147

بادام کی تھوڑی سی مقدار کھانے کے فوائد

آپ نے کئی مرتبہ سنا ہوگا بلکہ ہوسکتا ہے کہ لوگوں کو ایسا کرتے بھی دیکھا ہو کہ روزانہ بادام کو رات بھر پانی میں بھگو کر رکھنے کے بعد صبح کھالینا حافظہ یا یادداشت تیز کرتا ہے۔
مگر کیا یہ بات واقعی درست ہے؟اور اگر درست ہے تو کتنے بادام روزانہ بھگو کر صبح کھانے چاہیے؟
تو یہ جان لیں کہ بادام صرف حافظہ ہی نہیں بلکہ مجموعی افعال کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
جرنل آف نیوٹریشن اینڈ ایجنگ میں شائع ایک تحقیق میں بادام اور دماغی افعال کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا۔
تحقیق کے مطابق اس میں موجود وٹامن ای اور فائبر پولی کیمیکلز کو دماغ میں اینٹی آکسائیڈنٹ کی طرح کام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
اس طرح دماغ کو ورم سے تحفظ ملتا ہے جبکہ اس گری میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز عمر بڑھنے سے آنے والی تنزلی کی روک تھام کرتے ہیں۔
اس تحقیق سے ہٹ کر دیگر طبی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ بادام یادداشت کو بہتر بنانے کےساتھ الزائمر جیسے مرض سے بچانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
اور اچھی بات یہ ہے کہ حافظے کو تیز کرنے کے لیے بہت زیادہ بادام کھانے کی ضرورت نہیں، بس 8 سے 10 باداموں کو رات کو پانی میں بھگو کر صبح کھانا ہی موثر ثابت ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پانی میں بھگو کر بادام کھانا غذائی اجزا کو جسم میں آسانی سے جذب ہونے میں مدد دیتا ہے۔
اس کے علاوہ اس میں موجود وٹامن بی سکس پروٹینز کے میٹابولزم میں مدد دیتا ہے، جس سے دماغی خلیات میں آنے والی خرابیوں کی مرمت میں مدد ملتی ہے۔
اس میں موجود پروٹین دماغی خلیات کی مرمت کرتا ہے جبکہ دماغی افعال بشمول یادداشت کو بہتر کرتا ہے۔
خیال رہے کہ بادام میں کیلوریز کافی زیادہ ہوتی ہیں تو اس کا بہت زیادہ کھانا جسمانی وزن بڑھانے کا باعث بھی بن سکتا ہے، اس لیے 8 سے 10 دانے روزانہ کھانا بہتر ہوتا ہے۔
ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جگر کی سوزش سمیت قبض جیسی دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کو یومیہ محض 60 گرام تک بادام کھانے سے حیران کن فوائد مل سکتے ہیں۔
کنگز کالج لندن کے طبی جریدے میں شائع تحقیق کے مطابق ماہرین نے بادام کا معدے سمیت نظام ہاضمہ اور مدافعتی نظام پر پڑنے والے اثرات کےلئے محدود رضاکاروں پر ایک مختصر تحقیق کی۔
تحقیق کے لیے ماہرین نے 87 افراد کی خدمات حاصل کیں، جن میں معدے کی سوزش سمیت قبض کی بھی شکایات تھیں جب کہ ان کا نظام ہاضمہ بھی کمزور تھا۔
ماہرین نے تمام رضاکاروں کو تین گروپس میں تقسیم کرکے ایک گروپ کو یومیہ 56 گرام تک بادام کھانے کا کہا جب کہ دوسرے گروپ کو بھی اتنی ہی مقدار میں پسے ہوئے بادام کھانے کی ہدایت کی گئی جب کہ تیسرے گروپ کو پیسٹریز اور بسکٹس کھانے کا کہا گیا۔
ماہرین نے رضاکاروں کو چار ہفتوں تک پریکٹس جاری رکھنے کا کہا اور اس کے بعد ان سے سوالات و جوابات کرنے سمیت ان کے کچھ ٹیسٹس بھی کیے گئے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ بادام میں ’بٹائریٹ سین تھیسز‘ نامی اجزا کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو کہ ’بٹائرک‘ایسڈ کی مقدار کو بڑھانے کا کام کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ’بٹائرک‘ نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے والے اجزا کو طاقتور بنانے کا کام کرتے ہیں، جس سے معدے سمیت دیگر اعضا میں پیدا ہونے والی سوزش بھی بہتر ہوسکتی ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ یومیہ محض 56 گرام بادام کھانے والے افراد میں ’بٹائرک‘ایسڈ کی مقدار بہتر ہونے سے ان کا معدہ بہتر ہوتا ہے جب کہ ان کے قبض سمیت نظام ہاضمہ کے دیگر مسائل بھی بہتر ہونے کی توقع ہے۔ ماہرین کے مطابق بادام کھانے سے انسان کا نظام ہاضمہ بہتر ہونے کی وجہ سے مدافعتی نظام بھی درست ہوسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں