اچھرہ میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ، جہاں تین معصوم بچوں کی جان ان کی اپنی ماں کے ہاتھوں گئی، صرف ایک خبر نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے اندر چھپے کئی المیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ سانحہ دل دہلا دینے والا ہے، مگر اس سے بھی زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ یہ ایک ایسے رشتے میں ہوا جسے دنیا کا سب سے محفوظ اور مقدس رشتہ سمجھا جاتا ہے۔اچھرہ میں تین کمسن بچوں کے قتل کا سنسنی خیز معمہ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور تفتیشی مہارت کی مدد سے حل کر لیا۔ پولیس کے مطابق اس افسوسناک واقعے میں بچوں کی اپنی ماں ہی ملوث نکلی، جسے حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ماں کو ہمیشہ محبت، قربانی اور تحفظ کی علامت کہا جاتا ہے۔ لیکن جب یہی رشتہ ٹوٹ کر ایک بھیانک انجام تک پہنچ جائے، تو سوال صرف ایک فرد کا نہیں رہتا بلکہ پورا معاشرہ کٹہرے میں آ کھڑا ہوتا ہے۔ کیا ہم واقعی اپنے اردگرد موجود لوگوں کے مسائل کو سمجھنے اور ان کا بروقت حل نکالنے میں کامیاب ہو رہے ہیں؟
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس افسوسناک واقعے کی وجہ گھریلو ناچاکی بتائی جا رہی ہے۔ اہل علاقہ کے مطابق یہ خاندان بظاہر معمول کی زندگی گزار رہا تھا، تاہم اندرونی مسائل کے بارے میں کسی کو مکمل علم نہیں تھا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہمارے معاشرے میں گھریلو جھگڑے، معاشی دباؤ، اور ذہنی تناؤ عام ہیں، مگر ان مسائل کو سنجیدگی سے لینے کی روایت کمزور ہے۔ اکثر اوقات خواتین اپنی مشکلات کو خاموشی سے برداشت کرتی رہتی ہیں، یہاں تک کہ حالات ایک خطرناک موڑ اختیار کر لیتے ہیں۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا ہمارے پاس ایسا کوئی موثر نظام موجود ہے جہاں ایک پریشان حال ماں جا کر اپنی ذہنی کیفیت بیان کر سکے؟ کیا ہمارے گھروں میں، محلوں میں یا اداروں میں ایسی سپورٹ موجود ہے جو کسی کو اس حد تک پہنچنے سے روک سکے؟ بدقسمتی سے، جواب زیادہ تر نفی میں ہی آتا ہے۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ذہنی صحت کا مسئلہ ابھی تک ہمارے معاشرے میں ایک “شرمندگی” سمجھا جاتا ہے، جس پر بات کرنے سے لوگ کتراتے ہیں۔ حالانکہ یہی وہ پہلو ہے جسے نظرانداز کرنے کی قیمت بعض اوقات اتنی بھیانک صورت میں سامنے آتی ہے۔
ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے واقعات کی مکمل اور شفاف تحقیقات کریں اور قانون کے مطابق انصاف فراہم کریں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ، یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری بھی ہے کہ ہم اپنے اردگرد موجود لوگوں کے مسائل کو سنیں، سمجھیں اور ان کی مدد کریں۔
یہ سانحہ ایک وارننگ ہے — اگر ہم نے اب بھی اپنے معاشرتی رویوں، خاندانی نظام، اور ذہنی صحت کے حوالے سے سنجیدگی اختیار نہ کی، تو ایسے واقعات محض خبریں بنتے رہیں گے اور ہم صرف افسوس کے الفاظ دہراتے رہیں گے۔
آخر میں پھر میرا سوال کرنا تو بنتا ہے کہ
کیا ہم صرف اس واقعے پر افسوس کریں گے، یا اس سے کچھ سیکھ کر اپنے معاشرے کو بہتر بنانے کی کوشش بھی کریں گے
76