7

‏ریاستی بے بسی اور جعفر ایکسپریس – ڈاکٹر صغرا صدف

بلوچستان میں عیدوں اور خوشیوں کے مواقع پر جعفر ایکسپریس کو نشانہ بنانا محض دہشت گردی نہیں بلکہ انسانیت، ریاست اور معاشرتی سکون کے خلاف کھلی درندگی ہے،ہر سانحے کے بعد صرف مذمت اور درندوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے دعوے سننے کو ملتے ہیں مگر حالات میں کوئی بہتری نہیں آتی بلکہ خونریزی روٹین بن چکی ہے .
‏ایسے میں اب عوام کے ذہن میں ایک جائز سوال اُبھرنےلگا ہے کہ جب سیکیورٹی پر اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں تو حساس علاقوں میں سفر کرنے والے فوجیوں اور دیگر مسافروں کے تحفظ کے لیے مؤثر اور غیر معمولی اقدامات کیوں نہیں کیے جاتے؟
‏اگر خطرات اتنے سنگین ہیں کہ ٹرینیں بار بار نشانہ بن رہی ہیں تو پھر بہت پہلے فوجی جوانوں کو ہیلی کاپٹروں یا جہازوں کے ذریعے منتقل کرنے پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے تھا کہ اخراجات بچانے کے مقابلے میں انسانی جانوں کی قیمت کہیں زیادہ ہے.
‏پنجاب سمیت پورا پاکستان اپنے جوانوں کو ریاست کی حفاظت کے لیے بھیجتا ہے،مرکز سے بھاری فنڈز ملنے کے ساتھ ساتھ حال ہی میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی بلوچستان حکومت کو سیکیورٹی کے لیے دس ارب روپے دئیے . تو عوام خصوصا پنجاب کےلوگوں کی یہ توقع بالکل فطری ہے کہ بدلے میں انہیں تابوت اور بکھری لاشیں نہیں بلکہ زندہ سلامت فوجی جوان، محفوظ خاندان اور پُرامن شہری واپس ملیں.
‏ریاست کی اصل کامیابی صرف دہشت گرد مارنے میں نہیں بلکہ اپنے لوگوں کو زندہ بچانے میں ہوتی ہے.
‏ایسے سانحات پورے ملک کو غمزدہ کر دیتے ہیں، مگر اصل قیامت اُن گھروں پر ٹوٹتی ہے جہاں تخریب کا ایک لمحہ پوری دنیا ہی اُجاڑ دیتاہے،
‏فوجی جوان صرف وردی پہنے اہلکار نہیں ہوتے، وہ کسی ماں کے بیٹے، کسی بچے کے باپ، کسی بہن کے بھائی اور کسی عورت کا ہمسفر ہوتے ہیں، ریاست کی ذمہ داری مختلف ملکوں کی مدد سے درندگی کا کھیل کھیلنے والے درندوں کی سرکوبی کے مشن میں اُنہیں ممکن حد تک محفوظ رکھنا بھی ہوتا ہے.
‏خدارا ہمارے جوانوں کی زندگی کو اتنا ارزاں نہ سمجھا جائے کہ ماؤں کے دلوں میں خوف اور مایوسی اتنی گہری ھو جائے کہ بیٹوں کو آنچل کی چھاوں سے دور نہ ہونے دیں . قومیں اپنے محافظوں کی قربانی پر فخر ضرور کرتی ہیں، مگر دانشمند ریاستیں اُن قربانیوں کو کم سے کم کرنے کی کوشش بھی کرتی ہیں.
‏پاکستان کے ہر صوبے کی ماوں کی پکار سُنیں اور دہشت گردوں کو سہولت کاروں سمیت نیست و نابود کر دیں . ورنہ اس اسلحے اور طاقت کے دعوے کرنا بند کر دیں .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں