پاکستان کرکٹ بورڈ کی مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ میرے بارے میں غلط اعداد و شمار پی سی بی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ جب واپس لاہور جاؤں گا تو اصل حقیقت کیا ہےجاری کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی پر مستعفی ہونے کا فیصلہ اچھا تھا، ہر وزیر اعظم کا حق ہے کہ وہ اپنی ٹیم بنائے۔
نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی طاقتور حلقوں نے کہا تھا کہ آپ رُکے رہیں،میں نے اپنے بعد کے2 چیئرمین کی کارکردگی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ دُکھ ہوتا تھا جب اچھے لوگوں کو میری قربت کی وجہ سےہٹایا گیا، اسٹیڈیمز کے نام تبدیل کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔
ان کا کہنا ہے کہ مینجمنٹ کمیٹی کے پاس معاملات چلانے کے مکمل اختیارات ہیں، اصل ہدف 2014 کے آئین کو بحال کرنا ہے۔
نجم سیٹھی نے کہا کہ جب ڈپارٹمنٹس اور منتخب باڈی تیار ہو جائے گی تو مینجمنٹ کمیٹی ختم ہو جائے گی، کھلاڑیوں کےلیے آواز اٹھائی گئی تھی جو سن لی گئی۔
انہوں نے کہا کہ مکی آرتھر کے ساتھ ٹیم بنائی تھی، ان کے دور میں ٹیم ٹاپ پر آئی تھی اور ٹیم میں بہت ڈسپلن تھا، پلیئرز محنت کر رہے تھے، بابر اعظم کو سب سے پہلے انہوں نے ہی سپورٹ کیا تھا۔
پی سی بی کی مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ مکی آرتھر ابھی ڈربی شائر کے ساتھ مصروف ہیں، ہم نے ان سے رابطہ ضرور کیا ہے، ان سے مشورہ اور رائے لی ہے کہ کون سے کوچز ہونے چاہئیں، آٹھ دس دن میں طے ہو گا کہ کوچنگ اسٹاف میں کون ہو گا، سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان ٹیم اچھا پرفارم کرے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ پاک بھارت کرکٹ کا فیصلہ حکومتی سطح پر ہی ہوتا ہے، بھارت جانے کے معاملے پر حکومت نے کہا کہ نہ جاؤ، تو نہیں جائیں گے، ڈپارٹمنٹس کے میچز دیکھنے کوئی نہیں آتا، فینز خود کو شہر اور ریجنز کے نام پر ٹیم سے جوڑتے ہیں۔
نجم سیٹھی کا یہ بھی کہنا ہے کہ میری تجویز یہ ہو گی کہ ڈپارٹمنٹس مل کر ریجن کی کرکٹ کو سپورٹ کریں، ایشیا کپ کے معاملہ پر اے سی سی میں دیکھیں گے کہ صورت حال کیا ہے، ہم نے ایسا فیصلہ کرنا ہے کہ خود بھی تنہا نہ رہیں۔
90