سوال نمبر2-اردو زبان کیلیے پنجاب کی خدمات کے بارے میں تفصیل سے لکھیں-
جواب نمبر 2-
اردو کے لسانی محققین نے اردو زبان کے آغاز تشکیلی عناصر اور اسے وابستہ متنوع سیاسی،سماجی اور تاریخی کے عوامل کے بارے میں خوب ہی داد تحقیق دی اور مختلف خطوں یا زبانوں سے اردو زبان کا تعلق قائم کیا-
اس ضمن میں دو نظریات نے خصوصی شیرت حاصل کی-
پنجاب میں اردو از حافظ محمود شیروانی 1928
دکن میں اردو از نصیر الدین ہاشمی 132
حافظ محمود شیروانی کی تالیف ( پنجاب میں اردو) نصیر الدین ہاشمی کی (دکن مین اردو) کے پانچ برس بعد طبع ہوئی لیکن اس لسانیات کی دنیا میں خصوصی شہرت حاصل کی،آگرچہ آغاز میں اسکی خاصی مخالفت بھی ہوئی لیکن اب بلعموم یہ نظریہ درست تسلیم کیا جاتا ہے،بلخصوص پاکستان میں-
علامہ اقبال کے ذہن مین جو بات تھی اسکو عملی جامہ پہنانے کی سعی میں حافظ محمود شیروانی مصروف عمل تھےاردو زبان مین تحقیق اور محقق کی پرکھ کیلیے خؤآن کتنا ہی بلند اور کڑوا میعار کیوں ںہ قائم کریں حافظ محمود شیروانی اس پر پورا اترتے ہیں-
پنجاب میں اردو کے مضبوط بنادوں پر ایک لسانی تصور بننے سے پہلے ہی اہل پنجاب میں یہ احساس پیدا ہو رہا تھا کہ اردو کے آغاز،صورت پذیری اور نشونما میں پنجاب کا بھٰٰی خاصا کردار ہے-
پنجاب میں اردو کا دوسرا نظر ثانی شدہ اورآضافوں والا ایدیشن 1949( لاہور) پھر تیسرا ایڈیشن 1963 (لاہور) اور اسکے بعد متعدد ایڈٰیشن چھپتے رہے-1988 میں مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد نےحصہ اول شائع کیا-
( پنجاب میں اردو ) خاصی متناذعہ کتاب ثابت ہوئی اور لسانیات کے ماہرین اور محققین نے اس تصور پر اعتراضات کیے-یہ اعتاضات علمی کم اور جذباتی زیادہ تھے لیکن اہستہ اہستہ نہ صرف یہ کہ اس تصور کو تسلیم کر گیا بلکہ بعد کے محققین ایس مواد بھی لاتے رہے جس سے اس تصور کی علمی احساس مستحکم ہوتی گئی.اس تصور کو اردو لسانیات کا سدا بہار نضریہ کہنا غلط نہ ہو گا-
چناچہ ڈاکٹر جمیل جالبی کے الفاظ میں:
” پنجاب میں اردو کا اردو سے وہی تعلق ہے جو ایک ماں کا اپنی بیٹی سے ہوتا ہے بیٹی بیاہ کر اپنےسسرال چلی جاتی ہے لیکن ماں اور بیٹی کا ازلی رشتہ اسی طرح قائم رہتا ہے اور چونکہ کبھی ڈائن نہیں بں سکتی اس لیے اردو اہل پنجاب کا رشتہ ناتہ اسی طرح قائم ہے” تاریخ ادب اردو(جلداول) لاہور1975ص598)
پنجاب مین اردو کا نظریہ حافط محمود شیروانی کے الفاظ پیش ہے-( بحوالہ مقتدرہ قومی زبان ایڈیشن1988)
“ہم اردو کے آغاز کو شاہ جہاں یا اکبر کے دربار اور لشکر گاہوں کے ساتھ وابسطہ کرنے کع عادی ہیں لیکن یہ زبان اس زمانے سے بہت قدیم ہےبلکہ میرے خیال مین اسکا وجود انہی ایام سے ماننا ہوگاجب سے مسملمان ہندوستان مین اباد ہیں-اردو کی قدامت کا اسسے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو گا کہ گجرات دکن میں اس زبان مین دسویں صدی ہحجری کی ابتدا یعنی بابر کی امد کے قبل سے ادبیات کا سلسلہ جاری ہو جاتا ہے(ص:6) کہا جاتا ہے کہ مغربی ہند جسکی برج بھاشا،ہرانی راجستانی پنجابی ارو اردو شاخیں پراکرت سوراسینی کی یادگار ہے لیکن جس زبان سے اردو ارتقا پاتی ہے وہ نہ ہی برج ہےنہ ہریانی نہ تنوجی ہے بلکہ وہ زبان ہے جو صرف دہلہ اور میرٹھ کے علاقوں میں بولی جاتی تھی(ص:7)اردو دہلی کی قدیم زبان نہیں ہے بلکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ دہلی میں جاتی ہےاورچونکہ مسلمان پنجاب سے ہجرت کر کے جاتے ہیں اسلیے ضروری ہے کہ وہ پنجاب سے کوئی زبان ساتھ لے کر گئے ہو گے(ص8) ہم دیکھتے ہیں کہ اردو اپنی و صرف ملتانی زبان کے بہت قریب ہے-دونوں زبانیں تذکیرو تانیث کے قواعد ،فعال مرکبات و توابع مین متحد ہیں-
پنجابہ و اردو میں ساٹھ فیصد سے زیادہ الفاظ مشترک ہیں-(ص:8) یہ امور اردو اور پنجابی کی اشتراک قدیم کے بہن دلائل ہیں(ص:9)اگر ال غزنہ سے بہشتر مسلمانوں کو کوئی زبان اختیار کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تو اس عہد میں جو خاصہ داد ہے وہ پنجاب مین کوئی نا کوئی زبان سرکاری ،تجارتی معاشرتی اغراض سے اختیار کر لیتے ہیں جس کو غوریوں کے دارالسلطنت لاہور سے دہلی جاتا ہے-اسلامی فوجیں اور دوسرے پیشہ ور اپنے ساتھ دہلی لے جاتےہیں-دیلی میں زبان برج اور دوسری زبانوں کے دن رات باہمی تعالقات کی بنا پروقتآ وفوقتآ قبول کرتی ہے-اور رفوہ رفوہ اردو کی شکل مین ربدیل ہو جاتی ہے-پنجاب کا اردو کے ساتھ تعلق اسکے ساتھ ختم نہیں ہو جاتا بلکہ بعد کت زمانے میں بھی سیاسی اسباب اس تعلق میں تجدید پیدا کرتے رہتیں ہیں-
تغلق آٹھویں صدی میں سید اور لودھی نویں صدیں میں ایسے خاندان ہیں جو خاصپنجاب سے نکل کر دہلی اتے ہیں انکے لشکر پنجاب اور پنجابیوں سے تعلق رکھتے ہیں-اسلیے کوئی تحجب نہیں کہ ان نوواردوں نے دہلی کہ زبان پر کوئی اثر ڈالا ہو(ص:10)اسلامی سلطنت بہت جلد دہلی پہنچ کر مرکزی حثیت حاصل کر لیتی ہے اس لیے یہ زبان اسلامی لشکروں،مہاجرون اور نو ابادکاروں کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے ہے گوشے میں پہنچ جاتی ہے-خ دو کےلجی اسکو گجرات اور دکن پہنچاتے ہیں-محمد تغلق جب آٹھویں صدی ہجری میں دہلی کو اجاڑ کر دولت اباد کع اباد کرتا ہے تو یہ زبان دکن میں نو ابادکاروں کی زبان بان جاتی ہے-گجرات و دکن مین دسوین صدی ہجرہ میں اس مین تصنیف و تالیف کا سلسہ شروع ہو جاتا ہے گویا دکن و گجرات میں اردوکے علیحدہ علیحدہ مرکز قائم ہو جاتے ہیں-ایل گجران اسکع نویں صدی ہجری میں زبان دہلوی کے نام سے ےاد کرتے ہیں-لیکن انے والئ صدی مین گجراتی کا گوجری کہنے لگ جاتے ہیں،اسی طرح دکن مین بھی یہ زبان پہلے پہل زبان ہندوستان کہلائی بعد کو دکنی کہنے لگ گئے-
اردو زبان کے لیے پنجاب کی خدمات-
حافظ محمود شیروانی ہندوستان کت مختلف علاقوں میں ہندوستان میں ہندوستان کی ترویج کے بعد پنجاب کی خدمات کے ضمن مین لکھتے ہیں- ( پنجاب میں اردو کا نیا مرکز قائم ہوتا ہے-ص:214
اس سلسے میں انھوں نے مولانا عبدی، شیخ محمد فاضل الدین بٹولوی اور ان کے فرذند شیخ غلام قادر،شیخ محمد جان،شیخ نصیرالدین،محمد غوث،نامدار خان دت،دلشاد پرسروری،غلام قادر جلال چوریہ اور ان کشن کے اسماء اور کاوشوں کا بطور خاص ذکر کیا ہے-
حافظ محمود شیروانی نے عربوں اور مسلمانوں کے پنجاب کے خطہ سےتعلقات کی قدامت ثابت کرنے کے بد لکھا،
جب مسلمان سندھ و پنجاب پر قابض ہو گئے تو یہا ں بھہ کوئی زبان اختیار کرنے کی ضرورت ہوئی ہو گی اگر سندھ مین نہیں تو پنجاب میں لازمی کوئی نہ کوئی زبان اختیار کرنی پڑی ہے-
(ص:44)مولانا محمد آزاد نے ” آب حیات مین لکھا،
اتنی بات ہر شخص جانتا ہے کہ یمارہ اردو زبان برج بھاشا سے نکلی ہےاور اج بھاشا خاص ہندوستانی زبان ہے- (آب حیات لاہور1950)
حافظ محمود شیروانی اسکی تردید اس الفاظ میں کرتے ہیں-
جب ہم اردو کے ڈول اور اسکی ساخت و ضع قظع کو دیکھتے ہیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسکا ڈھنگ اور ہے برج بھاشا کا رنگ اور ہے-دونوں کے قوائد و ضوابط اصول مختلف ہیں اردو برج کو مقابلہ میں پنجابی بلخصوص ملتانی سے مماثلت رکھتی ہے- برج سے ضند ترمیمیں قبول کر لینا یا الفاظ مستعار لینا دوسری بات ہے- لیکن جہاں برگ سے اسنے الفاظ مستعار لیے ہیں وہاں برج پر بھہ اثر ڈالا ہے اور برج پر کیا موقوف ہے-ہندوستان کہ دوسری زبانیں بھہ اردو کے پرتو سے کالی نہیں( ص:44)
پنجاب میں اردو کے سلسے میں لسانی شواہد کے بعد حافظ محمود شیروانی لاہور کی مرکزی حثیت کے طارے میں لکھتے ہیں-
مسلمانوں کا یہ کثیر تعداد جو تجارت،فوجی،سرکاری،کدمت کہ غرض سے پنجاب مین ان دنوں میں آباد تھی پنجاب کو ہی اپنا وطن تصور کرنے لگ گئی تھی-لاہور اس عہد کے مسلمانوں کا مرکز بن گیا تھا-پنجاب انکی نگاہ مین ایک فتح کردہ ملک نہیں تھا بلکہ وہ اس پر وطن کی حثیت سے نگاہ ڈالتے تھے-
723