عہدِ شہناز: نصف صدی کا علمی، ادبی اور تحقیقی سفر
علم، ادب، تحقیق اور تربیت کی ایک درخشاں داستان
تحریر: میاں وقارالاسلام
اردو ادب کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو صرف کتابیں نہیں لکھتیں بلکہ ایک عہد تخلیق کرتی ہیں۔ ڈاکٹر شہناز مزمل انہی بے مثال شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط اپنے علمی، ادبی، تحقیقی اور تربیتی سفر سے اردو ادب کو نئی جہتیں عطا کیں۔ ان کی شخصیت ایک ادیبہ، شاعرہ، محققہ، معلمہ، منتظمہ اور رہنما کے تمام اوصاف کا حسین امتزاج تھی۔ ان کی زندگی کا ہر دور علم، ادب، تحقیق، کردار سازی اور انسان دوستی کے فروغ کے لیے وقف رہا۔
عہدِ شہناز درحقیقت صرف ایک شخصیت کا نام نہیں، بلکہ ایک فکری تحریک، ایک ادبی درسگاہ، ایک تحقیقی روایت اور کئی نسلوں کی تربیت کی داستان ہے۔ اس عہد میں تخلیق بھی ہے، تحقیق بھی؛ ادب بھی ہے، خدمت بھی؛ اور علم کے ساتھ انسان سازی کا وہ جذبہ بھی، جس نے ہزاروں اہلِ قلم کو اپنی شناخت عطا کی۔
ڈاکٹر شہناز مزمل کا ادبی سفر پانچ دہائیوں سے بھی پہلے اپنے بچپن میں شروع ہوا، جب انہیں اپنے والدین، اساتذہ اور خاندانی علمی و ادبی ماحول کی سرپرستی میسر آئی۔ طالب علمی ہی کے زمانے میں ادب سے ان کی محبت ایک مستقل وابستگی میں بدل گئی۔ کم عمری ہی میں ان کی نظمیں، غزلیں، کہانیاں اور دیگر تخلیقات مختلف ادبی جرائد میں شائع ہونا شروع ہو گئیں اور یوں ان کے قلم نے اپنی شناخت بنانا شروع کر دی۔
یہ نصف صدی سے زیادہ پر محیط سفر محض کتابوں کی اشاعت کا سفر نہیں بلکہ علم، تحقیق، تربیت، تخلیق، ادارہ سازی اور نئی نسل کی رہنمائی کا سفر ہے۔ اس سفر میں انہوں نے نہ صرف اپنی ذات کو ایک ممتاز ادیبہ اور شاعرہ کے طور پر منوایا بلکہ ایسے ادارے قائم کیے اور ایسی ادبی روایات استوار کیں جن کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ڈاکٹر شہناز مزمل کا تعلق ایک ایسے علمی، دینی اور ادبی گھرانے سے تھا جہاں ادب زندگی کا حصہ تھا۔ ان کے والد اصل مزمل حسین قادری (حشر بدایونی) اپنے عہد کے ممتاز شاعر، افسانہ نگار، مدیر اور نقاد تھے۔ ان کے زیرِ ادارت شائع ہونے والے ادبی رسائل میں احمد ندیم قاسمی، قتیل شفائی، ادا جعفری، زہرہ نگاہ اور دیگر نامور اہلِ قلم کا کلام شائع ہوتا تھا۔ اسی ادبی ماحول نے ڈاکٹر شہناز مزمل کی شخصیت کی بنیاد رکھی اور ان کے اندر موجود تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشی۔
بعد ازاں ازدواجی زندگی اور گھریلو ذمہ داریوں کے باعث تعلیم میں وقتی وقفہ آیا، لیکن علم سے ان کا تعلق کبھی منقطع نہ ہوا۔ جب دوبارہ تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا تو ان کی تخلیقی صلاحیتیں بھی پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ سامنے آئیں۔ شاعری، تحقیق، تصنیف اور ادبی سرگرمیوں کا ایک نیا باب شروع ہوا، جو وقت کے ساتھ ایک عظیم ادبی سرمایہ بن گیا۔
آج ڈاکٹر شہناز مزمل کی 50 سے زائد علمی، ادبی، شعری، تحقیقی، دینی اور فکری تصانیف اردو ادب کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان کی تخلیقات میں شاعری، نعت، حمد، غزل، نظم، تقاریر، انٹرویوز، تحقیقی تصانیف، کلیات اور ان کی شاہکار تصنیف “نورِ فرقان منظوم مفہوم” نمایاں مقام رکھتی ہے۔ یہ تمام تصانیف اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ ان کا قلم صرف تخلیق نہیں کرتا تھا بلکہ معاشرے کی فکری اور اخلاقی تعمیر بھی کرتا تھا۔
اسی ادبی سفر کا دوسرا روشن باب ادب سرائے انٹرنیشنل ہے، جو 1987ء میں ان کی قیادت میں قائم ہوا۔ یہ ادارہ محض ایک ادبی تنظیم نہیں بلکہ سینکڑوں شعراء، ادباء، محققین اور لکھنے والوں کی تربیت گاہ ثابت ہوا، جہاں نئی نسل کو ادب کے آداب، تحقیق کے اصول اور تخلیق کے اسرار سے روشناس کرایا گیا۔
وقارِ پاکستان لیٹریری ریسرچ کلاؤڈ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے ڈاکٹر شہناز مزمل کے علمی و ادبی سفر کو محفوظ کرنے، اس پر تحقیقی کام کرنے اور اسے آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اس مشترکہ علمی سفر نے “عہدِ شہناز” کو ایک مستقل تحقیقی اور ادبی حوالہ بنا دیا، جس سے محققین، طلبہ اور ادب دوست طویل عرصے تک استفادہ کرتے رہیں گے۔
ڈاکٹر شہناز مزمل ایک شخصیت کا نام نہیں بلکہ ایک عہد، ایک درسگاہ، ایک روایت اور ایک روشن فکر کا نام ہے۔ ان کی تصانیف، ان کے قائم کردہ ادارے، ان کے تربیت یافتہ اہلِ قلم اور ان کی علمی خدمات ہمیشہ ان کے زندہ رہنے کی گواہی دیتے رہیں گے۔ عہدِ شہناز اختتام پذیر نہیں ہوا بلکہ اردو ادب کی تاریخ میں ایک مستقل باب کی صورت اختیار کر چکا ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔
60