مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کی تقریبات میں شرکت کے لیے 337 بھارتی سکھ یاتریوں پر مشتمل دوسرا جتھا واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچ گیا، جہاں صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور پنجاب و پردھان پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ قمرالزمان، ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز ناصر مشتاق اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ یاتریوں کی آمد پر خصوصی لنگر کا اہتمام کیا گیا جبکہ ان کے قافلے کے ساتھ فول پروف سکیورٹی، ریسکیو 1122، ایمبولینسز، طبی سہولیات، منرل واٹر اور دیگر ضروری انتظامات فراہم کیے گئے۔ دہلی سکھ گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی اور دیگر سکھ وفود نے حکومت پاکستان، متروکہ وقف املاک بورڈ اور پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کی جانب سے کیے گئے مثالی انتظامات کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ وہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے سکھ یاتریوں کو بابا گورو نانک کی مقدس دھرتی پر آمد پر دل کی گہرائیوں سے “جی آیاں نوں” کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ اور پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی یاتریوں کی خدمت اور مہمان نوازی کے لیے ہمہ وقت موجود ہیں اور ان کے قیام، طعام، رہائش، لنگر، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات کے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ سکھ نوجوان نسل بھی بڑی تعداد میں یاترا کے لیے پاکستان آئی ہے، جو اپنے مذہبی ورثے سے ان کی گہری وابستگی کا مظہر ہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کی مرکزی تقریبات 29 جون کو تاریخی گردوارہ ڈیرہ صاحب، لاہور میں منعقد ہوں گی، جن میں پاکستان اور بیرون ملک سے آنے والے سکھ یاتری بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔
4