لاہور گردی قسط نمبر 3
تحقیق و تحریر: چودھری احسان باری
لاہور کے “پورہ” ناموں میں چھپی صدیوں پرانی بستیاں (پارٹ 2)
لاہور صرف عمارتوں اور شاہراہوں کا شہر نہیں بلکہ یہ بستیوں، محلوں اور ان کے ناموں میں چھپی صدیوں پرانی تاریخ کا بھی امین ہے۔
گزشتہ قسط میں ہم نے بیگم پورہ، باغبان پورہ، سنگھ پورہ، گجر پورہ، اسلام پورہ، دھرم پورہ اور بھگت پورہ جیسے تاریخی علاقوں کا تعارف پیش کیا تھا۔ آپ دوستوں کی بھرپور پذیرائی کے بعد آج اسی سلسلے کی دوسری قسط پیش خدمت ہے، جس میں “پورہ” پر ختم ہونے والے مزید علاقوں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
ہر علاقے کے نام کے پیچھے کوئی نہ کوئی تاریخی، سماجی یا ثقافتی پس منظر ضرور موجود ہے، جو لاہور کی تہذیبی شناخت کو مزید نمایاں کرتا ہے۔
📍کشمیری پورہ
کشمیری پورہ اندرونِ لاہور کے قدیم علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ کشمیری گیٹ اور اس کے گردونواح سے منسلک ہے۔ مغل دور میں کشمیر جانے والا راستہ اسی دروازے سے گزرتا تھا، جس کے باعث کشمیری تاجروں اور ہنر مندوں کی بڑی تعداد یہاں آباد ہوئی۔ یہی نسبت اس علاقے کے نام کی بنیاد بنی۔
📍 قصور پورہ
قصور پورہ ایک قدیم آبادی ہے۔ جو آزادی چوک کے قریب ٹمبر مارکیٹ کے سامنے واقع ہے۔ روایت کے مطابق یہاں قصور سے آنے والے خاندانوں اور تاجروں نے سکونت اختیار کی، جس کی وجہ سے یہ علاقہ قصور پورہ کہلایا۔ یہ نام لاہور اور قصور کے تاریخی تعلق کی بھی یاد دلاتا ہے۔
📍 کچھو پورہ
شاد باغ کے قریب واقع کچھو پورہ آج اپنی روایتی خوراک، خصوصاً مٹن چنے کی مشہور دکانوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اگرچہ اس نام کی اصل کے بارے میں مستند تاریخی معلومات محدود ہیں، تاہم یہ لاہور کی قدیم بستیوں میں شمار ہوتا ہے۔
📍 مرزی پورہ (یا مرضی پورہ)
مرزی پورہ پرانے لاہور کی قدیم آبادیوں میں سے ایک ہے جو قصور پورہ کے ملحقہ ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا نام کسی مقامی خاندان یا شخصیت سے منسوب ہے، تاہم اس بارے میں مستند تاریخی شواہد محدود ہیں۔
📍 محمد پورہ
فیصل ٹاؤن کے قریب واقع محمد پورہ نسبتاً پرانی رہائشی آبادی ہے۔ اس کے نام کی نسبت یا تو کسی مقامی خاندان سے ہے یا پھر رسولِ اکرم ﷺ کے بابرکت نام کی وجہ سے یہ نام اختیار کیا گیا۔
📍 نبی پورہ
گلبرگ تھری کے نزدیک واقع نبی پورہ ایک قدیم رہائشی محلہ ہے۔ اس کے نام میں مذہبی عقیدت کی جھلک نمایاں ہے اور یہ لاہور کی مسلم تہذیبی شناخت کی ایک خوبصورت مثال ہے۔
📍 موچی پورہ
موچی پورہ ٹاؤن شپ کا مرکزی علاقہ ہے جو فیصل ٹاؤن اور ماڈل ٹاؤن لنک روڈ سے قریب ترین ہے۔ روایت ہے کہ یہ نام موچی برادری سے منسوب ہے، جو صدیوں سے جوتے سازی اور چمڑے کے کام سے وابستہ رہی۔ یہی نسبت ہمیں موچی گیٹ اور موچی باغ جیسے تاریخی مقامات میں بھی دکھائی دیتی ہے۔
📍 مالی پورہ
بند روڈ پر ساندہ کے قریب واقع مالی پورہ کا نام غالباً ان مالیوں یا باغبانوں سے منسوب ہے جو کبھی اس علاقے کے باغات کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ یہ علاقہ لاہور کی زرعی تاریخ کی ایک جھلک بھی پیش کرتا ہے۔
📍 وسن پورہ
مصری شاہ کے قریب واقع وسن پورہ پرانے لاہور کی گنجان آباد بستیوں میں شامل ہے۔ یہاں آج بھی قدیم گلیاں اور روایتی لاہوری ماحول اپنی اصل شکل میں موجود ہیں۔
📍 جانی پورہ
کوٹ خواجہ سعید کے علاقے میں واقع جانی پورہ ایک قدیم رہائشی بستی ہے، جس کا نام غالباً کسی مقامی خاندان یا شخصیت سے منسوب ہے۔
📍 حمید پورہ
فتح گڑھ کے قریب نہر کے کنارے آباد حمید پورہ لاہور کی گنجان آباد ان بستیوں میں سے ہے جو شہری توسیع کے ساتھ ساتھ ترقی کرتی رہیں۔
📍 تاج پورہ
غازی آباد اور نہر کے قریب واقع تاج پورہ کبھی زرعی علاقے کی حیثیت رکھتا تھا، مگر آج یہ لاہور کی بڑی رہائشی آبادیوں میں شمار ہوتا ہے۔
📍 مکھن پورہ
چاہ میراں کے اندر واقع مکھن پورہ لاہور کی قدیم بستیوں میں سے ایک ہے، جہاں آج بھی پرانے لاہور کی تہذیب اور روایتی ماحول محسوس کیا جا سکتا ہے۔
📍 رحمان پورہ
اچھرہ کے قریب واقع رحمان پورہ ایک گنجان آباد رہائشی محلہ ہے، جو لاہور کے تاریخی اور تجارتی مرکز کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
📍 رشید پورہ
شاہد پارک، رنگ روڈ اور مغل پورہ کے قریب واقع رشید پورہ نسبتاً پرانی رہائشی آبادی ہے، جو وقت کے ساتھ لاہور کی شہری توسیع کا حصہ بنتی گئی۔
📍 سلطان پورہ
مصری شاہ کے قریب واقع سلطان پورہ بھی لاہور کی قدیم بستیوں میں شامل ہے۔ یہاں آج بھی پرانے طرز کی گلیاں، مساجد اور روایتی کمیونٹی زندگی لاہور کی تاریخی شناخت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
*جاری ہے…*
إنشاءاللّٰه اس سلسلے کے پارٹ 3 میں “پورہ” پر ختم ہونے والے مزید علاقوں کا ذکر کیا جائے گا، کیونکہ لاہور کی تاریخ اتنی وسیع ہے کہ اسے چند صفحات میں سمیٹنا ممکن نہیں۔
نوٹ: اگر آپ نے اس سلسلے کا پہلا حصہ نہیں پڑھا تو اس کا لنک کمنٹ سیکشن میں موجود ہے۔
“اگر آپ لاہور کی تاریخ، ثقافت اور گم نام بستیوں سے دلچسپی رکھتے ہیں تو ‘لاہور گردی’ کے اس سفر میں ہمارے ساتھ رہیے، کیونکہ ابھی لاہور کی بے شمار کہانیاں باقی ہیں۔