122

“نیٹ زیرو کاربن بجٹ” از ڈاکٹر سلطان محمود

“نیٹ زیرو کاربن بجٹ”
کالم میٹھا سچ 695 از ڈاکٹر سلطان محمود

صنعتی انقلاب کے بعد سے 2023ء تک دنیا کا مجموعی درجہ حرارت ڈیڑھ ڈگری سنٹی گریڈ کے قریب تک بڑھ چکا ہے اور مکمل ڈیڑھ ڈگری تک پہنچنے میں محض پانچ برس رہ گئے ہیں جبکہ ناکامی کی صورت میں انسان کے پاس دو ڈگری تک پہنچنے میں محض تیس سال ہی بچے ہیں اور پھر خاکم بدہن تباہی ہی تباہی۔

دو ڈگری تک اگر عالمی حدت پہنچ گئی تو شدید گرم موسم کی لہریں، طوفان، سیلاب اور خشکابے انسان کی وسیع بربادی کا باعث بن جائیں گی۔ قطبین کی برف پگھلنے سے سمندری سطح بڑھ جائے گی اور ساحلی علاقوں میں سیلاب سے شدید بربادی تو ایک طرف دنیا کے بیشمار علاقے سطح آب سے نیچے چلے جائیں گے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے زراعت برباد ہونے سے انسانی خوراک کی کمی اور اس پر جھگڑے شروع ہو جائیں گے۔ اگلا خطرہ ملیریا اور ڈینگی وائرس کے پھیلاؤ کی صورت میں درپیش ہو گا کیونکہ گرم مرطوب موسم مچھر کی پرورش کے لئے بہت معاون ہے۔ یہ سب عوامل مل کر ہمیشہ انسان کی معاشی اور اور تنظیمی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں اور صحت و تعلیم کے علاوہ سیاسی و مذہبی مسائل بھی پیدا کرتے ہیں۔

عالمی سطح کے نیچر کلائمیٹ چینج میگزین کے کل کے شمارے میں کرہ ارض کے بڑھتے درجہ حرارت بارے کچھ ایسے انکشافات کئے گئے ہیں جو انسانوں کے سروں پر لٹکتی ماحولیاتی تلوار کے خطرات کی نشاندھی کر رہے ہیں۔ یہ اندازے برطانیہ کی لیڈ یونیورسٹی اور امپیریل کالج نے مل کر دنیا کے پچاس ماحولیاتی سائنسدانوں کی تحقیقات پر مشتمل رپورٹ میں پیش کئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اگر انسان کے ہاتھ میں پچاس فیصد بھی امکان رہ گیا ہے کہ وہ زمین کا درجہ حرارت بڑھنے سے روک لے تو وہ محض دو سو پچاس گیگا ٹن (ارب میٹرک ٹن) سالانہ ہی مزید کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں چھوڑ سکتا ہے۔ جبکہ اس وقت عالمی سطح پر چالیس گیگا ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہو کر فضا میں بکھر رہی ہے۔

دراصل عالمی حدت بڑھنے سے تبھی رکے گی اگر کاربن ڈائی آکسائیڈ نیز دیگر گرین ہاؤس گیسوں کی آلودگی رکے گی۔ چونکہ اس تعریف کو ہی نیٹ زیرو کہتے ہیں اس لئے بیشمار عالمی تنظیموں نیز ممالک بلکہ شہروں تک نے نیٹ زیرو کے تخیل کو اپنا لیا ہے جبکہ ہمارے جیسے ممالک ابھی بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔

اس فضائی آلودگی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ میں وہ والے سلفیٹس بھی جمع ہو رہے ہیں جو گاڑیوں، بھٹیوں اور عمارات کو ٹھنڈا کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس لئے ماحولیات کی عالمی تنظیموں نے ائیر کوالٹی انڈیکس کو کم رکھنے کے لئے سخت قانون سازی اور اس پر سو فیصد عملدرامد کی سفارش بھی کی ہے۔

ابھی تک یقینی حد تک یہ علم نہیں کہ نیٹ زیرو پر پہنچ کر بھی عالمی حدت رک جائے گی۔ بلکہ نیٹ زیرو تک پہنچنے کے بعد بھی اگر صنعتی فضلے پر قابو نہ پایا جا سکا تو کارن بجٹ مزید سکڑ جائے گا۔ عالمی حدت کے اس سارے معاملے پر قابو پانے کے لئے نیز عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کو روکنے کے لئے کم سے کم گرین ہاؤس گیسوں کے ساتھ ساتھ صنعتی فضلوں پر بھی ڈرامائی کمی لانی پڑے گی۔

گو کہ کرہ ارض کے مجموعی درجہ حرارت کو ڈیڑھ ڈگری تک بڑھنے پر محدود رکھے جانے کی امید کم ہی ہے لیکن پھر بھی ہمیں ہاتھ کھڑے نہیں کر دینے چاہئیں بلکہ آگے بڑھ کر دو ڈگری سنٹی گریڈ تک پہنچنے سے دنیا کو روکنا ہو گا جس کے لئےک 1,350 سے 1,220 گیگا ٹن تک لانے میں مزید تیس برس کی گنجائش مل سکتی ہے بشرطیکہ بالعموم ساری دنیا اور بالخصوص صنعتی ممالک سختی سے اپنی قومی پالیسیوں پر عمل کریں۔ مزید برآں دنیا میں پچیس فیصد آکسیجن پیدا کرنے والے اکیلے ایمیزون کے جنگلات کو مزید کٹنے سے روکنا ہو گا۔

راقم نے بیالیس برس تک جن سترہ ممالک میں غذائی تحفظ کے شعبے میں کام کیا ہے ان میں امریکن و یورپی ممالک سے قطع نظر محض پاکستان اور گلف کے پڑھے لکھے لوگوں کی جانب سے ماحولیات کے مضمون سے نظر اندازی بلکہ الٹا تمسخر اڑانے سے یہ اندازہ لگایا ہے کی ہم جیسی آدھی دنیا کے تعاون کے بغیر عالمی ماہرین ماحولیات جتنی چاہے چیخ و پکار کر لیں یا عالمی رپورٹیں جتنی چاہے وارننگ جاری کرتی رہیں ان کی تمام کوششیں ادھوری رہ جائیں گی لہذا ہمیں انسانیت کی خاطر ماحولیات کے علم کا شعور بیدار کرنے میں خاصی محنت کرنی پڑے گی==

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں