
تحریر : میاں عصمت رمضان
سیاست کے افق پر بہت سے نام نمودار ہوتے ہیں اور وقت کی گرد میں گم ہو جاتے ہیں، لیکن کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو تاریخ کی کتابوں میں اپنا نام مستقل سنہری حرفوں سے درج کرواتی ہیں۔ میاں محمد نواز شریف کی سیاسی بصیرت اور میاں شہباز شریف کی انتھکی حکمرانی کے سائے میں پرورش پانے والی مریم نواز شریف نے جب پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا، تو یہ محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ پنجاب کی تاریخ میں ایک نئے، جدید اور عوامی خدمت سے بھرپور دور کا آغاز تھا۔ آج وہ واقعی اپنے کام، لگن اور عوامی رابطے کی بدولت عوام کے دلوں میں “بیٹی پنجاب دی” کا مان پا چکی ہیں۔
روایتی سیاستدانوں کے برعکس، مریم نواز شریف نے اقتدار سنبھالتے ہی نعروں اور بیانیوں کے بجائے براہ راست “عوامی ریلیف” پر توجہ مرکوز کی۔ ان کا وژن بڑا واضح ہے: پنجاب کے عوام کو ان کی دہلیز پر سہولیات فراہم کرنا اور صوبے کو تعمیر و ترقی کے ایک ایسے راستے پر ڈالنا جہاں عام آدمی کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔
پنجاب کے عوام کو ان کی دہلیز پر سہولیات فراہم کرنا اور صوبے کو تعمیر و ترقی کے ایک ایسے راستے پر ڈالنا جہاں عام آدمی کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔
مریم نواز شریف نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب اقتدار سنبھالتے ہی روایتی طرزِ حکومت کو بدل کر *”پنجاب سپیڈ”* کو ایک نیا رخ دیا ہے۔ ان کی سیاست کا محور اب نعروں کے بجائے براہِ راست کارکردگی اور عوامی ریلیف بن چکا ہے۔
اگر ان کے دورِ حکومت کے اب تک کے انقلابی اقدامات کا جائزہ لیا جائے، تو صحت کا شعبہ ان کی ترجیحات میں سب سے اوپر نظر آتا ہے۔ ماضی میں غریب مریضوں کے لیے کینسر اور امراضِ قلب جیسی مہلک بیماریوں کی ادویات کا حصول ایک خواب بن چکا تھا، لیکن مریم نواز نے کینسر کے مریضوں کے لیے مفت ادویات کی فراہمی کو نہ صرف بحال کیا بلکہ ان ادویات کو مریضوں کے گھروں تک پہنچانے کا مربوط نظام وضع کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، بچوں کی کارڈیک سرجری (دل کے آپریشنز) کے التوا کو ختم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے گئے۔
سماجی اور معاشی طور پر کمزور طبقات کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا “بیٹی پنجاب دی” کا ایک اور بڑا کارنامہ ہے۔ غریب اور متوسط طبقے کی بچیوں کی شادیوں کے لیے شروع کیا جانے والا “دھی رانی پراجیکٹ” اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ صوبے کی بیٹیوں کو اپنی بیٹیاں سمجھتی ہیں۔ اس پراجیکٹ کے تحت انتہائی معزز اور باوقار طریقے سے بچیوں کے گھر بسائے جا رہے ہیں۔ مزید برآں، خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے حال ہی میں شروع کیا گیا
صوبے بھر میں ان کے چند اہم ترین اور انقلابی ترقیاتی و عوامی منصوبے درج ذیل ہیں:
۔ صحت کے شعبے میں انقلابی اصلاحات
*فیلڈ ہاسپٹلز اور کلینک آن ویلز:* دور دراز اور دیہی علاقوں کے لیے “فیلڈ ہاسپٹل” اور “کلینک آن ویلز” (موبائل ہسپتال) شروع کیے گئے، تاکہ غریب عوام کو ان کی دہلیز پر علاج اور مفت ادویات مل سکیں۔
*کینسر کے مریضوں کے لیے مفت ادویات:* کینسر جیسے مہلک مرض میں مبتلا مریضوں کے لیے مہنگی ادویات کی مفت فراہمی کا نظام بحال کیا گیا اور ادویات براہِ راست مریضوں کے گھروں تک پہنچانے کا آغاز ہوا۔
*بچوں کی کارڈیالوجی پر ہنگامی کام:* بچوں کے دل کے آپریشنز (Cardiac Surgeries) کے لیے پینڈنگ لسٹوں کو ختم کرنے کے لیے ہنگامی فنڈز جاری کیے گئے اور آپریشنز کی رفتار تیز کی گئی۔
*پہلا سرکاری کینسر اسپتال-لاہور میں پاکستان کے پہلے جدید اور اسٹیٹ آف دی آرٹ سرکاری کینسر ہسپتال (نواز شریف کینسر ہسپتال) پر تیزی سے کام جاری ہے۔
2۔ زراعت اور کسانوں کے لیے “نواز شریف کسان کارڈ”
پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا کسان دوست پراجیکٹ شروع کیا گیا، جس کے تحت کسانوں کو آسان اقساط اور بلا سود قرضوں پر بیج، کھاد اور جدید زرعی آلات فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس سے زراعت کے شعبے میں مڈل مین کا کردار ختم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
3۔ تعلیم اور نوجوانوں کے لیے اقدامات
*وزیر اعلیٰ انٹرن شپ پروگرام- گریجویٹ نوجوانوں کو نجی اور سرکاری اداروں میں پیڈ انٹرن شپ (باوقار ماہانہ وظیفے کے ساتھ) فراہم کی جا رہی ہے تاکہ انہیں عملی تجربہ مل سکے۔
*چیف منسٹر ہونہار اسکالرشپ- ہونہار اور مستحق طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کے تمام اخراجات حکومتِ پنجاب خود برداشت کر رہی ہے۔
*ای بائیکس (E-Bikes) کی فراہمی- طالبات اور نوجوانوں کے لیے آسان اور بلا سود اقساط پر ہزاروں الیکٹرک اور پٹرول بائیکس فراہم کی گئیں تاکہ ان کا ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل ہو۔
4۔ انفراسٹرکچر اور شہری ترقی
*سڑکوں کی بحالی اور تعمیر (700+ سڑکیں)-پنجاب بھر میں دیہی اور شہری سڑکوں کے جال کو بہتر بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر کام شروع کیا گیا، جس سے اشیاء کی مارکیٹ تک رسائی آسان ہوئی۔
*صوبے کی پہلی ماحول دوست الیکٹرک بسیں- لاہور سمیت بڑے شہروں میں اسموگ اور آلودگی پر قابو پانے کے لیے گرین اور الیکٹرک بسیں متعارف کروائی جا رہی ہیں۔
*صاف ستھرا پنجاب” مہم- صوبے بھر میں صفائی کے نظام کو جدید بنانے اور کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے کے لیے بلدیاتی سطح پر سخت مانیٹرنگ کا نظام وضع کیا گیا۔
5۔ خواتین کی معاشی خودمختاری
*دھی رانی پروگرام- غریب اور مستحق بچیوں کی اجتماعی اور باوقار شادیوں کے لیے یہ پراجیکٹ شروع کیا گیا، جس میں حکومت کی طرف سے جہیز کا سامان اور مالی امداد دی جاتی ہے۔
* (اسکل انہانسمنٹ پراجیکٹ)- خواتین کو گھر بیٹھے ڈیجیٹل اور ووکیشنل اسکلز (مہارتیں) سکھانے کے لیے کروڑوں روپے کا پراجیکٹ شروع کیا گیا، تاکہ وہ معاشی طور پر خود کفیل ہو سکیں۔
مریم نواز شریف کے ترقیاتی کاموں کی سب سے بڑی خصوصیت ڈائریکٹ ڈیلیوری اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ ہے۔ وہ خود فیلڈ میں نکل کر منصوبوں کا معائنہ کرتی ہیں، جس کی وجہ سے بیوروکریسی اور انتظامیہ متحرک نظر آتی ہے۔
کسان کارڈ
پنجاب کی پہچان یہاں کا کسان ہے، اور مریم نواز نے کسان کارڈ کے ذریعے زراعت کے شعبے میں جدید اصلاحات متعارف کروائیں۔ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے ای بائیکس کی فراہمی، میرٹ پر مبنی اسکالرشپس اور کاروبار کے لیے آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی جیسے اقدامات نے نوجوان نسل میں ایک نئی امید پیدا کی ہے۔ آج کا نوجوان محسوس کرتا ہے کہ لاہور کے ایوانوں میں کوئی ان کے مستقبل کی فکر کرنے والا موجود ہے۔
شہری انتظام اور ماحول کی بات کی جائے تو “صاف ستھرا پنجاب” مہم نے صوبے کی شکل بدل دی ہے۔ تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز آپریشن، چاہے اس کی زد میں حکومتی ارکان ہی کیوں نہ آئے ہوں، نے یہ ثابت کیا کہ قانون کی بالادستی مریم نواز شریف کے لیے سب سے مقدم ہے۔ لاہور میں ماحول دوست الیکٹرک بسوں کا آغاز اور پنجاب بھر میں 700 سے زائد نئی سڑکوں کے جال کی تعمیر نے صوبے کو جدید ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔ حال ہی میں عالمی ادارہ صحت (WHO) کی جانب سے پنجاب کے 19 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں کا پولیو فری آنا بھی ان کی حکومت کی بہترین مانیٹرنگ اور ہیلتھ اسٹریٹجی کی بڑی کامیابی ہے۔
مریم نواز شریف نے ثابت کیا ہے کہ قیادت کا تعلق صنف سے نہیں بلکہ نیت، جذبے اور کارکردگی سے ہوتا ہے۔ وہ تپتی دھوپ میں سڑکوں پر بھی نظر آتی ہیں، اسپتالوں کے اچانک دورے کر کے غریبوں کی داد رسی بھی کرتی ہیں اور حکومتی اجلاسوں میں سخت فیصلے بھی لیتی ہیں۔ ان کی یہی شب و روز کی محنت انہیں روایتی حکمرانوں سے الگ کرتی ہے۔ پنجاب کے عوام کا ان پر بڑھتا ہوا اعتماد اس بات کی گواہی ہے کہ “بیٹی پنجاب دی” نے پنجاب کے حقوق اور ترقی کا جو علم تھاما ہے، وہ صوبے کو ایک مثالی، خوشحال اور پائیدار ترقی کا گہوارہ بنا کر ہی دم لے گا۔