37

محکمہ داخلہ پنجاب کی چہلم حضرت امام حسینؓ پر سکیورٹی انتظامات کیلئے اہم ہدایات جاری،تمام اضلاع کو جامع سکیورٹی پلان پر عملدرآمد کی ہدایت

محکمہ داخلہ پنجاب نے چہلم حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے موقع پر صوبہ بھر میں فول پروف سکیورٹی اور امن و امان کے قیام کیلئے جامع ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق رؤیت ہلال کی روشنی میں 20 صفر المظفر بمطابق 4 یا 5 اگست 2026 کو چہلم حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ہوگا۔ محکمہ داخلہ نے تمام اضلاع کو ہدایت کی ہے کہ امام بارگاہوں، جلوسوں اور مجالس کیلئے فول پروف سکیورٹی انتظامات یقینی بنائے جائیں جبکہ صرف منظور شدہ اور لائسنس یافتہ جلوسوں کو روایت اور مقررہ اوقات کے مطابق نکالنے کی اجازت ہوگی۔ محکمہ داخلہ نے ہدایت کی ہے کہ تمام حساس مقامات، اہم تنصیبات، مارکیٹس اور رش والی جگہوں پر خصوصی توجہ دی جائے جبکہ بڑے جلوسوں کے تمام راستوں اور ملحقہ علاقوں کا مکمل سکیورٹی معائنہ کیا جائے۔ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ مختلف مکاتب فکر کے جلوس الگ روٹس اور الگ اوقات میں ہوں۔ جلوسوں اور مجالس کے گردونواح ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کیلئے جامع ٹریفک پلان مرتب کیا جائے جبکہ پارکنگ کے انتظامات امام بارگاہوں اور مجالس سے کم از کم 500 گز فاصلے پر کیے جائیں۔ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے چوری شدہ گاڑیوں کا تمام ڈیٹا موٹروے اور ٹریفک پولیس کو مہیا کیا جائے۔ جلوسوں کے راستوں اور مجالس کے اطراف سے تعمیراتی ملبہ فوری طور پر ہٹایا جائے۔ جاری کردہ ہدایات کے مطابق نیاز، لنگر اور سبیلوں کی سپیشل برانچ، پنجاب فوڈ اتھارٹی اور متعلقہ اداروں سے مکمل جانچ کروائی جائے جبکہ خواتین عزاداران کی سکیورٹی کیلئے خواتین پولیس اہلکار تعینات کی جائیں۔ تمام امام بارگاہوں اور مجالس کے داخلی راستوں پر واک تھرو گیٹس، میٹل ڈیٹیکٹرز، جسمانی تلاشی اور سی سی ٹی وی نگرانی کو یقینی بنایا جائے جبکہ حساس جلوسوں اور مجالس کیلئے مختلف سطحوں پر مبنی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔ جلوسوں کے راستوں اور امام بارگاہوں کی سکیورٹی کیلئے تربیت یافتہ سنائپرز بھی تعینات کیے جائیں گے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے ہدایت کی ہے کہ تمام مجالس اور جلوسوں کی مکمل ویڈیو اور آڈیو کوریج کی جائے اور حساس مقامات پر فلیگ مارچ جبکہ تمام کشیدہ مقامات کے دورے کیے جائیں۔ مجالس اور جلوسوں میں معاونت کیلئے رضاکاروں کو ضروری تربیت دی جائے اور ان کی تعیناتی سے قبل سپیشل برانچ سے مکمل کلیرنس حاصل کی جائے۔ متعلقہ ایس ایچ اوز منتظمین سے جلوس و مجالس کے تسلی بخش سکیورٹی انتظامات کا تحریری سرٹیفکیٹ حاصل کریں۔ محکمہ داخلہ نے ہدایت کی ہے کہ پنجاب کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر افراد، گاڑیوں اور سامان کی مکمل چیکنگ یقینی بنائی جائے جبکہ بین الصوبائی بارڈرز اور کچے کے علاقوں میں ڈرون سرویلنس مزید مؤثر بنائی جائے۔ ہوٹل آئی اور ٹریول آئی سسٹمز کے ذریعے گیسٹ ہاؤسز، ہوٹلوں، بس اسٹیشنز اور کرائے کے گھروں کی کڑی نگرانی کی جائے جبکہ جلوسوں اور مجالس کے گردونواح میں موجود ہوٹلوں اور سرائے پر بھی خصوصی نظر رکھی جائے۔ جلوسوں کے راستوں میں بازار اور دکانیں مکمل چیکنگ کے بعد بند رہیں گی۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے ہدایت کی ہے کہ چینی باشندوں، فارن مشنز اور قونصل خانوں کے سکیورٹی پلان پر من و عن عملدرآمد کیا جائے جبکہ اقلیتوں کی عبادت گاہوں سمیت تمام عبادت گاہوں کی سکیورٹی مزید مؤثر بنانے کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں۔ اسی طرح فورتھ شیڈول میں شامل افراد اور کالعدم تنظیموں سے وابستہ عناصر کی کڑی نگرانی جاری رکھی جائے جبکہ انتہا پسندی، فرقہ واریت اور امن عامہ کے خلاف مواد کی روک تھام کیلئے سائبر مانیٹرنگ مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سوشل میڈیا، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر فرقہ وارانہ مواد پھیلانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی جبکہ قابل اعتراض مواد کی رپورٹنگ کیلئے واٹس ایپ نمبرز 03073087777 اور 03073097777 فعال رہیں گے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مجالس کے دوران مقررین کسی بھی فرقے یا مسلک کے خلاف قابل اعتراض گفتگو نہ کریں جبکہ لاؤڈ سپیکر ایکٹ پر زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت سختی سے عملدرآمد کروایا جائے۔ ضلعی انتظامیہ اشتعال انگیز مقررین کے خلاف ضلع بندی اور زباں بندی سمیت قانونی کارروائی عمل میں لائے۔ صوبہ بھر میں آتشیں اسلحے کی نمائش پر مکمل پابندی ہے۔ محکمہ داخلہ نے تمام اضلاع کو ہدایت کی ہے کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے جامع پلان مرتب کرکے محکمہ داخلہ کو ارسال کیا جائے جبکہ آئی جی پنجاب روزانہ کی بنیاد پر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز، سرچ آپریشنز اور سرپرائز چیکنگ کی تفصیلات محکمہ داخلہ کو بھجوائیں۔ فائر بریگیڈ، بم ڈسپوزل سکواڈ، ریسکیو 1122، بجلی اور ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جائے جبکہ تمام ہسپتال، فیلڈ ہسپتال اور کلینکس آن ویل بھی ہائی الرٹ رہیں۔ مزید برآں تمام ڈویژنل اور ضلعی کنٹرول رومز چوبیس گھنٹے فعال رہیں گے اور انہیں محکمہ داخلہ کے مرکزی کنٹرول روم سے منسلک کیا جائے گا تاکہ اہم واقعات کی بروقت رپورٹنگ اور فوری کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔ اس کے علاوہ واپڈا اور ڈسکوز کو بجلی کی بلا تعطل فراہمی، جلوسوں کے راستوں سے لٹکتی تاروں کی کلیئرنس اور ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت بہترین صفائی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔ ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق منتظمین کو پبلک سیفٹی ایپلیکیشن کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے منسلک ہونے اور امام بارگاہوں کے باہر نصب کیو آر کوڈڈ پینک بٹنز سے موصول ہونے والے الرٹس پر فوری رسپانس یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسی طرح ڈویژنل و ضلعی امن کمیٹیوں، بین المذاہب ہم آہنگی کمیٹیوں اور پبلک لائیزون کمیٹیوں کے اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ نے ہدایت کی ہے کہ اسسٹنٹ کمشنرز اور ڈی ایس پیز تحصیل مساجد کمیٹیوں کے اجلاس بلائیں اور قیام امن اور عوامی آگاہی کیلئے امام مساجد صاحبان اپنا مثبت کردار ادا کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں