لاہور ہائی کورٹ نے ماتحت عدلیہ کے ججوں کو سوشل میڈیا سے پرہیز کرنے کا حکم دے دیا۔
لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد امیر بھٹی کی منظوری کے بعد ضلعی عدلیہ کے ججوں کو مراسلہ بھجوا دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ضلعی عدلیہ کے ججز سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے استعمال سے گریز کریں۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ماتحت عدلیہ کے ججوں پر تمام غیر سرکاری واٹس ایپ گروپس میں شامل ہونے کی بھی ممانعت ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے احکامات پر عمل نہ کرنے والے ججوں کے خلاف تادیبی کارروائی کا عندیہ بھی دیا ہے اور کہا ہے کہ ضلعی عدلیہ میں کچھ عناصر کی وجہ سے عدالتی وقار خراب ہو رہا ہے۔
عدالتِ عالیہ کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ جوڈیشل افسروں کو اپنی سماجی زندگی محدود رکھنی چاہیئے، ضلعی عدلیہ کے جج صرف آفیشل واٹس ایپ گروپ استعمال کریں۔
مراسلے کے مطابق غیر سرکاری واٹس ایپ گروپس میں معلومات شیئر کرنے والے ججوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، ضلعی عدلیہ کے جج خط و کتابت متعلقہ سیشن جج اور رجسٹرار ہائی کورٹ کے ذریعے کرنے کے پابند ہوں گے۔
لاہور ہائی کورٹ کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ من پسند علاقے میں تبادلہ کروانے کی سفارش کرنے والے جج کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی، ضلعی عدلیہ کے ججوں کے تبادلے مانیٹرنگ نظام اور کارکردگی کی بنیاد پر کیئے جائیں گے، ججوں کے تبادلوں کیلئے 6 جولائی سے 31 جولائی تک کی کارکردگی جانچی جائے گی۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اور نجی گاڑیوں پر نیلی لائٹ لگانے والے ججوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی، جوڈیشل افسروں کے نجی گاڑیوں پر سبز نمبر پلیٹس لگانے پر بھی سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
اعلیٰ عدلیہ کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس اور دیگر ججوں کی عدالتی کارروائی بغیر اجازت دیکھنے پر پابندی ہو گی، عدالتی کارروائی دیکھنے کیلئے بغیر اجازت ہائی کورٹ آنے والے ججوں کے خلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی کی جائے گی۔
لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ججوں کو جاری کیئے گئے مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضلعی عدلیہ کے جج وقت اور یونیفارم کی پابندی یقینی بنائیں۔