7

سال 2025ء میں 39 ہزار 786 مسافر آف لوڈ کیے گئے، ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ڈاکٹر عثمان انور نے 2025ء میں آف لوڈنگ ڈیٹا کی تفصیلات پیش کردیں۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین راجا خرم نواز کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ سال 2025ء میں 39 ہزار 786 مسافروں کو مختلف وجوہات پر آف لوڈ کیا گیا۔

ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق 20 ہزار 408 مسافروں کو مطلوبہ سفری دستاویزات مکمل نہ ہونے پر آف لوڈ کیا گیا، 12 ہزار 673 مسافروں کو مشکوک سفری پیٹرن اور ہائی رسک مقامات کے باعث روکا گیا۔

ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق 3 ہزار 450 افراد کو اسٹاپ لسٹ اور انٹرپول ریکارڈ کی بنیاد پر آف لوڈ کیا گیا، 505 مسافروں کو غلط سفری روٹ اختیار کرنے پر روک دیا گیا۔

ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ 281 افراد جعلی دستاویزات کے استعمال پر آف لوڈ کیے گئے، 176 مسافروں کو غیر معمولی سفری رکارڈ کی بنیاد پر روکا گیا۔

ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ 145 کیسز میں ویزا، پروٹیکٹر اور دیگر دستاویزات کی مزید تصدیق ضروری قرار دی گئی، 258 کم عمر مسافروں کو سفری خدشات کے باعث آف لوڈ کیا گیا۔

ڈی جی ایف آئی اے نے شرکاء کو بتایا کہ 24 افراد کو وزٹ ویزے پر بیرون ملک ملازمت کی تلاش کے شبے میں روکا گیا۔

ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ یورپی یونین اور اٹلی نے پاکستان سے غیر قانونی امیگریشن پر شدید تحفظات کا اظہار کیا، بیلاروس سے پولینڈ غیرقانونی بارڈر کراسنگ واقعات پر یورپی یونین نے تشویش ظاہر کی۔

ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ 580 پاکستانی شہری بیلاروس جانے کے بعد واپس نہیں لوٹے جبکہ برطانیہ کےلیے اسٹوڈنٹ ویزے پر پاکستانیوں میں تقریباً 10 ہزار افراد نے ویزوں کا غلط استعمال کیا۔

ڈی جی ایف آئی اے بتایا کہ اسٹیڈی ویزے کے غلط استعمال کے باعث متعدد ممالک نے اپنی ویزا پالیسیوں پر نظرثانی کی، غیرقانونی امیگریشن اورانسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے نگرانی مزید سخت کردی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں