60

عبوری ضمانت کی درخواست، فواد چوہدری، حماد اظہر کے وکلاء کے دلائل مکمل

انسدادِ دہشت گردی عدالت میں عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران پی ٹی آئی رہنماؤں فواد چوہدری اور حماد اظہر کے وکلاء کے دلائل مکمل ہو گئے۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت نے فواد چوہدری اور حماد اظہر کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت شروع کی تو دونوں پی ٹی آئی رہنما عدالت میں پیش نہ ہو سکے۔
فواد چوہدری کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ دونوں رہنما راستے میں ہیں، کچھ دیر میں پیش ہو جائیں گے۔
دونوں کے ضمانتی مچلکے جمع نہ ہونے پر عدالت نے اظہارِ ناراضی کیا اور فاضل جج نے وکیل سے کہا کہ آپ نے ضمانتی مچلکے کیوں جمع نہیں کرائے؟ آج میں دونوں کو گرفتار کراتا ہوں۔
اتنی دیر میں فواد چوہدری اور حماد اظہر عدالت میں پیش ہو گئے۔
فاضل جج نے ان سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ دونوں نے ضمانتی مچلکے جمع نہیں کرائے، آپ دونوں آج تک عبوری ضمانت پر نہیں تھے، آپ کو پولیس گرفتار کر سکتی تھی۔
فواد چوہدری نے جواب دیا کہ شکر ہے کہ پولیس کو پتہ نہیں چلا۔
فاضل جج نے کہا کہ ابھی میں نے آرڈر نہیں لکھوایا، پولیس کو کہا تھا کہ آپ لوگ آئیں تو گرفتار کر لیں، مگر آپ آرڈر لکھوانے سے پہلے پیش ہو گئے ہیں، ضمانتی مچلکے جمع کرائیں اور دلائل کا آغاز کریں۔
اس موقع پر جے آئی ٹی کے سربراہ عمران کشور عدالت کے روبرو پیش ہو گئے۔
پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری روسٹرم پر آ گئے اور استدعا کی کہ اجازت ہو تو میں بول سکتا ہوں؟ عدالت کو کچھ بتانا چاہتا ہوں۔
فاضل جج نے کہا کہ آج کل آپ کے پاس کوئی وزرات نہیں، آپ کی وکالت چل سکتی ہے، آپ وکالت کے لیے بول سکتے ہیں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ میرا وکالت کا لائسنس بحال ہو چکا ہے، ہائی کورٹ میں جے آئی ٹی کو چیلنج کر رکھا ہے۔
فاضل جج نے کہا کہ ہائی کورٹ نے کام سے نہیں روکا۔
فواد چوہدری نے کہا کہ بالکل ہائی کورٹ نے تفتیش سے منع نہیں کیا، ہمیں مقدمے سے ڈسچارج کیا جائے، یہ مقدمہ خارج ہونا چاہیے۔
فاضل جج نے کہا کہ آپ نے ضمانتی مچلکے جمع نہیں کرائے اور مقدمہ خارج کرانے چلے ہیں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ جی سر! قانون اسی طرح ڈیولپ ہوتا ہے، عدلیہ کی عزت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
فاضل جج نے کہا کہ ضمانتی مچلکے جمع ہوئے نہیں اور مقدمے کا اخراج مانگ رہے ہیں۔
فاضل جج نے کہا کہ سب سے پہلے آپ نے ہی کام شروع کیا تھا، جے آئی ٹی کے سربراہ عمران کشور بھی آپ کو گرفتار کرنے پہنچ گئے ہیں۔
فاضل جج اعجاز احمد بٹر نے جے آئی ٹی کے سربراہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ عمران کشور! انہوں نے ضمانتی مچلکے جمع کرا دیے ہیں۔
جج نے ملزم کے وکیل سے مخاطب ہو کر کہا کہ کوئی ایک مقدمہ بتا دیں جو کسی وقوعہ کے بغیر ہوا ہو، انکوائری کی سطح پر بدنیتی کا عنصر کہاں سے آ گیا؟
ملزم کے وکیل نے جواب دیا کہ ظل شاہ کیس میں پولیس نے مختلف مؤقف لیا۔
فواد چوہدری نے کہا کہ ہائی کورٹ میں اسی نوعیت کے مقدمات کے خلاف درخواست زیرِ سماعت ہے۔
عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹ کے پاس اختیارات ہیں کہ وہ مقدمات خارج کر دے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ قانون کی پاسداری رہنی چاہیے۔
فاضل جج نے سوال کیا کہ آپ نے خود قانون کی پاسداری کی تھی؟ عمران کشور صاحب! جب تک کوئی ملزم مچلکہ جمع نہیں کراتا اس کی ضمانت منظور نہیں ہوتی۔
عدالت میں حماد اظہر اور فواد چوہدری کے وکلاء کے دلائل مکمل ہو گئے۔
عدالت نے کہا کہ دلائل اس لیے سن لیے ہیں تاکہ آئندہ کیس دلائل کی وجہ سے نہ رہ جائے، اس کیس میں ابھی ایک ملزم نہیں آیا، کیس کا فیصلہ اکٹھا ہی کریں گے۔
اس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں