جہانزیب علی اعوان قانون کا محافظ ، ادب کا پارکھ

ڈاکٹر جہانزیب علی اعوان
ہمارے معاشرے میں پنجاب پولیس کا نام سنتے ہی ذہن میں تھانہ کلچر، ناکہ بندی، امن و امان کی سنگین صورتحال اور دن رات کی ایسی اعصاب شکن ڈیوٹی کا خاکہ ابھرتا ہے جہاں انسان کو اپنے لیے چند لمحے سکون کے میسر نہیں ہوتے۔ چوبیس گھنٹے الرٹ رہنا، جرائم پیشہ عناصر کا پیچھا کرنا اور شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے فیلڈ میں متحرک رہنا ایک ایسی کٹھن زندگی ہے جو انسان کی تمام تر توانائی نچوڑ لیتی ہے۔ لیکن اسی محکمے کے اندر جب کوئی فرض شناس جوان قانون کی بالادستی کے ساتھ ساتھ علم و تحقیق کے میدان میں بھی جھنڈے گاڑ دے، تو وہ نہ صرف اپنے محکمے کا سر فخر سے بلند کرتا ہے بلکہ ایک نئی تاریخ رقم کر دیتا ہے۔
پنجاب پولیس کے ہونہارجوان ڈاکٹر جہانزیب علی اعوان نے بھی کچھ ایسا ہی کر دکھایا ہے۔ انہوں نے دورانِ ڈیوٹی، تمام تر انتظامی مصروفیات اور کٹھن فرائض کے باوجود پنجاب یونیورسٹی کے “انسٹی ٹیوٹ آف پنجابی اینڈ کلچرل سٹڈیز” سے پنجابی ادب میں پی ایچ ڈی (PhD) کی ڈگری حاصل کر کے ایک ایسی تاریخ رقم کر دی ہے جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ ان کا یہ سفر ان تمام لوگوں کے لیے ایک بڑا جواب ہے جو وقت کی کمی یا حالات کی سختی کا رونا رو کر اپنے خوابوں کو ادھورا چھوڑ دیتے ہیں۔
تعلیمی اداروں کا اصل حسن ان کے در و دیوار یا بلند و بالا عمارتیں نہیں ہوتیں، بلکہ وہ تحقیقی کام ہوتا ہے جو ان کے اندر جنم لیتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنے ادیبوں، دانشوروں اور تخلیق کاروں کے کام کو محفوظ کرتی ہیں۔ گزشتہ دنوں پنجاب یونیورسٹی کے “انسٹی ٹیوٹ آف پنجابی اینڈ کلچرل سٹڈیز” میں ایک ایسی ہی پروقار اور علمی تقریب کا انعقاد ہوا، جو آنے والے وقتوں میں پنجابی ادب کی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔ یہ موقع تھا شعبہ پنجابی کے ہونہار سکالر جہانزیب علی اعوان کے پی ایچ ڈی مقالے کے مجلسی دفاع (Open Defense) کا۔
جہانزیب علی اعوان نے اپنی سالہا سال کی محنت کا محور جس موضوع کو بنایا، وہ وقت کی اہم ترین ضرورت تھا۔
ان کی تحقیق کا عنوان تھا:
“تذکرہ جنوبی پنجاب دے پنجابی لکھاریاں دا”۔
یہ عنوان بذاتِ خود ایک گہرے فکری سفر کا پتا دیتا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر یہ گلہ کیا جاتا ہے کہ جنوبی پنجاب کے تخلیق کاروں، شاعروں اور نثر نگاروں کو وہ قومی پذیرائی نہیں مل سکی جس کے وہ حقدار تھے۔ خواجہ غلام فریدؒ کی دھرتی، سسی کے تھل اور صوفیانہ روایت سے مالامال یہ خطہ علمی و ادبی لحاظ سے زرخیز ترین خطہ رہا ہے۔ جہانزیب علی اعوان نے پروفیسر ڈاکٹر عاصمہ قادری کی قابلِ رشک نگرانی میں اس خطے کے پنجابی لکھاریوں کی تاریخ، ان کے کام اور ان کی خدمات کو ایک جگہ اکٹھا کر کے نہ صرف دھرتی کا قرض اتارا ہے، بلکہ پنجابی ادب کے طالب علموں کے لیے ایک مستند دستاویز بھی فراہم کر دی ہے۔
کسی بھی پی ایچ ڈی مقالے کا اوپن ڈیفنس ایک کڑا امتحان ہوتا ہے جہاں ملک کے مایہ ناز پارکھ اور اساتذہ تحقیق کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔ اس علمی معرکے میں بیرونی ممتحن کے طور پر پروفیسر ڈاکٹر ارشد اقبال ارشد اور پروفیسر ڈاکٹر عاصم ندیم جیسے جید اساتذہ موجود تھے، جنہوں نے سکالر کی علمی گرفت اور تلاطم خیز سوالات کے جواب دینے کی صلاحیت کو دل کھول کر سراہا۔
پنجاب یونیورسٹی کا اورینٹل کالج اور اس کا شعبہ پنجابی ہمیشہ سے ایسے علمی پودوں کی آبیاری کرتا آیا ہے۔ تقریب کے دوران ہال میں موجود علمی شخصیات کا جھرمٹ اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ اس کام کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر نوید شہزاد، اورینٹل کالج کی پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر نبیلہ رحمٰن، ڈاکٹر محمد عرفان الحق، پروفیسر ڈاکٹر سعادت علی ثاقب، پروفیسر ڈاکٹر اقبال حسین اور ڈاکٹر کلیان سنگھ کلیان جیسے اساتذہ کی موجودگی نے اس تقریب کو چار چاند لگا دیے۔ طلبہ اور ریسرچ سکالرز کی ایک بہت بڑی تعداد کا ہال میں موجود ہونا اور گہری دلچسپی لینا اس بات کا ثبوت تھا کہ نئی نسل اپنی زبان اور ثقافت سے کٹی نہیں ہے، بلکہ وہ اپنے اسلاف کے کام کو سمجھنے کے لیے بے تاب ہے۔
ڈاکٹر عاصمہ قادری کی نگرانی میں مکمل ہونے والی یہ تحقیق محض ایک طالب علم کی ڈگری کا ضمیمہ نہیں ہے۔ جب ہم “تذکرہ جنوبی پنجاب دے پنجابی لکھاریاں دا” کے پنّے پلٹیں گے، تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ اس خطے کے ادیبوں نے امن، محبت، تصوف اور مزاحمتی ادب کے کون کون سے دیپ جلائے تھے۔ یہ کام پاکستان کے دو اہم خطوں (شمالی و وسطی پنجاب اور جنوبی پنجاب) کے درمیان زبان اور ثقافت کے سفیر کا کام کرے گا۔
جہانزیب علی اعوان اس شاندار اور کامیاب دفاع پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر نیت سچی ہو اور استاد کا ہاتھ شفقت سے سر پر ہو، تو تحقیق کے کٹھن راستے بھی آسان ہو جاتے ہیں۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتِ پنجاب کے زیر نگرانی پنجاب یونیورسٹی اور آئی جی پنجاب کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اس مایہ ناز جوان کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کے اس گراں قدر مقالے کو سرکاری سرپرستی میں کتابی شکل میں شائع کروایا جائے، تاکہ یہ عام قاری، ادیب اور پنجابی زبان سے محبت کرنے والے ہر شخص تک پہنچ سکے۔ اس طرح کے علمی کام ہی دراصل ہماری ثقافتی بقا کے ضامن ہیں اوردنیا دیکھ سکے کہ پنجاب کا یہ جوان دھرتی کے امن کا محافظ بھی ہے اور اس کی زبان کا پاسبان بھی۔
یہ کامیابی صرف جہانزیب علی اعوان کی ذاتی ڈگری نہیں ہے، یہ پنجاب پولیس کے ماتھے کا جھومر ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری پولیس فورس میں صرف جرائم کا خاتمہ کرنے والے ہی نہیں، بلکہ اعلیٰ درجے کے محقق، ادیب اور اپنی مادری زبان سے عشق کرنے والے دانشور بھی موجود ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر نوید شہزاد اور اورینٹل کالج کی پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر نبیلہ رحمٰن سمیت شعبہ پنجابی کے تمام اساتذہ نے اس کام کو پنجابی ادب کے لیے ایک گراں قدر سرمایہ قرار دیا ہے۔
جہانزیب علی اعوان نے واقعی “تاریخ ختم کر دی ہے” (ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے) کہ ڈیوٹی کی بندشیں اور وردی کی ذمہ داریاں علم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔
اخر میں می صرف اتنا ہی کہوں گا کہ
ڈاکٹر جہانزیب علی اعوان آپ کو پوری قوم اور محکمے کا سلام