لاہور گردی قسط نمبر 4
تحقیق و تحریر: چودھری احسان باری
“اورنج لائن میٹرو ٹرین — لاہور کی فضاؤں میں دوڑتی پاکستان کی پہلی میٹرو ریل”
لاہور ایک ایسا شہر ہے جو صدیوں پرانی تاریخ، تہذیب اور ثقافت کا امین ہے، مگر وقت کے ساتھ اس نے جدید شہری سہولیات کو بھی اپنے دامن میں سمو لیا۔ انہی جدید منصوبوں میں ایک نمایاں نام اورنج لائن میٹرو ٹرین کا ہے، جو پاکستان کی پہلی جدید الیکٹرک میٹرو ریل سروس ہے۔
آج ہم لاہور گردی میں اس منصوبے کی مکمل کہانی جانیں گے۔
🔶 اورنج لائن کا تصور
سن 2007ء میں حکومتِ پنجاب نے لاہور میں بڑھتی ہوئی ٹریفک اور شہری آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع ماس ٹرانزٹ پلان تیار کروایا۔ اس منصوبے کے تحت لاہور میں چار میٹرو لائنوں کی تجویز دی گئی جن میں سب سے زیادہ ترجیح اورنج لائن کو دی گئی۔
بعد ازاں 2014ء میں اس منصوبے کی فزیبلٹی کو نیسپاک نے اپ ڈیٹ کیا اور چین کے تعاون سے عملی تعمیراتی کام کا آغاز ہوا۔
🔶 اورنج لائن میٹرو ٹرین کا سنگ بنیاد اور افتتاح
اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کا سنگِ بنیاد 22 مئی 2014ء کو اس وقت کے وزیرِاعظم محمد نواز شریف اور وزیر اعلی شہباز شریف نے مشترکہ طور پر رکھا۔ اس وقت وفاق اور پنجاب، دونوں میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی۔
اگرچہ منصوبے کی تکمیل میں قانونی، تکنیکی اور انتظامی تاخیر ہوئی، تاہم اس کا باقاعدہ افتتاح 25 اکتوبر 2020ء کو وزیر اعلی عثمان بزدار نے کیا، جب پنجاب اور وفاق میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت تھی۔ تجارتی بنیادوں پر ٹرین سروس کا آغاز بھی اسی روز کیا گیا۔ اور یوں پاکستان جدید میٹرو ریل چلانے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا۔
🔶 ٹرین کا روٹ
اورنج لائن کا سفر علی ٹاؤن سے شروع ہو کر ڈیرہ گجراں پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔
یہ ٹرین رائیونڈ روڈ، ملتان روڈ، چوبرجی، مال روڈ، میکلوڈ روڈ، ریلوے اسٹیشن، جی ٹی روڈ سے گزرتی ہوئی شمال مشرقی لاہور تک پہنچتی ہے۔
🔶 مجموعی لمبائی
* کل لمبائی: 27.1 کلومیٹر
* بلند (Elevated):
* 25.4 کلومیٹر
* زیر زمین: 1.7 کلومیٹر
اس پورے سفر میں تقریباً 45 منٹ لگتے ہیں جبکہ یہی فاصلہ سڑک کے ذریعے رش کے اوقات میں دو گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ وقت لے سکتا ہے۔
🔶 زیرِ زمین حصہ
اورنج لائن کا زیر زمین حصہ چوبرجی کے بعد شروع ہوتا ہے۔
یہ ٹریک تاریخی لاہور کے انتہائی حساس علاقے سے گزرتا ہے اور جی پی او اور انارکلی اسٹیشن زیر زمین واقع ہیں۔
بعد ازاں ٹرین دوبارہ زمین سے اوپر آ کر لکشمی چوک کی طرف اپنے بلند پل پر سفر جاری رکھتی ہے۔ یہی انتظام تاریخی عمارتوں کو محفوظ رکھنے اور شہری ٹریفک کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے کیا گیا۔
🔶 تمام اسٹیشنز کی فہرست
(ڈیرہ گجراں سے علی ٹاؤن کی طرف)
1. ڈیرہ گجراں (Dera Gujran) – ٹرمینل
2. اسلام پارک (Islam Park)
3. سلامت پورہ (Salamatpura)
4. محمود بوٹی (Mahmood Booti)
5. پاکستان ٹکسال (Pakistan Mint)
6. شالامار باغ (Shalamar Garden)
7. باغبانپورہ (Baghbanpura)
8. یو ای ٹی (University of Engineering & Technology – UET)
9. سلطان پورہ (Sultanpura)
10. لاہور ریلوے اسٹیشن (Railway Station)
11. لکشمی چوک (Lakshmi Chowk)
12. جی پی او (GPO) – زیرِ زمین
13. انارکلی (Anarkali) – زیرِ زمین
14. چوبرجی (Chauburji)
15. گلشن راوی (Gulshan-e-Ravi)
16. سمن آباد (Samanabad)
17. بند روڈ (Bund Road)
18. صلاح الدین روڈ (Salahuddin Road)
19. ختم نبوت (Khatm-e-Nabuwat) (پرانا نام شاہ نور / Shahnoor)
20. سبزہ زار (Sabzazar)
21. اعوان ٹاؤن (Awan Town)
22. وحدت روڈ (Wahdat Road)
23. ہنجروال (Hanjarwal)
24. کینال ویو (Canal View)
25. ٹھوکر نیاز بیگ (Thokar Niaz Baig)
26. علی ٹاؤن (Ali Town) – ٹرمینل
🔶 کرایہ
0-4 کلومیٹر: 25 روپے
4-8 کلومیٹر: 30 روپے
8-12 کلومیٹر: 35 روپے
12-16 کلومیٹر: 40 روپے
16-30 کلومیٹر (پورا روٹ): 45 روپے
یہ کرایہ پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (PMA) کا آفیشل ہے۔ مکمل روٹ (علی ٹاؤن سے ڈیرہ گجراں) کا کرایہ 45 روپے ہے۔
🔶 دلچسپ حقائق
* کل 27 ٹرین سیٹ
* ہر ٹرین میں 5 بوگیاں
* ایک ٹرین میں تقریباً 1000 مسافروں کی گنجائش
* کم سے کم وقفہ تقریباً 5 منٹ
* روزانہ آپریشن صبح 6:15 سے رات 10 بجے تک
* ابتدائی تخمینہ تقریباً 2 لاکھ 45 ہزار مسافر روزانہ تھا جبکہ بعد میں یومیہ سفر کرنے والوں کی تعداد دو لاکھ سے زائد ریکارڈ کی جا چکی ہے۔
🔶 منصوبے کی لاگت
اورنج لائن کی تعمیر پر تقریباً 1.48 ارب امریکی ڈالر (اس وقت کے حساب سے تقریباً 250 تا 300 ارب پاکستانی روپے) لاگت آئی۔
🔶 اورنج لائن کا سالانہ خرچ
اورنج لائن ایک عوامی فلاحی منصوبہ ہے، اس لیے دنیا کی بیشتر میٹرو ٹرینوں کی طرح اس کے آپریشن پر بھی حکومتی معاونت (سبسڈی) دی جاتی ہے۔
حالیہ دستیاب معلومات کے مطابق حکومت صرف اورنج لائن کے آپریشن اور دیکھ بھال کے لیے تقریباً 8 ارب روپے سالانہ سبسڈی فراہم کرتی ہے، جبکہ اس رقم کا بڑا حصہ بجلی اور آپریشنل اخراجات پر خرچ ہوتا ہے۔
اگر ماہانہ حساب کیا جائے تو یہ تقریباً 66 سے 67 کروڑ روپے ماہانہ بنتا ہے۔
🔶 کیا یہ خسارے کا منصوبہ ہے؟
اکثر لوگ سوال کرتے ہیں کہ اگر حکومت اربوں روپے سبسڈی دیتی ہے تو کیا یہ منصوبہ نقصان میں ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر بڑے شہروں، مثلاً لندن، پیرس، بیجنگ، ٹوکیو اور دہلی کے پبلک ٹرانسپورٹ نظام بھی کسی نہ کسی حد تک حکومتی معاونت سے چلتے ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد منافع کمانا نہیں بلکہ شہریوں کو تیز، محفوظ، سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنا، ٹریفک کا دباؤ کم کرنا اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہوتا ہے۔
🔶 اس منصوبہ کی چین سے مماثلت
اس منصوبے کی تعمیر، ٹرینوں کی فراہمی اور کئی تکنیکی شعبوں میں چین کا بھرپور تعاون حاصل رہا۔ اس کا انجینئرنگ اور آپریشنل ماڈل چین کے جدید میٹرو نظام سے متاثر ہے، اگرچہ اسے لاہور کی جغرافیائی اور تاریخی ضروریات کے مطابق ڈیزائن کیا گیا۔
🔶 ٹرین کے دونوں طرف انجن
یہ ایک 5 کار (واگن) والی الیکٹرک میٹرو ٹرین ہے (چائنیز CRRC بنائی ہوئی)۔
دونوں سروں پر ڈرائیور کی کیب ہوتی ہے، تاکہ ٹرین کو دونوں طرف سے چلایا جا سکے۔
اس کی وجہ سے ٹرین کو آخر اسٹیشن پر گھمانے کی ضرورت نہیں پڑتی — بس ڈرائیور دوسری طرف بیٹھ جاتا ہے اور واپس چل پڑتی ہے۔
یہ دیگر میٹرو ٹرینوں کی طرح ہے (جیسے دہلی، بیجنگ وغیرہ کی میٹرو)۔
🔶 لاہور گردی کی رائے
“اورنج لائن میٹرو ٹرین صرف ایک ٹرانسپورٹ منصوبہ نہیں بلکہ لاہور کی شہری تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس کے فوائد، لاگت اور سبسڈی پر مختلف آراء موجود ہو سکتی ہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس نے لاکھوں شہریوں کو تیز، محفوظ اور باوقار سفری سہولت فراہم کی ہے۔”
🔶 حوالہ جات
اس تحریر کی تیاری میں درج ذیل مستند ذرائع سے استفادہ کیا گیا:
* پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (Punjab Masstransit Authority)
* محکمہ ٹرانسپورٹ، حکومت پنجاب
* سی پیک سیکریٹریٹ
* نیسپاک (فزیبلٹی اسٹڈی)
* لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) سے دستیاب منصوبہ جاتی معلومات ([Punjab Municipal Authority]