آسٹریلیا کے شہر برسبین میں منعقدہ مینگو ملٹی کلچرل میلہ پاکستانی ثقافت، بین الثقافتی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کا شاندار مظہر بن گیا، جہاں پنجاب کے صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ میلے میں آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی، سکھ برادری اور مختلف ثقافتی و سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی جبکہ صوبائی وزیر کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
اس موقع پر سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے پاکستانی اور سکھ برادری کے افراد سے ملاقاتیں کیں اور پاکستان و آسٹریلیا کے درمیان باہمی روابط، ثقافتی تعاون اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق پنجاب حکومت اقلیتی برادریوں کے مذہبی ورثے کے تحفظ، تاریخی عبادت گاہوں کی بحالی اور مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، روادار اور کثیرالثقافتی ملک ہے جہاں تمام شہریوں کو بلاامتیاز مذہبی آزادی اور مساوی حقوق حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق، مذہبی آزادی اور مذہبی ورثے کے مکمل تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور اس ضمن میں حکومت پنجاب مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔صوبائی وزیر نے آسٹریلیا میں مقیم اوورسیز پاکستانیوں اور سکھ برادری کو پاکستان میں واقع مقدس مذہبی مقامات کی یاترا کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں سکھ، ہندو اور دیگر اقلیتی برادریوں کے مذہبی مقامات کی بحالی، تزئین و آرائش اور سہولیات کی فراہمی کے لیے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جس کے مثبت نتائج عالمی سطح پر بھی سراہے جا رہے ہیں۔انہوں نے مینگو ملٹی کلچرل میلہ کے کامیاب انعقاد پر منتظمین ناصر تاثیر، شعیب حنیف، اسلم کاہلو، سعد ملک، شاہد چوہدری اور شہزاد اسلم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آسٹریلیا میں پاکستانی ثقافت، روایات، قومی یکجہتی اور بین الثقافتی ہم آہنگی کے فروغ میں مثالی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے پروگرام نہ صرف اوورسیز پاکستانیوں کو اپنی تہذیبی شناخت سے جوڑے رکھتے ہیں بلکہ مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان احترام، محبت اور باہمی اعتماد کو بھی فروغ دیتے ہیں۔سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ مینگو ملٹی کلچرل میلہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان عوامی و ثقافتی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کی تقریبات دونوں ممالک کے درمیان دوستی، ثقافتی تبادلوں اور عوامی رابطوں کو مزید وسعت دینے میں اہم کردار ادا کرتی رہیں گی۔