704

سوال نمبر3 – نصیر الدین ہاشمی کی تحقیق کے مطابق اردو زبان کا آغاز و ارتقا دکن میں ہوا-اس نظریہ کی وضاحت کرہں-

سوال نمبر3 – نصیر الدین ہاشمی کی تحقیق کے مطابق اردو زبان کا آغاز و ارتقا دکن میں ہوا-اس نظریہ کی وضاحت کرہں-
جواب نمبر 3 –
نصیر الدین ہاشمی دکن کے نامور محقق اور ماہر لسانیات تھے-اورشائد اسی لیے انھون نے اردو زبان کے آغاز اور نشوونما کے سلسلے میں اپنے علاقہ کی اولیت اور آہمیت کا احساس کرانے کی کوشش کی-مگر یہ جذباتی بات نہ تھی کیونکہ انھوں نے اپنے نظریےکی اساس تاریخی،عمرانی،اور لسانی پر استوار کیا-
عرب و ہند کے تعلقات ( 1935) اور عربوں کے جہازرانی (1935) ان دونوں کتابون کے مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے مسلمان جنوبہ ہند کے سواھل پر سوار ہوئےبلخصوص مالیار اور کرٹانک مین وہاں کی ہندو رہاستوں میں انہین عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا-اس سلسلے مین ڈاکٹر تاراچند اسلام کا” ہندوستان تہذب پر اثر”میں رقم طراز ہیں-
اس زمانے میں مسلمانوں نے یقینا بہے اہمیت اختیار کر لی تھی وہ ماپلا کیلاتے تھے- جس کے معنی ہے کہ ایک ممتاز لڑکایا دولہا اور یہ ایک عزت کا لقب سمجھا جاتا تھا- مسلمانوں کو اور حقوق بھی حاصل تھے ایک مسلمان برہمن کے برابر بیٹھ سکتا ہے-
( اسلام کا ہندوستانی تہزیب پر اثر-دلی 1972 ص 60 )
اسلام تنلیغ اسلام ہے چناچہ صوفیا کرام اور ارفع کردار کی حامل دینی شخصیات نے تمام ہنوستان کو اپنی تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز بنائے رکھا-چناچہ جنوبی ہند کے سواھل سے لیکر بنگال ،آڑیسہ،تامل ناڈو دوردراز کے علاقوں میں انھوں نے اسلام کی شمع روشن کی-
مسلمانون کی مذہبی زبان عربی تھی تو فارسی تعلیمی زبان-ان دونوں زبانوں اور مقامی زبانوں ( جیسے تامل،ہند ملیالم،کونکی،کنٹری وغیرہ)
کے الفاظ کے امیزش کے جس عمل کا غیر شعوری طور پر آغاز ہوا کچھ عرصہ بعد ایک بولی کی صورت اختیار کر لیتا ہے-ایسی بولی جو کسی مخصوص علاقہ کے متعلق نہ ہونے کے باوجود بھی علاقی کے افراد کے لیے کارآمد ثابت ہوتی ہے-شائد اسی لیاے اس کا ایک نام نہ تھا-گجرات ( پنجاب والا نہیں) میں یہ گوجری کہلاری ہے تو دکن میں دکنی جبکہ دیلی میں ہندی ریخیہ کہلائی بعض اوقات اسے زبان دیلوی اور زبان ہندوستان بھہ کہا گیا-
زبان کی نشوونما کا عمل جاری تھا کہ دیلی کہ مسلمان حکمرانوں نے دکن کا رخ اختیار کیا-علاوالدین خلجی سے عسکری فتوحات کا آغاز ہوتا ہے-محم تغلق نت 1326 میں دارالحکومت کی حثیت سے دہلی کع نا موزوں پاتے ہوئے دکن کے ایک شہر ویوگری کو دولت آباد کا نام دے کر پایہ تخت بنانے کا اعلان کیا اور اپنے ساتھ اراکین دربار لشکر اور دیلی کی تمام ابادی کع دیوگری جانے کا حکم صادر کیا-
لہزا ہزارون لاکھون کی تعداد مین افراد نے ترک وطن کیا مگر قلیل مدت بعد ہی محمد تغلق کو اپنے غلط فیصلے کا احساس ہو گیااور یون سب کو واپسی کا حکم دیا-مگع اس مرتبہ بہت سے لوگوں نے دہلی پر نئی دھرتی پر ترجیح دی-یوں مقامی آبادی اور دیلی کے سے متعلق افراد کے وسیع سماجی روابط کا آغاز ہوتا ہے لہذا حافظ محمود شیرانی لکھتے ہیں کہ
” محمد تغلق جب آٹھویں صدی ہجری میں دولت آباد آباد کرتا ہے تو یہ زبان دکن میں مسلمان آبادکارون کی زبان بن جاتی ہے-
( پنجاب میں اردو ص11)
حافظ محمود شیرانی کے اقتباس کے ساتھ نصیر الدین ہاشمی کا بیان ملا لے تودکن میں اردو کے آغاز کی داستان مکمل ہو جاتی ہے
ہاشمی صاحب دکن مین اردو مین لکھتے ہے کہ
” یہ فاتح جو زبان دکن میں لے کر ائے یہا آذادانہ نشوونما کرنے لگی کیونکہ اس کے مقابلے میں کوئی اور زبان جو اس کے آگے بڑھنے میں رکاوٹ پیدا کرے یہا نہیں تھی-یہ زبان جو مسلمانوں کے ساتھ دکن پہنچی عام طور پر پردیسی اور دیسی دونوں نے استمعال کی-
غرضیکہ اس جدید زبان کا یہا خیرمقدم ہوااور یر شخص اسکو بولنے لگا اور وہ کام کاج میں بھی انے لگی-
نصیر الدین ہاشمی نے اردو کی ابتدا اور ارتقاء کے لیے مندرجہ زیل ادوار قائم کئے ہیں-

پہلا دور بہمنی دار 747ھ تا 900
دوسرا دور قطب شاہی و عادل شاہی اردو 901ھ تا 1100ھ
تیسرا دور مغلیہ اردو 1100ھ تا 1136ھ
چوتھا دور سلطنت آسفیہ اوراردو 1136 ھ تا 1220 ھ
پانچواں دور سلطنت آسفیہ اوراردو 1220 ھ تا 1301 ھ
چھٹا دور سلطنت آسفیہ اوراردو 1301 ھ تا 1336 ھ
ساتواں دور سلطنت آسفیہ اوراردو 1336 ھ تا 1475 ھ
آٹھواں دور آندرا میں اردو 1376ھ تا 1376ھ تا 1556 ء

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں