پاکستان میں توانائی کے شعبے میں قابلِ تجدید ذرائع کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیشِ نظر، دنیا میں شمسی توانائی کی مصنوعات تیار کرنے والے صفِ اول کے ادارے ‘لونگی’ (LONGi) نے ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی سمٹ کا انعقاد کیا۔ اس تقریب کا مقصد صنعت سے وابستہ اہم شخصیات کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے پاکستان میں سولر مارکیٹ کے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنا تھا۔
لاہور میں منعقدہ اس “لونگی (LONGi) یونائٹ اینڈ ٹرانسفارم سمٹ 2026” کا انعقاد ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب صنعتی اور رہائشی دونوں شعبوں میں سستی اور قابلِ اعتماد توانائی کے حل کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس تقریب نے ابھرتے ہوئے رجحانات کے جائزے اور پاکستان میں شمسی توانائی کو اپنانے کے لیے مستقبل کے مارکیٹ فریم ورک کی تشکیل میں ایک اہم پلیٹ فارم کا کردار ادا کیا۔
صنعتی ماہرین کے مطابق، اس سمٹ کا وقت شمسی توانائی کے شعبے میں آنے والی اس بڑی تبدیلی سے مطابقت رکھتا ہے جہاں اب مقابلہ صرف قیمتوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ توجہ اب معیار، پائیداری اور طویل مدتی کارکردگی (Value-oriented approach) پر مرکوز ہو رہی ہے۔
سمٹ کے دوران لونگی نے مقامی مارکیٹ کے لیے مربوط توانائی کے حل کا ایک وسیع پورٹ فولیو بھی پیش کیا جس میں مختلف شعبوں کے لیے جدید مصنوعات شامل تھیں۔ ان میں صنعتی اور تجارتی شعبے کے لیے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (BESS) یعنی ‘Hi-MO One’ اور تجارتی و یوٹیلیٹی اسکیل کے لیے ڈیزائن کردہ ‘LONGi OneBank’ شامل ہے جو کہ 3.1MW/6.25MWh کا ایک مکمل اسٹوریج پیکیج ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کمپنی نے ‘LONGi Horizon Harvest’ بھی متعارف کرایا، جو شمسی توانائی پر مبنی ایک جامع واٹر پمپنگ سسٹم ہے اور سولر پینلز، VFD ٹیکنالوجی اور سبمرسیبل پمپس پر مشتمل ہے۔
ان مصنوعات کا تعارف پاکستان میں اسٹوریج کے قابلِ اعتماد نظام، بجلی کے مؤثر انتظام اور زراعت کے لیے پائیدار توانائی کی بڑھتی ہوئی ضرورت کی عکاسی کرتا ہے۔
مصنوعات کے تعارف کے علاوہ، سمٹ میں سال 2026 کے لیے ایک جامع اسٹریٹجک روڈ میپ پر بھی توجہ دی گئی، جس میں مارکیٹ کے ڈھانچے میں موجود چیلنجز جیسے پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال اور سپلائی چین میں اتار چڑھاؤ کا حل تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔
تقریب میں ڈسٹری بیوٹرز، انسٹالرز، فلیگ شپ اسٹورز کے نمائندوں اور سولر ویلیو چین کے دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ اس دوران تکنیکی صلاحیتوں میں اضافے اور معلومات کے تبادلے کے لیے خصوصی سیشنز منعقد کیے گئے۔ انسٹالرز، جو اس صنعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، کو جدید ٹیکنالوجی اور بہترین عالمی طریقوں (Best Practices) سے متعلق تربیت دی گئی۔
تقریب کے دوران مقامی شراکت داروں کی خدمات کو بھی سراہا گیا، جو صنعت میں طویل مدتی تعاون کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے *لونگی پاکستان کے سربراہ مسٹر جن یونگ (Mr. Jin Yong)* نے کہا:
> “پاکستان ہماری عالمی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔ ٹیکنالوجی اور شراکت داری میں مسلسل سرمایہ کاری پاکستان کے توانائی کی منتقلی (Energy Transition) کے عمل میں کلیدی ثابت ہوگی۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم قیمتوں کے عارضی دباؤ سے نکل کر معیار اور اعتماد پر مبنی ایک مستحکم اور پائیدار مارکیٹ کی طرف بڑھیں۔”
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی کوششیں پاکستان میں شمسی توانائی کے ایک منظم نظام (Ecosystem) کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوں گی، جہاں قیمت اور کارکردگی میں توازن برقرار رکھتے ہوئے سپلائی چین کی مسلسل ترقی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
ایسے وقت میں جب پاکستان توانائی کی قلت اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نبرد آزما ہے، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے اداروں اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کے مابین یہ مکالمہ توانائی کی خودمختاری اور تحفظ کی جانب ایک ناگزیر قدم ہے