6

لاہور گردی — قسط نمبر 2 تحقیق و تحریر چودھری احسان باری

لاہور گردی — قسط نمبر 2
تحقیق و تحریر چودھری احسان باری
“لاہور کے “پورہ” — ناموں میں چھپی صدیوں پرانی بستیاں” پارٹ 1
پچھلی قسط میں ہم نے لاہور کے ان علاقوں کا ذکر کیا تھا جن کے آخر میں “گنج” آتا ہے۔ آج بات کرتے ہیں ایک اور دلچسپ لاحقے “پورہ” کی، جو لاہور کی قدیم آبادیوں کی شناخت ہے۔
لفظ “پورہ” سنسکرت کے لفظ “پور” سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں بستی، شہر یا آباد مقام۔ برصغیر میں صدیوں سے یہ روایت رہی کہ جب کوئی نئی آبادی کسی شخصیت، خاندان، برادری یا پیشے سے وابستہ ہو کر وجود میں آتی تو اس کے نام کے ساتھ “پورہ” کا اضافہ کر دیا جاتا۔ لاہور میں آج بھی ایسی متعدد بستیاں موجود ہیں جو اپنے ناموں کے ذریعے شہر کی تہذیبی اور تاریخی وراثت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
🔶 بیگم پورہ
شالامار باغ اور جی ٹی روڈ کے قریب واقع “بیگم پورہ” لاہور کے قدیم ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں موجود تاریخی بیگم پورہ مسجد، دائی انگہ کا مقبرہ اور سرو والا مقبرہ آج بھی مغلیہ دور کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
🔶 باغبان پورہ
شالامار باغ کے گرد آباد یہ علاقہ ان مالیوں اور باغبانوں کی نسبت سے مشہور ہوا جو شاہی باغات کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ اسی نسبت سے اس کا نام باغبان پورہ پڑا، جو آج بھی اپنی تاریخی شناخت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
🔶 سنگھ پورہ
جی ٹی روڈ پر واقع سنگھ پورہ ،بیگم پورہ اور کہ گوجر پورہ کا ہمسایہ علاقہ ہے۔ تقسیم سے قبل یہ سکھ آبادی والا علاقہ تھا اور تقسیمِ ہند کے بعد بھی اس کا تاریخی نام برقرار رہا۔
🔶 گوجر پورہ
لاہور کے مشرقی حصے میں عزیز بھٹی ٹاؤن میں واقع ہے جو جی ٹی روڈ اور لاہور رنگ روڈ کے قریبی علاقہ ہے یہ ایل ڈی اے کی ایک ہاؤسنگ سکیم ہے جو 1980 کی دہائی میں کم اور درمیانی آمدنی والے افراد کے لیے قائم ہوئی۔
یہ علاقہ گوجر برادری کی اکثریت آبادی ہونے کی وجہ سے گوجر پورہ کہلایا۔ آج یہ لاہور کے معروف رہائشی علاقوں میں شمار ہوتی ہے۔
🔶 اسلام پورہ
لوئر مال، پنجاب سول سیکرٹریٹ، ایم اے او کالج اور سنت نگر کے قریب واقع اسلام پورہ لاہور کی قدیم آبادیوں میں سے ایک ہے۔ اس علاقے کی گلیاں آج بھی پرانے لاہور کی جھلک پیش کرتی ہیں۔ اگرچہ اس نام کی وجہ تسمیہ کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں، لیکن اسلام پورہ کئی دہائیوں سے لاہور کے ثقافتی اور سماجی منظرنامے کا اہم حصہ ہے۔
🔶 دھرم پورہ (موجودہ مصطفیٰ آباد)
یہ لاہور کی قدیم بستیوں میں شامل ہے۔ بعد ازاں اس کا سرکاری نام مصطفیٰ آباد رکھا گیا، لیکن آج بھی اہلِ لاہور کی اکثریت اسے دھرم پورہ ہی کہتی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بعض اوقات عوامی یادداشت سرکاری تبدیلیوں سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔لاہور شہر کے وسطی/مشرقی حصے میں، علامہ اقبال روڈ اور دھرم پورہ انڈر پاس کے قریب۔ واقع ہے مغل بادشاہ اکبر نے 1583ء میں ہندو آبادی کے لیے اس کی بنیاد رکھی تھی
🔶 بھگت پورہ
شالامار ٹاؤن کے قدیم علاقوں میں شامل بھگت پورہ بھی لاہور کی ان بستیوں میں سے ہے جن کے نام صدیوں پرانی سماجی اور ثقافتی تاریخ کی یاد دلاتے ہیں۔
اگر لاہور کے نقشے پر نظر ڈالی جائے تو بیگم پورہ، باغبان پورہ، سنگھ پورہ اور گوجر پورہ تقریباً ایک ہی تاریخی پٹی میں جی ٹی روڈ کے ساتھ واقع ہیں، جبکہ اسلام پورہ اور دھرم پورہ شہر کے قدیم شہری حصے کی توسیع کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان ناموں سے اندازہ ہوتا ہے کہ لاہور مختلف ادوار میں کس طرح مختلف سمتوں میں آباد ہوتا گیا
یہ فہرست صرف انہی چند معروف علاقوں تک محدود نہیں۔ لاہور میں اس کے علاوہ بھی کئی بستیاں، آبادیاں “پورہ” کے لاحقے کے ساتھ اپنی الگ شناخت رکھتی ہیں، جن میں جانی پورہ، حمید پورہ، مکھن پورہ، رحمان پورہ، رشید پورہ، سلطان پورہ، کشمیری پورہ، قصور پورہ، وسن پورہ، کچھو پورہ، مرزی پورہ، محمد پورہ، نبی پورہ، موچی پورہ، کمہار پورہ، مہر پورہ اور دیگر علاقے شامل ہیں۔ ان میں سے بعض بستیاں صدیوں پرانی ہیں جبکہ بعض نسبتاً نئی آبادیاں ہیں، لیکن ان سب کے نام لاہور کی تہذیبی، سماجی اور تاریخی ارتقا کی ایک الگ داستان سناتے ہیں۔ ان شاء اللہ “لاہور گردی” کی آئندہ اقساط میں ان کم معروف علاقوں کی تاریخ، وجۂ تسمیہ اور دلچسپ حقائق پر بھی تفصیل سے گفتگو ہوگی۔
لاہور کی اصل خوبصورتی صرف اس کے قلعے، باغات اور دروازوں میں نہیں بلکہ اس کے محلوں کے ناموں میں بھی پوشیدہ ہے۔ ہر نام اپنے اندر ایک کہانی، ایک شخصیت، ایک برادری یا ایک دور کی یاد سموئے ہوئے ہے۔
“لاہور صرف ایک شہر نہیں، ایک زندہ تاریخ ہے۔ اس کی گلیاں، محلے اور نام آج بھی ماضی کی کہانیاں سناتے ہیں۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں