تعلیم کے شعبے میں ایک انقلاب برپا ہو نے جا رہا ہے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت تمام صوبوں کے ساتھ مشاورت کے بعد یکساں قومی نصاب (ایس این سی) مرتب کر نے جا رہی ہے جس میں زیادہ توجہ ایک ایسی قوم کی تشکیل پر دی جائے گی جو اپنی اسلامی بنیادوں پر فخر کرے۔
مختلف ثقافتوں اور مذاہب کی جانب احترام کا رویہ رکھے اور اچھا مثالی کردار ثابت ظاہر کرنے کے ساتھ ہی 21ویں صدی کے چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بھی ہو۔ پہلے مرحلے میں ایس این سی کا اطلاق آئندہ تعلیمی سال 2021-22ء سے ہوگا اور اس میں پہلی تا پانچویں جماعت تک کے تمام تعلیمی دھاروں کو اس میں شامل کیا جائے گا۔
این این سی کو تین مراحل میں مرتب کیا جا رہا ہے جن میں پہلے مرحلے میں ایس این سی کی تشکیل اور پہلی تا چوتھی جماعت کیلئے نصابی کتب کی تیاری، دوسرے مرحلے میں ایس این سی کی تشکیل اور چھٹی تا آٹھویں جماعت کی نصابی کتب کی تیاری اور تیسرے مرحلے میں ایس این سی کی تشکیل اور نویں تا بارہویں جماعت کی نصابی کتب کی تیاری شامل ہے۔ یہ عمل بالترتیب مارچ 2021ء، مارچ 2022ء اور مارچ 2023ء تک مکمل ہو جائے گا۔
کہا جاتا ہے کہ ایس این سی کی تیاری سے قبل، مختلف تقابلی تحقیقیں کی گئیں تاکہ ایس این سی کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کیا جائے۔ ان میں پاکستانی نصاب کا سنگاپور اور کیمبرج نصاب سے تقابل کیا گیا ا ور پاکستان میں سیکھنے والوں کے معیار کو سنگاپور، ملائیشیا، انڈونیشیا اور برطانیہ کے معیارات سے پرکھا گیا۔