وفاقی حکومت نے پنشن اصلاحات سےمتعلق آئی ایم ایف کے مطالبے پر سرکاری ملازمین کی پنشن کے حساب کتاب کا طریقہ کار تبدیل کردیا،اس سلسلے میں جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی حکومت نے سرکاری افسران اورملازمین پر ڈبل پنشن لینے پر پابندی عائد کردی ہے،پنشن کی نئی شرائط عائد کرنے سے قومی خزانے کوسالانہ اربوں روپے کی بچت ہوگی،رپورٹ کے مطابق اہم عہدوں پر فائز افسران صرف ایک پنشن حاصل کرنے کے مجاز ہوں گے،نوٹیفکیشن کے مطابق سالانہ اضافہ پہلی پنشن پر لاگو کیا جائے گا،آئندہ پنشن سروس کے آخری 24ماہ کی بنیاد پر مقرر کی جائے گی،اس اقدام سے ریٹائر ہونے والے ملازمین کو پنشن کی مد میں کم پیسے ملیں گے،پے اینڈ پنشن کمیشن ہر 3سال بعد بنیادی پنشن پر نظرثانی کرے گا،وزارت خزانہ نے پے اینڈ پنشن کمیشن 2020کی سفارشات فوری نافذ کردی ہیں اور اس ضمن میں آئی ایم ایف کوبھی آگاہ کردیاگیاہے ۔نوٹیفکیشن کے مطابق ریٹائرڈ ملازمین کسی ادارے میں دوبارہ نوکری کرنے پر تنخواہ یا پنشن لیں گے۔ ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن اور تنخواہ دونوں یکمشت نہیں ملیں گی۔ ریٹائرڈملازمین کو نوکری ملنے پر ساری زندگی پنشن نہیں ملے گی جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی بیوی ریٹائرمنٹ تک پہنچی ہوئی تو پنشن مل سکے گی۔ پنشن میں سالانہ اضافہ بھی ایوریج تنخواہ کے مطابق ملنے والی پنشن پر ہو گاہ وزارت خزانہ نے ریٹائر ڈ وفاقی ملازمین کیلئے پنشن اصلاحات متعارف کرا دیں،یہ اصلاحات پے اینڈ پنشن کمیشن 2020 کی سفار شات کی روشنی میں کی گئی ہیں۔وزارت خزانہ نے ریٹائر ہونے والے ملازمین کیلئے پنشن اصلاحات پرتین الگ الگ نوٹیفکیشن جاری کر د یئے ہیں۔
98