ڈھائی چال سے ڈیڑھ چال تک
سکرپٹ: محترمہ فرحین چوہدری
تحریر: میاں وقارالاسلام
میں تو پہلے ہی کہتا تھا کہ یہ ڈیڑھ چال ہے ، ڈھائی چال نہیں، آدھی چال تو پروڈیوسر ہی کھا گیا
حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ڈھائی چال جس کا سکرپٹ محترمہ فرحین چوہدری صاحبہ نے لکھا جیسے ہی منظرِ عام پر آئی تو اس نے بہت سے لوگوں کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا۔
سکرپٹ کو چوری کرنا، سکرپٹ کو تبدیل کر دینا، کہانی کو اس کے مرکزی خیال سے کہیں دور لے جاتا ہے۔ سب کچھ تباہ کر کے رکھ دیتا ہے۔ ایک شخص کی غلطی کا نقصان پوری کی پوری ٹیم کو اُٹھانا پڑتا ہے۔
ڈھائی چال کے سکرپٹ کو جس طرح سے ہم نے فرحین چوہدری صاحبہ کی زبانی سنا، اور جن پہلوں پر انہوں نے روشنی ڈالی انہیں جس طرح سے سمجھا، یقینا ہم توقع کر رہے تھے یہ فلم پاکستان فلم انڈسٹری کا اثاثہ بنے گی۔
ڈھائی چال یہ عنوان ہی اتنا جاندار تھا کہ اس نے بہت جلد بہت سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا، خاص طور پر وہ لوگ جو پاکستان کے حالات و واقعات اور خطے میں تبدیل ہوتی ہوئی صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ سکرپٹ کے ساتھ کی گئی نا انصافی نے کہانی میں سے جان ہی نکال لی۔
جب کبھی سکرپٹ پر بات ہوتی تو میرے منہ سےاکثر نکل جاتا کہ اچھا وہ جو آپ نے سکرپٹ لکھا تھا ڈیڑھ چال اس کا کیا بنا، تو فرحین چوہدری صاحبہ اس پر کہا کرتی تھیں کے ڈیڑھ چال گدھے کی ہوتی ہے یہ ڈھائی چال ہے اور یہ گھوڑے کی چال ہوتی ہے اور شطرنج کی سب سے خطرناک چال بھی۔ مگر کیا معلوم تھا کہ واقعی ڈیڑھ چال ریلیز ہو جائے گی۔
جن لوگوں نے محترمہ فرحین چوہدری صاحبہ کو پڑھا ہے سنا ہے اور جہاں تک سمجھا ہے وہ یقین سے یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ جو فلم ریلیز ہوئی ہے وہ مکمل طور پر ناانصافی پر مبنی ہے ۔ یہ فلم اُس سوچ، اس درد اور اُس احساس کی عکاس نہیں جس کی بنیاد پر فرحین چوہدری نے یہ فلم لکھی تھی۔
پاکستان فلم انڈسٹری ایک بہترین قیمتی اثاثے سے محروم ہو چکی ہے، یہاں سچ لکھنے والوں کے ساتھ یہی ہوتا آیا ہے، لوگ اپنے ذاتی مفاد کے لیے یا پھر اپنی لاپرواہی، لاعلمی اور جہالت سے دوسروں کے خواب چکنا چور کر دیتے ہیں۔
بدقسمتی سے یہاں ایسا ہونا کوئی نئی بات نہیں ، بہت سے لکھنے والوں کے احساسات اور جذبات کو روند دیا جاتا ہے اور کوئی ایسی مضبوط قانون سازی بھی نہیں ہے جو لکھنے والوں کو انصاف دلا سکے۔ بہت کم لوگ ہیں جو اس طرح کے موضوعات پر لکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر ان کے حوصلوں کو بھی توڑ دیا جاتا ہے۔
ہم ہر چیز کا الزام کبھی انڈیا پر کبھی امریکہ پر ڈال دیتے ہیں کہ ہمارے تمام مسائل ہمارے دشمنوں کی وجہ سے ہیں جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ہم شاید اندر سے بہت کرپٹ ہیں، ہماری اقدار کے جنازے نکل چکے ہیں، برائیوں کے بہت سے لاشے ہیں جو ہم دفنا نہیں رہے یا دفنانا ہی نہیں چاہتے۔