سلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو توشہ خانہ فوجداری کیس میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزا کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔ عدالت نے کہا کہ قانون میں آرڈر میں نظر ثانی یا ترمیم کی گنجائش نہیں ، درخواست دائر کرتے وقت الیکشن کمیشن کا نااہلی نوٹیفکیشن موجود تھا مگر فیصلہ معطل کرنے کی استدعا ہی نہیں کی گئی۔ چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل بنچ نے ٹرائل کورٹ کا آرڈر معطل کرنے کی درخواست پر محفوظ فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے لکھا کہ لاہور ہائی کورٹ نے ایک فیصلے میں سزا اور سزا کا فیصلہ معطل کرنے میں فرق بیان کیا ہے جس کے مطابق سزا کا فیصلہ معطل کرنے کیلئے واضح استدعا کے ساتھ غیر معمولی حالات بیان کرنا ضروری ہے۔ سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے سزا معطلی کی درخواست میں ایسی کوئی وجہ بیان نہیں کی۔ عدالتی حکم میں ترمیم کی بنیادی وجہ بظاہر 8 اگست کا الیکشن کمیشن کا نااہلی کا نوٹیفکیشن ہے۔ عدالت کے علم میں آیا ہے کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے نااہلی نوٹیفکیشن کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے جس پر عدالت نے نوٹس بھی جاری کر رکھے ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے روبرو سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کا نااہلی نوٹیفکیشن موجود تھا مگر اسکے باوجود سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کے دوران کوئی بحث نہیں کی گئی۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 426 تحت سزا معطلی کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے منظور کیا۔ اب ضابطہ فوجداری کی دفعہ 561 تحت سزا کا فیصلہ معطل کرنے کا غیر معمولی ریلیف مانگا جا رہا ہے،سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں بغیر کسی غیر معمولی حالات کے عدالتی فیصلے میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ ایسے فیصلے موجود ہیں کہ کسی غلطی کی بنیاد پر انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے عدالتی حکم میں تبدیلی کی اجازت دی گئی۔
70