پاکستان سے تعلق رکھنے والی خاتو ن عائلہ مجید کو دنیا کے معروف پروفیشنل اکاؤنٹنسی باڈی کی نائب صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔
پاکستان کے شہر اسلام آبادمیں مقیم عائلہ مجیدACCA(ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس) میں دوسرے نمبر پر اعلیٰ ترین افسر ہیں۔اس کے علاوہ اے سی سی اے کے 191 ممالک میں ایک ملین کے تین چوتھائی ممبران اور طلباء ہیں۔
اس بارے میں بات کرتے ہوئے عائلہ مجید نے کہاکہ”میں اس پر کوئی فخر محسوس نہیں کرتی بلکہ میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی زندگی میں نئے مواقع پیدا کرنے اور ان کے مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی پوری صلاحیتوں کا استعمال کرنا چاہتی ہوں ”۔
ایک پاکستانی خاتون کے طور پر یہ کردار ادا کرنا بہت اطمینان بخش ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ابھرتی ہوئی معیشتوں میں بھی ترقی پذیر دنیا کی خواتین نہ صرف قومی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنا حصہ ڈالنے اور مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے علاوہ فنا نس کے شعبے میں گورننس کے کلیدی عہدوں پر خواتین کا کردار تنظیموں کی ترقی اور مضبوطی کے لیے بھی انتہائی اہم ہے جس کا حقیقی معنوں میں عالمی اداروں نے اعتراف کرنے کے ساتھ ساتھ اسے قبول بھی کیا ہے۔
عائلہ مجید کو پہلی بار 2014 میں اے سی سی اے کی عالمی گورننگ کونسل کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ ان کے پاس لین دین کی مشاورت، انضمام اور حصول اور توانائی اور انفراسٹرکچر میں پروجیکٹ کی ترقی کا 22 سال کا تجربہ ہے۔اس کے علاوہ ان کے پاس بورڈ کی قیادت کا بھی14 سال کا تجربہ موجودہے جس میں انرجی، فارماسیوٹیکل اور غیر منافع بخش شعبوں میں بورڈز میں بطور خود مختار ڈائریکٹر بورڈ کی سربراہی شامل ہے۔عائلہ مجید ورلڈ اکنامک فورم کی گلوبل فیوچر کونسل آف انرجی ٹرانزیشن کی رکن اور ورلڈ اکنامک فورم کے ینگ گلوبل لیڈر رہ چکی ہیں۔
عائلہ مجیداب پلینیٹیو کی سی ای او بھی ہیں جس کی بنیاد انہوں نے 2020 میں رکھی تھی۔جس کا مقصدایک مشاورتی اور پراجیکٹ ڈویلپمنٹ پریکٹس کرنا ہے جو دنیا بھر کی تنظیموں کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ اور پاکستان پر خصوصی توجہ پرمبنی پائیدار فنانس، ڈیکاربونائزیشن اور توانائی کی منتقلی کو فروغ دیتی ہے۔اے سی سی اے کے نئے صدر رونی پیٹن ہیں جو شمالی آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ اکاؤنٹنسی لیکچرر ہیں۔