حکومت نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی پارلیمنٹ حملہ کیس میں بریت کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔
وفاق نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے ذریعے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں سنائے گئے عمران خان کی بریت کے فیصلے کےخلاف اپیل دائر کی ہے۔
وفاق کی جانب سے پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کی بریت کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
وفاق نے اپیل میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کا فیصلہ خلافِ قانون ہے، ٹرائل کورٹ نے جلدبازی میں فیصلہ کیا، اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔
وفاق کی جانب سے اپیل میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمران خان کے ارتکابِ جرم کے کافی دستاویزی اور ویڈیو شواہد ریکارڈ میں موجود ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل کا اپیل میں کہنا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے عینی شاہدین کے بیانات کو نظر انداز کر کے عمران خان کو بری کیا اور پبلک پراسیکیوٹرز نے خلافِ قانون عمران خان کی بریت کی حمایت کی۔
خیال رہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 29 اکتوبر 2020ء کو عمران خان کی بریت کا فیصلہ سنایا تھا۔