لاہور گردی قسط نمبر 5
تحقیق و تحریر: چودھری احسان باری
“روشنیوں کے شہر کے بجھے ہوئے پردے 👈 لاہور کے سینما ہالز”
لاہور کو کبھی لالی ووڈ کا دل کہا جاتا تھا، اور ایک وقت تھا جب اس شہر میں 100 سے زائد سینما ہالز موجود تھے۔ یہ صرف عمارتیں نہیں تھیں بلکہ ایک مکمل سماجی اور ثقافتی زندگی کا مرکز تھیں۔
ایک وقت تھا جب عوام کے لیے سب سے بہترین اور سستی تفریح سینما ہوا کرتی تھی۔ ملک کے ہر شہر میں سینما گھر موجود تھے جہاں اردو اور پنجابی فلمیں نمائش کے لیے لگتی تھیں اور خوب بزنس کرتی تھیں۔ لاہور اس دور میں فلمی صنعت اور سینما کلچر کا سب سے بڑا مرکز تھا۔
لاہور میں سینما کی تاریخ بہت پرانی ہے اور اس کی بنیاد برصغیر کے ابتدائی تھیٹر کلچر سے جڑی ہوئی ہے۔ تاریخی طور پر لاہور کا پہلا معروف سینما پاکستان ٹاکیز تھا، جو ابتدا میں 1908 میں عزیز تھیٹر (Aziz Theatre) کے نام سے قائم ہوا۔ بعد میں یہ جوبلی سینما اور پھر قیام پاکستان کے بعد پاکستان ٹاکیز کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ نہ صرف لاہور بلکہ پورے خطے کے ابتدائی سینما کلچر کی بنیاد سمجھا جاتا ہے اور ایک زمانے تک شہر کی ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز رہا۔
اس قسط میں ہم لاہور کے اُن سینما گھروں کا ذکر کریں گے جو کبھی شہر کی سماجی اور تفریحی زندگی کا اہم حصہ تھے، اور آج یا تو ماضی کا قصہ بن چکے ہیں یا اپنی شکل بدل چکے ہیں۔
وقت کے ساتھ فلم انڈسٹری زوال پذیر ہوئی، معیاری فلمیں کم ہوئیں تو سینما گھر بھی آہستہ آہستہ ویران ہونے لگے۔ کئی سینماز بند ہو گئے، تالے لگ گئے، اور پھر ان کی جگہ شاپنگ پلازے، کمرشل مارکیٹس یا شادی ہال بن گئے۔ کچھ جگہوں پر یہ سینماز اسٹیج ڈراموں کے تھیٹرز میں بھی بدل گئے۔
بعد میں جب فلم انڈسٹری نے دوبارہ بہتری کی طرف سفر شروع کیا تو جدید طرز کے سینماز سامنے آئے جن میں ایئرکنڈیشننگ، جدید ساؤنڈ سسٹم اور آرام دہ نشستیں تو موجود ہیں، مگر مہنگے ٹکٹ کے باعث یہ تفریح عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئی۔
یوں سینما وہ عوامی تفریح نہ رہا جو کبھی ہر طبقے کے لیے آسان اور سستا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔
🔶 گڑھی شاہو — سینما کلچر کا اہم مرکز
یہ علاقہ کبھی لاہور کا سینما ہب سمجھا جاتا تھا جہاں کئی سینما ایک دوسرے کے قریب واقع تھے۔
کراؤن سینما وقت کے ساتھ جدید شکل اختیار کر کے سینما اسٹار میں تبدیل ہو گیا۔ تاج سینما ایک پرانا اور مقامی سطح پر مشہور سینما تھا جو بعد میں تجارتی سرگرمیوں کا حصہ بن گیا۔ ریکس سینما ایک وقت میں بہت فعال تھا لیکن بعد میں زوال کا شکار ہو گیا۔
یہ پورا علاقہ ایک “منی سینما اسٹریٹ” کی شکل اختیار کر چکا تھا جہاں چند قدم کے فاصلے پر سینماز موجود ہوتے تھے۔
مال روڈ، لکشمی چوک اور انارکلی کا سنہری دور 🔶
یہ وہ علاقے تھے جہاں لاہور کی فلمی رونق اپنے عروج پر تھی۔
پلازا سینما، ریگل سینما، ریجنٹ سینما، نشاط سینما، کیپری سینما، پیلس سینما، شبستان سینما، گلستان سینما، پرنس سینما، میٹروپول سینما اور ریویولی سینما وہ نام ہیں جو لاہور کے سنہری سینما دور کی پہچان تھے۔ یہاں بڑے پریمیئرز ہوتے، ہاؤس فل شوز لگتے اور پورا شہر ان جگہوں پر جمع ہوتا تھا۔
🔶 سمن آباد اور چوبرجی کے سینما
سمن آباد میں الممتاز سینما 1980 اور 1990 کی دہائی میں بہت مشہور تھا، جو آج اپنی فلمی حیثیت کھو چکا ہے۔ اور سینما کی عمارت کار پارکنگ کا منظر پیش کرتی ہے۔
چوبرجی کے قریب وینس سینما ایک اہم سینما تھا جو بعد میں وینس میرج ہال میں تبدیل ہو گیا۔
🔶 منصورہ اور دیگر تاریخی حوالہ
منصورہ کے قریب ثنائی اسٹوڈیو سے منسلک ایک سینما ہال بھی موجود تھا جہاں فلمی سرگرمیوں اور تجرباتی نمائشوں کی روایت رہی۔
🔶 لاہور کے تاریخی سینما (Chronological List)
لاہور کے سینما کلچر کی تاریخی ترتیب کچھ یوں ہے:
ابتدائی دور (1908–1947):
پاکستان ٹاکیز (Aziz Theatre → Jubilee Cinema → Pakistan Talkies)
ریجنٹ سینما
پلازا سینما
اوڈیون سینما
قیام پاکستان کے بعد (1947–1970):
شابستان سینما
گلستان سینما
پرنس سینما
میٹروپول سینما
ریگل سینما
کیپری سینما
نشاط سینما
ریکس سینما
انگوری سینما
ریویولی سینما
مون لائٹ سینما
سنہری دور (1970–1990):
شمع سینما
ناز سینما
نگینہ سینما
محفل سینما
رتن سینما
کوئین سینما
اوڈین اور دیگر متعدد سنگل اسکرین سینماز
جدید دور (2000 تا حال):
Cinepax — Packages Mall
Cue Cinemas — Gulberg
DHA Cinema — DHA Phase 2
Cinestar — Township (Xinhua Mall)
Cinestar — DHA Phase 6
Umniversal — Emporium Mall
🔶 زوال کی وجوہات
لاہور کے پرانے سینما گھروں کے زوال کی بڑی وجوہات میں معیاری فلموں کی کمی، وی سی آر اور ٹی وی کا بڑھتا ہوا استعمال، موبائل اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا فروغ، مہنگے ٹکٹ اور بدلتا ہوا تفریحی کلچر شامل ہیں۔
🔶 آج کی صورتحال
آج لاہور میں کئی پرانے سینما مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں، کچھ شاپنگ پلازوں یا کمرشل عمارتوں میں تبدیل ہو گئے ہیں، کچھ تھیٹر اور اسٹیج ڈراموں تک محدود ہیں جبکہ جدید سینما صرف مخصوص طبقے تک رہ گئے ہیں۔
آج تفریح کا انداز بدل چکا ہے۔ موبائل فون، یوٹیوب، نیٹ فلیکس اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے انفرادی دیکھنے کا رجحان بڑھا دیا ہے۔
یوں لاہور کے یہ سینما صرف عمارتیں نہیں بلکہ ایک گزرے ہوئے سنہرے دور کی یادیں بن چکے ہیں