93

قومی صحت و آبادی پالیسی 2025-34ء کی ترقی کے لیے ملک بھر کے تمام صوبوں کی مشاورتی ا جلاس کا انعقاد

بین الوزارتی صحت و آبادی کونسل کے گزشتہ سال ہونے والے اجلاس کے تناظر میں، ایک نئی قومی صحت و آبادی پالیسی (NHPP، 2025-34) تیار کرنے کی سفارش کی گئی۔ یہ پالیسی قومی صحت ویژن (NHV 2016-25) کے وسط مدتی جائزے (MTR) کی سفارشات اور عوامی و نجی شعبوں کے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی بنیاد پر تیار کی جائے گی۔ وزارت قومی صحت سروسز، ضوابط و ہم آہنگی (M/NHSR&C) نے برطانیہ کے فارن کامن ویلتھ ڈیولپمنٹ آفس کی مدد سے پروفیسر ثمین صدیقی کی سربراہی میں ایک مشاورتی ٹیم مقرر کی ہے۔ اس ٹیم نے تمام صوبوں کے صحت اور آبادی کے محکموں کے سینئر حکام کے ساتھ مشاورت کے دوران قومی و صوبائی حکومتوں کی اسٹریٹجک ترجیحات اور مقامی ضروریات و عالمی وعدوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک مشترکہ اسٹریٹجک سمت کی شناخت پر توجہ مرکوز کی۔ اس مشاورت کے بعد لاہور کے مقامی ہوٹل میں ایک صوبائی مشاورتی اجلاس کا انعقاد ہوا۔ اس اجلاس کا مقصد صحت و آبادی کے شعبوں میں عوامی و نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرکے آبادی و صحت کو مزید بہتر بنایا جا سکے گا۔ جامع قومی صحت اور آبادی کی پالیسی 2025-34 ایک اہم اقدام ہے جس کا مقصد پاکستان کی آبادی میں اضافے اور صحت کے چیلنجوں سے نمٹنا ہے۔ ایک صوبائی مشاورتی اجلاس اس عمل میں ایک اہم قدم ہے، یہ اجلاس صوبائی اسٹیک ہولڈرز کو اپنی مہارت، تجربات اور خدشات کا اشتراک کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ یہ باہمی تعاون اس بات کو یقینی بنائے گا کہ پالیسی ہر صوبے کے منفرد چیلنجوں اور ضروریات سے نمٹنے کے لیے بنائی جائے۔اس مشاورتی اجلاس کے کلیدی مقاصدمیں زرخیزی کی شرح 3.6 فی عورت سے کم کرکے 2025 تک 2.8 اور 2030 تک 2.2 پیدائش کی شرح افزائش کو کم کرنا، پائیدار ترقی حاصل کرنے کے لیے آبادی میں اضافے کی اوسط شرح کو کم کرنا، خاص طور پر خواتین اور بچوں کے لیے صحت کی خدمات کی رسائی اور معیار کو بہتر بنانا شامل ہے۔صوبائی اسٹیک ہولڈرز، سرکاری ایجنسیوں اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مضبوط شراکت داری اور صوبائی سطح پر پالیسی کے نفاذ اور نگرانی کے لیے صلاحیت میں اضافے کا باعث بنے گا۔
ڈائریکٹر جنرل پاپولیشن ویلفئیر ثمن رائے نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبہپنجاب میں فیملی پلاننگ کی مانگ 52.2 فیصد سے بڑھ کر 56.8 فیصد ہو گئی ہے۔ MICS 2024 کے نتائج18۔017 2 ء کے مقابلے میں بہت زیادہ حوصلہ افزا ہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ پنجاب میں کل اوسط شرح پیدئش جو کہ 2017 ء میں 3.7 بچوں سے کم ہو کر 2024 ء میں 3.5 ہوئی ہے۔جبکہ 15تا49 سال عمر کی خواتین میں نوعمر بچوں کی پیدائش کی شرح 40 سے کم ہو کر 33 ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے ایک مثبت رجحان دیکھاگیا ہے، محکمہ کے ورکرز اور فیلڈسٹاف روایتی منظر نامے کے حامل صوبہ میں دن رات کام کیا تاکہ عوام کے رویے اورذہنیت کو تبدیل کیا جا سکے۔ پاپولیشن ویلفیئر ڈپارٹمنٹ پنجاب کی ٹیمیں صوبہ بھر کے تمام دیہی، دور دراز کی کمیونٹیز، قبائلی علاقوں میں جاکرعوام کو ذمہ دار بننے، خاندان کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے، خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے اختیار کرنے، ایک متوازن خاندان اور ذمہ دار والدین، مانع حمل ادویات کا استعمال، دیکھ بھال اور بہت ضروری احتیاط کی ترغیب دیتی رہی ہیں۔ SBCC کی حکمت عملی کو کامیابی کے ساتھ نافذ کیا گیا ہے اور اس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں