جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سائفر کیس میں ضمانت کے فیصلے میں اضافی نوٹ تحریر کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور شاہ محمود قریشی 8 فروری کو عام انتخابات کے خواہشمند امیدوار ہیں۔
اختلافی نوٹ میں جسٹس اطہر من اللّٰہ نے نوٹ میں سوال کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو انتخابات سے قبل گرفتار رکھنا ضروری ہے یا نہیں؟ انتخابات کی پچھلی سات دہائیوں سے تاریخ دیکھنا ضروری ہے، ایک بڑی سیاسی جماعت کے بانی ہیں اور دوسرے شاہ محمود قریشی اعلیٰ عہدے پر ہیں۔
جسٹس اطہر من اللّٰہ نے مزید کہا کہ ملک میں حقیقی انتخابات کےلیے تمام امیدواروں کو یکساں مواقع دینا آئینی ضرورت ہے، کسی فرد پر انتخابات میں حصہ لینے کا دار و مدار ہو تو ضمانت کے لیے یہی بنیاد کافی ہے۔
اضافی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد سے ہی ملک میں جمہوریت کو روندا گیا، ملک میں نظریہ ضرورت کو جگہ دی گئی، فیڈرل کورٹ کے نظریہ ضرورت سے ملک میں سیاسی انتقام کی بنیاد پڑی، ملک میں وقت سے پہلے عہدوں سے ہٹائے گئے تمام وزرائے اعظم کو زیر حراست رکھا گیا ہے، ملک میں وزرائے اعظم کو نااہل کیا گیا۔
جسٹس اطہر من اللّٰہ نے اضافی نوٹ میں کہا کہ عام انتخابات 2018 کی مثال موجود ہے جب ایک وزیراعظم کو نااہل کر کے لیول پلیئنگ فیلڈ چھینی گئی، ایک سابق وزیراعظم کو پھانسی چڑھا دیا گیا اور اس کا جنازہ بھی پڑھنے نہیں دیا گیا، ملک کی آدھی زندگی کو جبری طور پر آمر کی حکومت میں رکھا گیا جس کو سزا بھی نہ ہوئی، منتخب نمائندوں کو سیاسی اختلاف پر نشانہ بنانے کی تاریخ ماضی کی کتابوں سے نہیں نکل سکتی۔
جسٹس اطہر من اللّٰہ نے لکھا کہ الیکشن کمیشن کو یقینی بنانا چاہیے کسی ایک سیاسی جماعت کو انتخابات سے قبل نشانہ نہ بنایا جائے، انتخابات کے وقت سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کی روایت موجودہ کیس میں ضمانت دینے کے لیے کافی ہے، درخواست گزاروں نے ریپ یا بچوں سے زیادتی جیسا کوئی سنگین جرم نہیں کیا، سائفر ٹرائل چل رہا ہے اور درخواست گزاروں کو جیل میں رکھنا بظاہر ضروری نہیں۔
اضافی نوٹ میں کہا گیا کہ حقیقی انتخابات کے انعقاد کے لیے ضروری ہے درخواست گزاروں کو ضمانت دی جائے، درخواست گزاروں کی ضمانت سے عوام اپنا حق رائے استعمال کر سکیں گے۔