہیں کہ الیکشن مینجمنٹ سسٹم ایک اسپیشل سافٹ ویئر ہے، الیکشن مینجمنٹ سسٹم 859 ریٹرننگ افسران کے دفتر میں دیا ہے، آر او دفتر میں 4 ڈیٹا انٹری آپریٹر، 4 لیپ ٹاپ اور آئی ٹی ایکیوپمنٹ دیا ہے۔
خضر عزیز کا کہنا ہے کہ پریزائیڈنگ افسران کے موبائل میں بھی ای ایم ایس انسٹال کیا ہے، پریزائیڈنگ افسر اپنے موبائل پر فارم 45 کی تصویر لے کر ریٹرننگ افسر کو بھیج دے گا، اگر سگنل نہیں آرہے تو جب سگنل آئیں گے تو فارم 45 خود بخود آر او کے پاس پہنچ جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پریزائیڈنگ افسر کو سیکشن 95 کے تحت آر او کے پاس جانا ہے، پریزائیڈنگ افسر اپنے موبائل پر فارم 45 ریٹرننگ افسر کو دکھا سکتا ہے، فارم 45 پریزائیڈنگ افسر کے موبائل میں خود کار طور پر لاک ہو جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ آر او فارم 47 بناتے وقت تسلی کر لے گا کہ پریزائیڈنگ افسر کے موبائل میں فارم 45 لاک ہے، آر او آفس میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے لگے کمپیوٹر 3 موڈ میں کام کر رہے ہوں گے، آر او آفس میں لگے کمپیوٹر میں آن لائن ڈیٹا انٹری ہو رہی ہو گی، اگر ڈیٹا نیٹ ورک کنیکٹی ویٹی ڈاؤن ہوتی ہے تو سافٹ ویئر آف موڈ میں کام کرتا رہے گا۔
خضر عزیز نے کہا کہ آن لائن اور آف لائن کے علاوہ تیسرا ٹول بھی رکھا ہوا ہے، پچھلی مرتبہ رزلٹ مینجمنٹ سسٹم نے اچھا کام کیا تھا، یہ اس کا امپرووڈ ورژن ہے، دھند کا بھی بندوبست کیا ہوا ہے، یہ جی پی ایس سے کنیکٹڈ ہے، الیکشن کمیشن کا اپنا ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر ہے، جسے فائبر آپٹک سے کنیکٹ کیا ہے، جہاں فائبر آپٹک نہیں وہاں سیٹلائٹ ہے۔