ہم لاہور میں رہنے والے لاہور سے کتنی محبت کرتے ہیں اس کو الفاظ میں تحریر کرکے بتایا اور سمجھایا نہیں جا سکتا۔ لاہور ہماری روح ،سوچ، احساس اور مزاج میں رچا ہوا ہے۔لاہور کی فضا روحانی بھی ہے اور جمالیاتی بھی یوں ہمارا اس سے تعلق روحانی بھی ہے اور جذباتی بھی۔ اس لیے اس سے دور جانا لاہوریوں کے لیے ہمیشہ بہت دشوار رہا ہے۔ بہت سارے لوگ دیگر ملکوں میں روزگار’ تعلیم اور دیگر سلسلوں میں جا بستے ہیں لیکن وہ لاہور کو دل میں بسائے رکھتے ہیں۔ کسی بھی معتبر ،مقدس اور ترقی یافتہ شہر کی فضا لاہوریوں کو لاہور کی محبت سے جدا نہیں کر سکتی، وہ اسے مس کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔میں بہت سے لوگوں کو جانتی ہوں جنھیں ملک اور بیرون ملک میں جاب کے حوالے سے اعلی آفرز ملیں مگر انھوں نے لاہور رہنے کو ترجیح دی۔
گزشتہ کئی دنوں سے سموگ کے باعث لاہور کی فضا کو جس صورتحال کا سامنا ہے اسے دیکھتے ہوئے خوف آنے لگا ہے کہ اگر یہ آلودگی اسی طرح بڑھتی رہی تو کچھ سالوں بعد ہمیں زندہ رہنے کے لئے ماسک نہیں آکسیجن ڈرم اٹھائے رکھنا پڑیں گے۔ تمام کھڑکیاں دروازے بند ہونے کے باوجود گندگی کے زرات شیشے سے چھن کر آنے والی روشنی میں اڑتے دکھائی بھی دیتے ہیں اور منہ ناک میں گھستے بھی محسوس ہوتے ہیں۔ منہ بند رکھا جا سکتا ہے مگر سانس لینا تو بند نہیں کر سکتے ۔صبح اوس میں بھیگے پودوں پر گرنے والی میل کی تہہ جمی ہوتی ہے اسی طرح کی تہہ ہمارے پھیپھڑوں پر بھی بن رہی ہے۔سوچئے ہم کتنا کوڑا کرکٹ اپنے اندر جمع کر رہے ہیں جو ہمیں مختلف بیماریوں کا شکار بھی کر رہی ہے اور ہماری اوسط عمر میں بھی سات سے دس سال کمی کر رہی ہے ۔
پاکستان میں چھاتی، جگر، لبلبے، پھیپھڑوں، منہ اور پروسٹیٹ کا کینسر تقریبا وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق موروثی وجوہات کا تناسب بہت کم ہے جبکہ ماحولیاتی، پانی اور غذائی آلودگی بڑا سبب ہے۔
پھر یہ میل صرف انسانوں کو نہیں کھارہی ہمارے پورے ماحول کو مسمار کر رہی ہیے۔ ہماری تاریخی ، ثقافتی عمارتوں کا حسن گہنا رہی ہے۔اگر ہم نے ایک نارمل طبعی زندگی جینی ہے، اپنے بچوں کو صحت مند ماحول فراہم کرنا ہے تو آج سے باتیں نہیں مستقل بنیادوں پرسموگ کے تدراک کی مہم شروع کرنا ہوگی۔ لاک ڈاؤن اور مصنوعی بارشیں وقتی حل ہیں۔ یہ وہ دوا نہیں جو مرض کو مستقل ختم کر سکے۔
سموگ آلودگی کا عفریت ہے جس سے نجات کے لئے لاہور کی آبادی کا دباو کم کرنے کے لئے غیرقانونی بسنے والوں کو خداحافظ کہنا ہوگا، چھوٹے شہروں اور قصبوں کے نزدیک فیکٹریاں ، کاروباری مراکز،کالج اور یونیورسٹیوں کے سب کیمپس بنانے ہوں گے۔ نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز پر بین لگانا ہوگا۔
سڑکوں پر ٹریفک کم کرنے کے لئے
تمام سرکاری ملازمین اور سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبا کے لیے خصوصی بسیں چلإئی جائیں۔
اگر ہر علاقے سے پبلک ٹرانسپورٹ کا آغاز ہو جائے ، لوگوں کو ماہانہ بچت پاسز جاری کئے جائیں تو وہ بس میں سفر کو ترجیح دیں گے۔جب ہم برطانیہ ، فرانس یا دیگر ترقی یافتہ ملکوں میں جاتے ہیں تو
کتنی سہولت سے بسوں اور ٹرینوں میں سفر کرتے ہیں۔ ویسا ہی نظام یہاں بھی اپنانے کی ضرورت ہے۔ پورے شہر کو جوڑنے والی معیاری پبلک ٹرانسپورٹ بہت سے مسائل کا حل ہوگی۔
شجرکاری کے لئے صرف اعلانات نہ کئے جائیں بلکہ ہر شہری اپنے گھر، دفتر ، گلی ، علاقے میں پودے لگا کر تصویریں سوشل میڈیا پر شئیر کرے۔ طالبعلموں کو خصوصی ٹاسک دئیے جائیں ۔ اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر تحصیل اور ضلع میں خالی پڑی زمینوں پر پودے لگوائیں۔
فرنس آئل سے چلنے والی اور سکریپ خصوصا پلاسٹک کو جلانے والی بھٹیوں ، اینٹوں کےبھٹوں اور ہر قسم کی فیکٹریوں کو لاہور سے دور شفٹ کیا جائے اور ان فیکٹریوں کے بوایلر پر فلٹر والی چمنیاں لگائی جائیں۔
افسوس اس بات کا ہے کہ محمکہ ماحولیات نے کبھی جدید سائینسی تحقیق سے فائدہ اٹھا کر ماحول کو بچانے کی نہ مستقل بنیادوں پر کوشش کی نہ وقتی حل ڈھونڈا ، جیسے کہ اینٹوں کے بھٹے سے پیدا ہونے والی آلودگی کے خاتمے میں زگ زیگ ٹیکنالوجی کارآمد ہو سکتی ہے ،جب کہ فیکٹریوں اور بھٹوں کی چمنیوں میں سے صرف چند لاکھ میں واٹر ٹریٹمنٹ کے ذریعے خارج ہونے والے دھوئیں کو صاف کرکے سموگ میں فوری کمی لائی جا سکتی ہے۔
اچھی بات ہے کہ شہر میں دھواں دینے والی گاڑیوں کو بند کیا جارہا ہے لیکن ابھی تک ہم بہت فرسودہ ایندھن استعمال کر رہے ہیں۔ آئل ریفائنری کی اپ گریڈیشن سے ان مسائل سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے۰ڈیزل انجن گاڑیوں کو سولر ہا ہائیڈروجن فیول پر منتقل کیا جائے تو بہتری آسکتی ہے ۰
جہاں صنعتی اور ٹرانسپورٹیشن سے پیدا ہونے والی گیسوں کی مقدار میں کمی بہت ضروری ہے وہیں گرین بیلٹ میں اضافہ کیا جانا اہمیت کا حامل ہے ، درخت لگانے اور ان کی حفاظت کرنے کے بارے میں آگاہی میڈیا کے پروگراموں خبرناموں ، مذہبی خطبوں ، سیاسی تقریروں ، کلاس روم لیکچرز میں شامل ہونی چاہیے ۰اداکاروں ، فنکاروں ، ادیبوں ،کھلاڑیوں ، صحافیوں اور گلوکاروں کو درخت لگانے کی مہم کا حصہ بنایا جائے۔
سموگ سے نجات ایک مشکل مرحلہ ہے ناممکن نہیں۔
آئیے ہم سب انفرادی اور اجتماعی سطح پر اس حیات دشمن آلودگی کے خاتمے کے لئے عمل پیرا ہوں۔اپنے آپ ، اپنے شہر اور اپنے بچوں کے لئے فضا کی صفائی ستھرائی کے لئے عملی اقدامات کریں
93