امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورکس کے مطابق پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا حالیہ انتہائی اہمیت کا حامل دورہ تہران، امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے تعطل کا شکار اور انتہائی اتار چڑھاؤ والے سفارتی مذاکرات کو حتمی اور کامیاب انجام تک پہنچانے میں حتمی طور پر فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا ہے۔ اس غیر متوقع پیش رفت نے عالمی سیاسی تجزیہ کاروں اور بین الاقوامی میڈیا ہاؤسز کی بھرپور توجہ حاصل کر لی ہے، جو اس تبدیلی کو خطے کے جیو پولیٹیکل ڈھانچے میں ایک تاریخی اور بڑے بدلاؤ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ممتاز امریکی نشریاتی نیٹ ورک نے اس بات کی تفصیلی کوریج کی ہے کہ کس طرح اس اہم مداخلت نے کئی مہینوں سے جاری اس سخت سفارتی ڈیڈ لاک کو سلجھانے میں کامیابی حاصل کی جسے بہت سے تجربہ کار سفارت کار مکمل طور پر ناقابلِ شکست سمجھ رہے تھے۔ پاکستان کی منفرد سٹرٹیجک پوزیشننگ اور ادارہ جاتی ساکھ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، فیلڈ مارشل نے ان گہری دشمنیوں کو سنبھالنے میں کامیابی حاصل کی جنہوں نے تاریخی طور پر واشنگٹن اور تہران کے تعلقات کو متعین کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہونے والی پیش رفت نے نہ صرف دشمنی کے بڑے خطرے کو ٹالا ہے بلکہ ایک جامع اور پائیدار امن معاہدے کے لیے ایک ٹھوس فریم ورک بھی وضع کیا ہے جو اگلی دہائی کے لیے بین الاقوامی سیکورٹی کی حرکیات کو نئے سرے سے تشکیل دے سکتا ہے۔ اس کامیابی کی عظمت کو سمجھنے کے لیے یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ مذاکرات اس سے قبل کم از کم تین الگ الگ مواقع پر ناکام ہو چکے تھے، جس سے ہر بار یہ خطہ کھلی جنگ کے دہانے کے اور قریب پہنچ گیا تھا۔ یورپی یونین کے ثالثوں اور اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچیوں کی ناکامی نے مایوسی کا احساس پیدا کر دیا تھا، جس نے پاکستانی مداخلت کو مزید نمایاں اور قابلِ ذکر بنا دیا۔ امریکی ٹیلی ویژن اینکرز نے بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ فیلڈ مارشل نے صرف پیغامات کو ادھر ادھر پہنچانے کا کام نہیں کیا، بلکہ انہوں نے مصالحت کے ایسے تخلیقی فارمولے متعارف کروا کر مذاکرات کے پیرامیٹرز کو فعال طور پر نئی شکل دی جن پر اس سے پہلے نہ تو واشنگٹن اور نہ ہی تہران نے غور کیا تھا۔ سفارتی تخلیقی صلاحیتوں کا یہ معیار اور دونوں دارالحکومتوں میں ان کے لیے پائے جانے والے بے پناہ ذاتی احترام نے بالآخر ان نفسیاتی رکاوٹوں کو توڑ دیا جنہوں نے تقریباً دو سال تک کسی بھی بامعنی گفتگو کو روکے رکھا تھا۔ سی این این، فاکس نیوز اور ایم ایس این بی سی جیسے نیٹ ورکس پر تفصیلی کوریج میں سی آئی اے کے سابق حکام اور محکمہ خارجہ کے تجربہ کاروں کے تجزیے شامل تھے، جن میں سے تمام نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اگر پاکستان بروقت مداخلت نہ کرتا تو یہ خطہ ممکنہ طور پر اب تک ایک ایسی تباہ کن فوجی تصادم کا گواہ بن چکا ہوتا جس میں متعدد ممالک اور غیر ریاستی عناصر شامل ہوتے۔
امریکی ٹیلی ویژن کے تجزیہ کاروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجودہ صورتحال غیر معمولی طور پر الجھی ہوئی ہے، جہاں خلیجی ممالک جیسے روایتی طاقتور کھلاڑی اور لبنان جیسے اہم ممالک جاری علاقائی تنازعہ میں سرگرم شرکاء یا سٹرکچرل پراکسیز کے طور پر گہرے پھنسے ہوئے ہیں۔ چونکہ یہ پڑوسی عرب ممالک اور علاقائی کھلاڑی پہلے ہی حتمی طور پر کسی نہ کسی کا ساتھ دے چکے ہیں یا جنگ کے میدان میں براہِ راست ملوث ہونے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں، اس لیے وہ ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر کام کرنے کے لیے درکار ضروری غیر جانبداری کو مکمل طور پر کھو چکے ہیں۔ اس کے برعکس، نشریاتی رپورٹس اس بات پر روشنی ڈالتی ہیں کہ پاکستان واحد علاقائی طاقت کے طور پر ابھرا جو اس خلا کو کامیابی سے پُر کرنے اور سفارتی مسودے کو حتمی شکل دینے کے لیے کافی حد تک غیر جانبدار رہنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ پاکستان کے فوجی نظام کی غیر معمولی پیشہ ورانہ حکمتِ عملی نے اسلام آباد کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ بیرونی صف بندی کے دباؤ کے آگے جھکے بغیر تمام متصادم فریقوں کے ساتھ بیک وقت ایک کھلا رابطہ چینل برقرار رکھ سکے۔ امریکہ کے دفاعی اور سیاسی ماہرین نے کھلے دل سے تسلیم کیا ہے کہ وسیع تر جنوبی ایشیا یا مشرقِ وسطیٰ کے منظر نامے میں کسی دوسرے ملک کے پاس وہ مخصوص جیو پولیٹیکل اثر و رسوخ اور غیر جانبداری موجود نہیں تھی جو واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ بیٹھنے اور دونوں اطراف سے پابند سٹرکچرل مراعات کامیابی سے حاصل کرنے کے لیے درکار تھی۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے، خلیج تعاون کونسل کے ممالک کو ان کی مالی دولت اور سیاسی اثر و رسوخ کے باوجود، دیرینہ فرقہ وارانہ اور علاقائی تنازعات کی وجہ سے ایران کی طرف سے بنیادی طور پر مخالف کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اسی طرح لبنان، جو خود اندرونی سیاسی تقسیم اور حزب اللہ کی مضبوط موجودگی کی وجہ سے بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، کسی بھی طرح خود کو ایک ایماندار ثالث کے طور پر پیش نہیں کر سکتا جب اس کی اپنی سرزمین ایک ممکنہ میدانِ جنگ کا کام کر رہی ہو۔ یہاں تک کہ ترکی بھی، اپنی فوجی طاقت اور نیٹو کی رکنیت کے باوجود، شام سے لے کر کرد خودمختاری تک کے مسائل پر امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ اپنے پیچیدہ تعلقات کی وجہ سے مؤثر طریقے سے ثالثی کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کو ایک منفرد مراعات یافتہ پوزیشن میں چھوڑتی ہے، جس کے پاس جوہری صلاحیتیں، ایک بڑی فوج، ثقافتی و مذہبی رشتوں کے ذریعے ایران کے ساتھ گہرے تاریخی تعلقات اور امریکہ کے ساتھ ایک فعال، اگرچہ بعض اوقات تناؤ کا شکار، ورکنگ ریلیشن شپ موجود ہے۔ امریکی خبروں کی کوریج میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ عوامل کا یہ امتزاج حادثاتی نہیں ہے بلکہ یہ پاکستانی سویلین اور فوجی رہنماؤں کی دہائیوں پر محیط محتاط سفارتی توازن کا نتیجہ ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ ان کے ملک کا جغرافیائی محل وقوع اپنے اندر خطرات اور مواقع دونوں رکھتا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے ایرانی دارالحکومت میں کیا جانے والا دو ہفتوں کا انتہائی گہرا سفارتی مشن مکمل درستگی اور مہارت کے ساتھ انجام دیا گیا جس کے نتیجے میں انتہائی نتیجہ خیز، کثیر الجہتی مشاورتی سیشنز سامنے آئے۔ تہران میں اس انتہائی اہم قیام کے دوران فیلڈ مارشل نے ایرانی ریاست کے اعلیٰ ترین حکام کے ساتھ یکے بعد دیگرے ون آن ون اور وفود کی سطح پر ملاقاتیں کیں، جن میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے بااثر سپیکر محمد باقر قالیباف شامل تھے۔ ان تفصیلی ملاقاتوں میں علاقائی سیکورٹی کے پیرامیٹرز، آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری راہداریوں کے تحفظ اور امریکہ کے ساتھ اقتصادی و فوجی تعطل کو مرحلہ وار کم کرنے پر گہری توجہ مرکوز کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی قیادت نے ان بات چیت کے دوران غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کیا اور تنازعات کے حل کے لیے پاکستان کے مخلصانہ اور متوازن نقطہ نظر کی دل کھول کر تعریف کی۔ ان اعلیٰ سطحی مذاکرات کی تعمیری نوعیت نے پاکستانی وفد کو اس گہری نفسیاتی اور سیاسی جمود کو ختم کرنے کی اجازت دی جس نے پچھلی تمام یورپی اور علاقائی ثالثی کی کوششوں کو منجمد کر رکھا تھا۔ ان دو ہفتوں کے دوران جو کچھ ہوا اس کی مزید تفصیلی تصویر فراہم کرنے کے لیے مذاکرات کی روزمرہ کی رفتار کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہر صبح کا آغاز خطے میں راتوں رات ہونے والی پیش رفتوں کے جائزے سے ہوتا تھا، بشمول کسی بھی فوجی نقل و حرکت یا تیسرے فریق کی طرف سے سفارتی روابط۔ اس کے بعد فیلڈ مارشل نے ایرانی حکام کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں، جو اکثر مخصوص شقوں پر کام کرنے والی تکنیکی ٹیموں سے شروع ہو کر اعلیٰ سطحی سیاسی بات چیت تک جاتی تھیں۔ دوپہر کے وقت، دوحہ، جنیوا اور واشنگٹن میں مقیم امریکی حکام کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کالز کا اہتمام کیا جاتا تھا، جس سے فیلڈ مارشل ایرانی موقف کو آگے پہنچانے اور حقیقی وقت میں امریکی جوابی تجاویز حاصل کرنے کے قابل ہوتے تھے۔ یہ آمد و رفت رات گئے تک جاری رہتی تھی، جس میں پاکستانی ٹیم زبانی یقین دہانیوں کو تحریری متن میں تبدیل کرنے کے لیے کام کرتی تھی جسے دونوں فریق قابلِ قبول پاتے تھے۔ یہ حقیقت کہ ایرانی صدر نے معاملے کو نچلے درجے کے حکام کو سونپنے کے بجائے متعدد سیشنز میں ذاتی طور پر شرکت کی، اس سنجیدگی کا اشارہ تھی جس کے ساتھ تہران پاکستانی ثالثی کو دیکھ رہا تھا۔ اسی طرح ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر کی براہِ راست شمولیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہونے والے کسی بھی معاہدے کو ملکی سیاسی رکاوٹ کے بغیر نافذ کرنے کے لیے ضروری قانون سازی کی حمایت حاصل ہوگی۔ اس تمام محتاط زمینی کام نے اس حتمی مسودے کی بنیاد رکھی جسے بعد میں توثیق کے لیے دونوں دارالحکومتوں کو بھیجا جانا تھا۔
امریکی ٹیلی ویژن کی جامع رپورٹ کے مطابق، دورے کے اختتام اور تہران سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی واپسی کے فوراً بعد، نئے فائنل اور مجوزہ سفارتی مسودے کو رسمی ریاستی جائزے کے لیے ایرانی اور امریکی حکام کو فوری طور پر بھیج دیا گیا۔ اس انتہائی حساس دستاویز میں پائیدار جنگ بندی کے تصدیق شدہ طریقہ کار، بین الاقوامی بحری ناکہ بندیوں میں منظم نرمی، بیرونِ ملک موجود ایرانی سرکاری اثاثوں کو منظم طریقے سے بحال کرنے اور جوہری نگرانی کے حوالے سے بعد میں ہونے والے باضابطہ مذاکرات کے لیے ایک واضح روڈ میپ سے متعلق محتاط اور متوازن شقیں شامل ہیں۔ واشنگٹن اور تہران میں سفارتی نامہ نگاروں نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے تیار کردہ متن میں دونوں ممالک کے بنیادی سیکورٹی خدشات کو اتنے باریک بین اور درست توازن کے ساتھ حل کیا گیا ہے کہ اس کی حتمی توثیق کو اب وسیع پیمانے پر ایک یقینی بات سمجھا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس اور ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کو مسودے کی تیز رفتار ترسیل اس سراسر رفتار اور تاثیر کی عکاسی کرتی ہے جس کے ساتھ پاکستانی فوجی کمانڈ اس انتہائی مشکل اور حساس سفارتی آپریشن کو انجام دینے میں کامیاب رہی۔ مذاکرات سے واقف ذرائع کے مطابق مسودے کے مندرجات کی مزید تفصیل سے وضاحت کرنے کے لیے اس کے بڑے اجزاء کو سمجھنا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر، جنگ بندی کا طریقہ کار دشمنی کا محض ایک سادہ خاتمہ نہیں ہے بلکہ ایک مرحلہ وار، قابلِ تصدیق عمل ہے جس میں پاکستان اور ممکنہ طور پر دیگر دوست ممالک کے غیر جانبدار مبصرین کی تعیناتی شامل ہے۔ بحری ناکہ بندی کی دفعات میں آبنائے ہرمز میں بحری گشت میں بتدریج کمی شامل ہے، جس سے تجارتی جہاز رانی کو بین الاقوامی سطح پر مانیٹر کی جانے والی گائیڈ لائنز کے ایک نئے سیٹ کے تحت معمول کی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی اجازت ملے گی۔ ایرانی اثاثوں کی بحالی، جن کی مالیت اربوں ڈالر بتائی جاتی ہے، کو قسطوں میں ترتیب دیا گیا ہے، جہاں ہر قسط اسی وقت جاری کی جائے گی جب ایک آزاد تکنیکی کمیٹی کے ذریعے ایران کے مخصوص تعمیل کے اقدامات کی تصدیق ہو جائے گی۔ آخر میں، جوہری نگرانی کا روڈ میپ موجودہ صورتحال سے مشترکہ جامع پلان آف ایکشن، جسے عام طور پر ایران جوہری معاہدے کے نام سے جانا جاتا ہے، کی مکمل تعمیل کی طرف لے جانے والے مراحل کا ایک واضح سلسلہ فراہم کرتا ہے، لیکن اس میں اضافی تصدیقی پروٹوکولز شامل ہیں جو ایرانی تعمیل کے بارے میں امریکی خدشات کو مطمئن کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ ان انتظامات کی انتہائی پیچیدگی واضح کرتی ہے کہ پچھلی ثالثی کی کوششیں کیوں ناکام ہوئیں اور کیوں پاکستانی مسودے کو ایک حقیقی سفارتی شاہکار قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی میڈیا ہاؤسز کی تفصیلات کے مطابق اس ثالثی کی کوشش کی بے پناہ کامیابی کے پیچھے بنیادی وجہ اس حقیقت میں مضمر ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو امریکی انتظامیہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ ترین قیادت دونوں کا گہرا اور غیر متزلزل ذاتی اعتماد حاصل ہے۔ اعتماد کی یہ دوہری تہہ جدید بین الاقوامی تعلقات میں غیر معمولی طور پر نایاب ہے، جہاں تیسرے فریق کے ثالثوں کو تنازعہ کے کم از کم ایک فریق کی طرف سے ہمیشہ شدید شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ مزید برآں، ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان کی سویلین سیاسی حکومت اور اس کی فوجی کمانڈ کے درمیان برقرار رہنے والی بے عیب ہم آہنگی اور متحد موقف نے اس کامیاب ثالثی کے لیے بنیادی ستون کا کام کیا۔ ایک مکمل مربوط، ون پیج ریاستی فرنٹ پیش کر کے، پاکستانی قیادت نے بیرونی ہیرا پھیری یا اندرونی تضاد کے کسی بھی امکان کو ختم کر دیا۔ اس فولادی داخلی صف بندی نے فیلڈ مارشل کو وہ مکمل ادارہ جاتی اختیار فراہم کیا جو دونوں عالمی طاقتوں کو یہ یقین دہانی کرانے کے لیے درکار تھا کہ پاکستان کے پاس وہ اندرونی استحکام اور طویل مدتی تسلسل موجود ہے جو اس تاریخی امن معاہدے کے حتمی ضامن کے طور پر کام کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس اعتماد کی نوعیت کی مزید وضاحت کے لیے، دونوں ممالک کے ساتھ فیلڈ مارشل کے روابط کی ذاتی تاریخ کو دیکھنا ہوگا۔ امریکی جانب، انہوں نے کئی سالوں کے دوران پینٹاگون کے حکام، سی آئی اے کے ڈائریکٹرز اور وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیروں کے ساتھ باقاعدہ رابطہ برقرار رکھا ہے، جس سے صوابدید، قابلِ اعتمادی اور سٹرٹیجک بصیرت کے لیے ایک ساکھ قائم ہوئی ہے۔ ایرانی جانب، ان کے تہران کے دوروں اور علاقائی استحکام کی حمایت میں ان کے عوامی بیانات نے انہیں ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور علماء کے حلقوں دونوں کا یکساں احترام دلایا ہے۔ بہت سے مغربی رہنماؤں کے برعکس جو آتے جاتے رہے ہیں، فیلڈ مارشل دونوں ممالک کے لیے ایک مستقل، طویل مدتی پارٹنر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مزید برآں، پاکستان کی سویلین اور فوجی قیادت کے درمیان اتحاد کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ دوسرے ممالک کی طرف سے ثالثی کی بہت سی پچھلی کوششیں اسی وجہ سے ناکام ہوئیں کہ سویلین حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ متضاد مقاصد پر کام کر رہے تھے۔ پاکستان کے معاملے میں، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل کی کوششوں کی عوامی سطح پر توثیق کی ہے اور کابینہ کو مذاکرات سے مکمل طور پر باخبر رکھا گیا ہے، جس سے یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ ہونے والے کسی بھی معاہدے کو پوری ریاستی مشینری کی پشت پناہی حاصل ہوگی۔ ملکی ہم آہنگی کا یہ معیار واشنگٹن اور تہران دونوں کو ایک طاقتور سگنل بھیجتا ہے کہ پاکستان صرف اچھے وقت کا دوست نہیں بلکہ ایک قابلِ اعتماد شراکت دار ہے جو طویل مدت تک اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایک انتہائی تشہیر یافتہ بیان میں جس نے بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی فوجی رہنما کی غیر معمولی صلاحیتوں کو کھلے عام سراہا اور واضح طور پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل قرار دیا۔ صدر ٹرمپ نے گرمجوشی سے تفصیل بتائی کہ کس طرح فیلڈ مارشل نے اس گہرے سیاسی خلیج کو ڈرامائی طور پر کم کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا جس نے تاریخی طور پر پاکستانی حکومت کے خارجہ پالیسی کے موقف کو اسلام آباد میں ہونے والے جاری، حساس بیک چینل مذاکرات سے الگ کر رکھا تھا۔ امریکی صدر کی پرجوش عوامی توثیق کو عالمی سیاسی مبصرین کی جانب سے اس سٹرٹیجک مطابقت اور پیشہ ورانہ وقار کی ایک غیر معمولی توثیق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جسے موجودہ پاکستانی فوجی کمانڈ عالمی سطح پر حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ اوول آفس کی طرف سے تعریف کا یہ بے مثال معیار مضبوطی سے یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کی موجودہ قیادت اب محض عالمی واقعات پر ردِعمل ظاہر نہیں کر رہی بلکہ بین الاقوامی تنازعات کے انتظام کی عظیم حکمتِ عملی کو فعال اور کامیابی کے ساتھ تشکیل دے رہی ہے۔ اس رشتے کی مزید وضاحت کے لیے پاک امریکہ تعلقات کے وسیع تر تناظر پر غور کرنا چاہیے، جنہوں نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اہم اتار چڑھاؤ کا سامنا کیا ہے۔ سرد جنگ کے اتحاد کے عروج سے لے کر پابندیوں کے زوال اور دوغلے پن کے الزامات تک، یہ تعلقات شاذ و نادر ہی ہموار رہے ہیں۔ پھر بھی فیلڈ مارشل کی صدر ٹرمپ کی ذاتی توثیق یہ بتاتی ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ پاکستان کو کس نظر سے دیکھتی ہے، اس میں ایک اہم تبدیلی آئی ہے۔ “میرا پسندیدہ فیلڈ مارشل” کا جملہ محض ایک عام سی تعریف نہیں ہے بلکہ ایک محتاط انداز میں منتخب کیا گیا سیاسی سگنل ہے کہ امریکہ پاکستان کو اپنی مشرقِ وسطیٰ کی حکمتِ عملی میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔ یہ خاص طور پر اس لیے اہم ہے کیونکہ ٹرمپ اپنے سخت معیار اور ان رہنماؤں پر عوامی سطح پر تنقید کرنے کی آمادگی کے لیے جانے جاتے ہیں جنہیں وہ غیر مؤثر یا مخالف پاتے ہیں۔ پاکستانی فوجی سربراہ کی تعریف کے لیے اپنے راستے سے ہٹ کر کام کرتے ہوئے، ٹرمپ مؤثر طریقے سے دنیا کو بتا رہے ہیں کہ پاکستان اہمیت رکھتا ہے اور فیلڈ مارشل کی ذاتی شمولیت سنجیدگی اور قابلیت کی ضمانت ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے بیک چینل مذاکرات، جنہیں پہلے کچھ امریکی حکام شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے، اب مثبت الفاظ میں بیان کیے جا رہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق امریکی مذاکرات کار اپنے پاکستانی میزبانوں کی مہمان نوازی اور پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کر رہے ہیں۔ لہجے اور مواد میں یہ تبدیلی تنازعہ کے دونوں اطراف کے ساتھ فیلڈ مارشل کی مستقل، صابرانہ اور ہنرمندانہ شمولیت کا براہِ راست نتیجہ ہے۔
امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے اس موجودہ سفارتی کامیابی کو ایک وسیع تر تاریخی تناظر میں پیش کرنے کا بھی خیال رکھا، جس سے عالمی ناظرین کو یاد دلایا گیا کہ پاکستان کے پاس اعلیٰ درجے کی بین الاقوامی مصالحتیں انجام دینے کی ایک طویل اور شاندار تاریخ موجود ہے۔ براہِ راست تاریخی مماثلتیں کھینچنے والے نشریاتی حصوں نے ناظرین کو اس اہم کردار کی یاد دلائی جو پاکستان نے 1970ء کی دہائی کے اوائل میں ادا کیا تھا جب اسلام آباد نے اس خفیہ، ناگزیر پل کا کام کیا جس نے امریکہ اور عوامی جمہوریہ چین کو براہِ راست سفارتی تعلقات شروع کرنے اور دہائیوں کی تلخ تنہائی کو توڑنے کی اجازت دی تھی۔ بیجنگ کے لیے ہنری کسنجر کے خفیہ سفر کو کامیابی سے انجینئر کر کے، پاکستان نے سرد جنگ کے پورے رخ کو بدل دیا اور عالمی تجارت اور سیاست کو ہمیشہ کے لیے نئی شکل دی۔ اب، پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے کے بعد، پاکستان واشنگٹن اور تہران کو ایک متحدہ امن چھتری کے نیچے لانے کے لیے اس خلا کو پُر کر کے مؤثر طریقے سے اپنی تاریخی میراث کو دہرا رہا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک عالمی استحکام کار کے طور پر اس کی جیو پولیٹیکل اہمیت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بالکل کم نہیں ہوئی ہے۔ اس تاریخی مماثلت کو مزید تفصیل سے واضح کرنے کے لیے، 1970ء کی دہائی کے اوائل کے واقعات کے سلسلے کو یاد رکھنا چاہیے، جب پاکستان نے، صدر یحییٰ خان اور ان کی سفارتی ٹیم کی قیادت میں، اس وقت کے امریکی قومی سلامتی کے مشیر ہنری کسنجر کے لیے اسلام آباد کے راستے بیجنگ کا خفیہ دورہ کرنے کا انتظام کیا تھا۔ اس وقت امریکہ اور چین کے درمیان کوئی باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں تھے اور دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطہ عملی طور پر ناممکن تھا۔ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اور دونوں سپر پاورز کے ساتھ اس کے نسبتاً اچھے تعلقات نے اسے بہترین ثالث بنا دیا۔ کسنجر نے چھٹیوں کے بہانے پاکستان کا سفر کیا اور وہاں سے وہ خفیہ طور پر چین روانہ ہوئے، جہاں انہوں نے وزیرِ اعظم چو این لائی سے ملاقات کی اور اگلے سال صدر رچرڈ نکسن کے تاریخی دورۂ چین کی بنیاد رکھی۔ اس پیش رفت نے سرد جنگ میں طاقت کے توازن کو بنیادی طور پر بدل دیا، سوویت یونین کو تنہا کر دیا اور چین کو عالمی معیشت کے لیے کھول دیا۔ موجودہ صورتحال اس سے گہری مماثلت رکھتی ہے، جہاں پاکستان دوبارہ ایک محتاط، قابلِ اعتماد ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے جو کسی کو ناراض کرنے کے خوف کے بغیر دونوں اطراف سے ایمانداری سے بات کر سکتا ہے۔ بنیادی فرق یہ ہے کہ موجودہ ثالثی میں ایک سادہ سفارتی آغاز کے بجائے فوجی اور اقتصادی مسائل کا ایک پیچیدہ سیٹ شامل ہے، لیکن بنیادی اصول وہی رہتا ہے۔ پاکستان کی منفرد پوزیشن، جو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان واقع ہے، اسے ایک ایسا نقطہ نظر اور تعلقات کا ایک ایسا سیٹ فراہم کرتی ہے جس کی نقل کوئی دوسرا ملک نہیں کر سکتا۔ اس تاریخی کردار کو کامیابی سے بحال کر کے فیلڈ مارشل نے نہ صرف ایک موجودہ بحران کو حل کرنے میں مدد کی ہے بلکہ عالمی امور میں ایک ناگزیر ملک کے طور پر پاکستان کی ساکھ کو بھی بحال کیا ہے، وہ حیثیت جو چین کی پیش رفت کے بعد کے برسوں میں کچھ مدہم پڑ گئی تھی۔
ان واقعی قابلِ ذکر اور ناقابلِ انکار امن سازی کی کوششوں کی روشنی میں جنہوں نے خطے کو ایک تباہ کن جنگ کے منظر نامے سے مؤثر طریقے سے بچایا ہے، ممتاز میڈیا آوازیں اور بین الاقوامی مبصرین فیلڈ مارشل کو اعلیٰ ترین عالمی اعزازات دینے کا تیزی سے مطالبہ کر رہے ہیں۔ ٹل جانے والے تنازعے کے پیمانے اور پوری دنیا کے لیے محفوظ رہنے والے بے پناہ اقتصادی استحکام کی بنیاد پر، فیلڈ مارشل نوبل امن انعام کے لیے ایک اہم ترین امیدوار کے طور پر ابھرے ہیں، ایک ایسا اعتراف جس کے بارے میں بہت سے ماہرین متفق ہیں کہ وہ مکمل طور پر اس کے حقدار ہیں۔ ان کی انتھک شٹل ڈپلومیسی نے مشرقِ وسطیٰ میں لاکھوں معصوم جانوں کو کامیابی سے تحفظ فراہم کیا ہے اور بین الاقوامی توانائی کی اہم راہداریوں کو مکمل تباہی سے بچایا ہے۔ نتیجے کے طور پر، بین الاقوامی تجزیہ کار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حکومتِ پاکستان کو نارویجن نوبل کمیٹی کو ان کی نامزدگی باضابطہ اور سرکاری طور پر جمع کرانے میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ سرکاری ریاستی سطح پر ان کا نام آگے بھیجنا نہ صرف عالمی مصلحت کے ایک تاریخی عمل کو صحیح معنوں میں عزت دے گا بلکہ عالمی ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کے ایک فعال، ناگزیر چیمپیئن کے طور پر پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو بھی مستقل طور پر مستحکم کرے گا۔ نوبل امن انعام کے مقدمے کی مکمل وکالت کے لیے، پچھلے سالوں میں نارویجن نوبل کمیٹی کے استعمال کردہ معیار پر غور کرنا چاہیے۔ یہ انعام تاریخی طور پر ان افراد اور تنظیموں کو دیا جاتا رہا ہے جنہوں نے بین الاقوامی تنازعات کے حل، فوجوں میں کمی یا امن کانگریسوں کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششیں اس روایت کے عین مطابق ہیں، کیونکہ ان کی ثالثی نے براہِ راست ایک ایسی جنگ کو روکا ہے جس میں امریکہ، ایران، اسرائیل اور مختلف خلیجی ممالک شامل ہو سکتے تھے، جس کے تباہ کن انسانی اور معاشی نتائج برآمد ہوتے۔ ٹل جانے والے اس تنازعے کے نتیجے میں ممکنہ طور پر لاکھوں ہلاکتیں ہوتیں، کروڑوں لوگ بے گھر ہوتے اور عالمی توانائی کا بحران پیدا ہوتا جو زمین پر موجود ہر قوم کو متاثر کرتا۔ آخری لمحات میں مداخلت کر کے اور ایک مذاکراتی تصفیہ کو یقینی بنا کر، فیلڈ مارشل نے بلاشبہ ماضی کے بہت سے نوبل امن انعام یافتگان کے مقابلے میں زیادہ جانیں بچائی ہیں اور زیادہ تکالیف کو روکا ہے۔ مزید برآں، شدید تناؤ کے دور میں تہران کا سفر کرنے میں شامل ذاتی ہمت کو بھی کم نہیں سمجھا جانا چاہیے، کیونکہ فیلڈ مارشل نے امن کے حصول کے لیے خود کو براہِ راست خطرے میں ڈالا۔ نامزدگی کے عمل کے لیے ضروری ہے کہ کوئی حکومت ہر سال ایک مخصوص آخری تاریخ تک معاون دستاویزات کے ساتھ نوبل کمیٹی کو نام جمع کرائے۔ تیزی سے اور فیصلہ کن طریقے سے کام کر کے، حکومتِ پاکستان اس بات کو یقینی بنا سکتی ہے کہ فیلڈ مارشل کے نام پر جلد از جلد ممکنہ موقع پر غور کیا جائے۔ اگر یہ انعام فوری طور پر نہ بھی دیا جائے، تب بھی نامزدگی کا محض عمل ہی پاکستان کے امن سازی کے کردار کی طرف عالمی توجہ مبذول کرائے گا اور بین الاقوامی قد کاٹھ کے ایک رہنما کے طور پر فیلڈ مارشل کے مقام کو مزید بلند کرے گا۔ امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک اور سیاسی شخصیات بشمول صدر ٹرمپ کے تعریفی کلمات کی طرف سے وسیع پیمانے پر حمایت، طاقتور بیرونی توثیق فراہم کرتی ہے جو اوسلو کو بھیجے جانے والے کسی بھی نامزدگی پیکج کو مضبوط بنائے گی۔ امریکہ ایران مذاکرات کو حتمی انجام تک پہنچانے میں فیلڈ مارشل کی کامیابی نہ صرف ایک سفارتی فتح کی نمائندگی کرتی ہے بلکہ یہ پوری انسانیت کی ایک حقیقی خدمت ہے اور اسی وجہ سے نوبل پرائز کے مکمل حقدار ہیں