لاہور(ٹیوٹرپاکستان) پاکستان یوتھ چینج ایڈوکیٹس (پی۔وائی۔سی۔ اے) نے حال ہی میں اپنے وائٹ پیپر، ”تعلیم میں عوامی سرمایہ کاری: پاکستان میں ایس ڈی جی -4 کی ایک تشخیص، ” کی اشاعت سے قبل ایک ماہر مشاورت کا انعقاد کیا۔ جلد ہی شائع ہونے والا یہ وائٹ پیپر اور مشاورت تنظیم کی تعلیمی میں حکومتی سرمایہ کاری کی کیمپین کا حصہ تھے۔ ماہرینِ تعلیم، پبلک فینانس کے ماہرین اور سول سوسائٹی کے ارکان نے اس مشاورتی سیشن میں شرکت کی۔
اس سال کے شروع میں پی۔وائی۔سی۔اے نے اسی کیمپین کے زمن میں ایک اور وائٹ پیپر بھی شائع کیا تھا جس نے ملک میں تعلیمی سرمایہ کاری کی مایوس کن سورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے موجودہ بجٹ سازی کے عمل کو فعال بنانے کے لیے ٹھوس سفارشات دیں تھیں۔
تنظیم اب اسی سلسلے کا دوسرا وائٹ پیپر شائع کرنے کے آخری مراحل میں ہے۔ ستمبر میں شائع ہونے والا یہ وائٹ پیپر پاکستان کی ایس۔ڈی۔جی۔4 (جسکا مقصد دنیا بھر میں معیاری پرائمری اور ثانوی تعلیم کو عام بنانا ہے) کے حوالے سے اب تک کی کارکردگی پر روشنی ڈالے گا۔
وائٹ پیپر کے مصنف اور پبلک فینانس کے ماہر جناب عاصم بشیر خان نے تحقیق کے اہم نتائج اور سفارشات سامعین کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا، ”وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس حقیقت کو سمجھتی ہیں کہ تعلیم میں موجودہ سرمایہ کاری ناکافی ہے۔ حکومتِ پاکستان کا وژن 2025 دستاویز اس ہی لیے تعلیم کے لیے جی۔ڈی۔پی کا 4 فیصد مختص کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ تاہم، حقیقت میں پاکستان گزشتہ 20 سالوں میں اپنے جی۔ڈی۔پی کا اوسطا 2.5 فیصد سے زیادہ حصہ تعلیم کے لیے مختص کرنے سے قاصر رہا ہے۔ کوویڈ بحرانوں تعلیم میں عوامی سرمایہ کاری میں مزید کٹوتی کی وجہ بنا ہے اور مالی سال 2020-21 میں جی۔ڈی۔پی کا صرف 1.5 فیصد تعلیم کے لیے مختص کیا گیا ہے۔”
صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے، سابق چیئرمین ایف۔بی۔آر ڈاکٹر محمد ارشاد نے کہا، ”بدقسمتی سے، ایک طرف حکومت تعلیم میں سرمایہ کاری کو ترجیح دینے میں مسلسل ناکام رہی ہے اور دوسری طرف، آج بھی ہمارے ملک میں بہت سارے ایسے علاقے موجود ہیں جہاں لڑکیوں کی تعلیم کو اہمیت نہیں دی جاتی۔”
قانون سازی کے عمل پر بات کرتے ہوئے آواز سی۔ڈی۔ایس کی مریم امجد نے کہا، ” ہم اکثر قانون سازی سے سیدھا نفاذ کی طرف کود پڑتے ہیں۔ تاہم، ان دو سنگ میلوں کے درمیان بہت سے اقدامات ہیں جو اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ آیا قانون نافذ کیا جائے گا یا نہیں۔” پنجاب کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ”صوبے میں مفت اور لازمی تعلیم کے قانون کی منظوری 2014 میں دی گئی تھی، تاہم، آج تک اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا کیونکہ اسے نہ تو صوبائی حکومت نے نوٹیفائی کیا ہے اور نہ ہی اس کے نفاذ کے لیے حکمتِ عملی تشکیل دی گئی ہے۔”
پاکستان اس وقت دنیا بھر میں اسکولوں سے باہر بچوں کی دوسری بڑی آبادی کا حامل ہے۔ اسکولوں سے باہر ان بچوں میں اکثریت لڑکیوں کی ہے۔
259