برطانوی خاندان سے علیحدگی اختیار کرنے والے شہزادہ ہیری نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے عالمی رہنماؤں کو جمہوریت اور آزادی پر ہونے والے حملوں کا ذمے دار ٹھہراتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ڈیوک آف سسیکس شہزادہ ہیری نے نیویارک میں اپنے خطاب کے دوران ’آئینی حقوق کو محدود‘ کرنے پر تنقید کی۔
شہزادہ ہیری اپنی اہلیہ میگھن مارکل کے ہمراہ 2 گھنٹے کی میٹنگ کے دوران موسمیاتی تبدیلی اور غربت سے متعلق وفد کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے پہنچے۔
ڈیوک آف سسیکس نے عظیم عالمی رہنما نیلسن منڈیلا کی زندگی کی یاد میں منعقد کی گئی میٹنگ سے نیویارک میں خطاب کرتے ہوئے سابق جنوبی افریقی رہنما کی زندگی کی عکاسی کرتے ہوئے اپنے پاس موجود ایک قیمتی تصویر کے بارے میں بتایا جو اُنہوں نے اب بھی اپنے پاس رکھی ہوئی ہے، کیونکہ نیلسن مینڈیلا کی وہ تصویر ان کی مرحوم والدہ شہزادی ڈیانا کے ہمراہ لی گئی تھی۔
اُنہوں نے عالمی رہنماؤں کو اس وقت دنیا بھر میں درپیش بہت سے بحرانوں کی وجہ سے سخت تنقیدکا نشانہ بنایا۔
شہزادہ ہیری نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے غیر ذمے دارانہ روّیے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم آج یہاں بیٹھے ہیں، ہماری دنیا میں آگ لگی ہوئی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ہم ایک عالمی وباء کورونا وائرس سے گزر رہے ہیں جو دنیا کے ہر کونے میں مختلف برادریوں کو تباہ کر رہی ہے، موسمیاتی تبدیلی ہمارے سیارے پر تباہی مچا رہی ہے، جو سب سے زیادہ نقصان دہ ہے۔
شہزادہ ہیری نے پیوٹن کے یوکرین پر حملے اور امریکی سپریم کورٹ کے حالیہ ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین میں خوفناک جنگ سے لے کر یہاں امریکا میں آئینی حقوق کے محدود ہونے تک، ہم جمہوریت اور آزادی پر عالمی سطح پرحملے ہوتے دیکھ رہے ہیں اوراس سب سے لڑنا ہی منڈیلا کی زندگی کا مقصد تھا۔
آخر میں اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ جیسا کہ تاریخ میں یہ اکثر ہوتا آیا ہے، بعض امیر ترین ممالک میں کچھ طاقتور ترین لوگوں کے اقدامات کے نتائج برِاعظم افریقہ میں اور بھی زیادہ بری طرح اثر انداز ہو رہے ہیں