35

18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ 27-2026 پیش

وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے 18 ہزار 771 ارب سے زائد کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔

بجٹ 27-2026 میں حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پنشن میں اضافے، سپر ٹیکس ختم کرنے اور جائیداد کی خرید و فروخت و منتقلی پر ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجاویز دی گئی ہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت ایوان زیریں کے اجلاس کا آغاز تلاوت قران پاک سے ہوا۔ اس دوران وزیراعظم شہباز شریف ایوان میں پہنچے تو حکومتی ارکان نے ڈیکس بجا کر ان کا استقبال کیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو بجٹ تقریر کا کہا، جس کے بعد وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر شروع کرتے ہوئے کہا کہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں اپنی حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کر رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ بنیان مرصوص میں کامیابی ایک روشن باب ہے۔ گزشتہ سال بھارت کو منہ توڑ جواب دیا گیا، آج پوری دنیا پاکستان کی دفاعی طاقت کو مانتی ہے۔ بہت سارے ممالک ہمارے فائٹر جیٹس اپنی افواج میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایسے ملک کی حیثیت حاصل کرچکا ہے جس کی آواز سنی جاتی ہے، ہماری مسلح افواج نے دشمن کو ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ وہ چند گھنٹوں میں امن کی بات پر مجبور ہوا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ساکھ بھارتی جارحیت کے جواب کے بعد عالمی سطح پر بڑھی ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے پاس مقدس اور بھاری ذمہ داری ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ بھائی چارے کا رشتہ دفاعی معاہدے سے مضبوط ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پاک چین تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے، پاکستان نے خطے میں امن استحکام، کشیدگی میں کمی کیلئے فعال، ذمہ دارانہ سفارتی کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس مالی سال میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی، خدمات شعبے میں 4.1 فیصد شرح نمو سامنے آئی۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہماری معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو نیا سنگ میل ہے۔ فی کس آمدنی 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہوگئی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران امریکا جنگ کی وجہ سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بین الاقوامی منڈیوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ہر گھر کے بجٹ پر نیا اور غیر متوقع دباؤ آیا، اگر حکومت اس جھٹکے کا پورا بوجھ عوام پر منتقل کردیتی تو یہ قیمتیں کہیں زیادہ ہوتیں۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے دو سالوں میں پالیسی ریٹ میں تاریخی کمی واقع ہوئی، زرمبادلہ ذخائرتین سال قبل 4 ارب ڈالر تھے۔ زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 17 ارب ڈالر سے زائد ہوچکے۔ زرمبادلہ ذخائر تین مہینوں کی درآمدات کےلیے کافی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ترسیلات زر پچھلے مالی سال 38 ارب ڈالر تھے، اس مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں ترسیلات زر کا حجم 38 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ سال بھر کی ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے 3 ہزار 675 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، وفاق کا ایک ہزار ارب روپے اور صوبوں کا ترقیاتی پروگرام 2224 ارب روپے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاسی ملکیتی اداروں کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے451 ارب روہے شامل ہیں۔

اپنی بجٹ تقریر میں انہوں نے کہا کہ شاہراہوں، ریل اور بندرگاہوں کی ترقی ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ وفاقی ترقیاتی پروگرام میں نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچہ کی ترقی کے لیے 365 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اورنگزیب نے اعلان کیا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔

انہوں نے بجٹ 27-2026ء میں کہا کہ کم سے کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔

دفاعی امور اور سروسز بجٹ کیلئے 3 ہزار 10 ارب 90 کروڑ مختص

بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ملکی دفاع حکومت کی اہم ترجیح ہے، اس قومی فرض کے لیے 3 ہزار ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔

دستاویز کے مطابق وفاقی بجٹ 27-2026 میں دفاعی امور اور سروسز بجٹ کیلئے 3 ہزار 10 ارب 90 کروڑ مختص کیے گئے، جبکہ دفاعی انتظامیہ کا بجٹ 10 ارب 90 کروڑ مختص کیا گیا ہے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق دفاعی سروسز کا بجٹ 3 ہزار ارب روپے مختص کیا گیا ہے، دفاعی ملازمین کے اخراجات کیلئے 967 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

دفاعی آپریٹنگ اخراجات کیلئے 743 ارب 46 کروڑ روپے مختص کیے گئے، دفاعی فزیکل اثاثہ جات کیلئے 925 ارب 83 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

بجٹ دستاویز کے مطابق دفاعی سول ورکس کیلئے 363 ارب 15 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

کفالت پروگرام اور بی آئی ایس پی

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ کفالت پروگرام کو 1 کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک بڑھایا جائے گا جبکہ تعلیمی وظائف کو مزید وسعت دی جائے گی۔

سینیٹر اورنگزیب نے یہ بھی کہا کہ آئندہ مالی سال بی آئی ایس پی کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، بی آئی ایس پی کے لیے یہ رقم پچھلے سال کےمقابلے میں17فیصد زیادہ ہے۔

جاری اخراجات سے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کیلئے 232 ارب مختص

انہوں نے کہا کہ جاری اخراجات سے آزاد کشمیر کے لیے 146ارب روپے، گلگت بلتستان کے لیے 88 ارب دیے جائیں گے۔

تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکسوں میں ریلیف کی تجویز

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے چار آمدنی سلیبز پر انکم ٹیکس کی شرح کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ تنخواہ دار افراد پر عائد سرچارج ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آمدنی کے چار سلیبس کے تنخواہ دار افراد کو ریلیف دینے کی تجویز دی گئی ہے، سالانہ 22 سے 32 لاکھ آمدن پر ٹیکس کی شرح 23 سے کم کرکے 20 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ سالانہ 32 سے 41 لاکھ آمدن پر ٹیکس کی شرح 30 سے کم کرکے 25 فیصد کرنے کی تجویز ہے، سالانہ 41 سے 56 لاکھ آمدن پر ٹیکس کی شرح 35 سے کم کرکے 29 فیصد اور 56 سے 70 لاکھ سالانہ آمدن پر ٹیکس کی شرح 35 سے کم کرکے 32 فیصد کرنے کی تجویز شامل ہے، جبکہ تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ سالانہ 15 سے 50 کروڑ آمدن کے 6 سلیبز پر سپر ٹیکس ختم کردیا گیا، سالانہ 50 کروڑ سے زائد آمدن پر سپر ٹیکس 10 سے کم کرکے 8 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

وفاقی بجٹ 27-2026 میں جائیداد منتقلی پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجویز

وفاقی بجٹ 27-2026 میں جائیداد منتقلی پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجویز ہے۔

وزیر خزانہ کہ فائلرز کےلیے جائیداد خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 2 اعشاریہ 5 فیصد سے کم کر کے 1 اعشاریہ 25 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔

فائلرز کےلیے جائیداد فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس 5 اعشاریہ 5 سے کم کر کے 2 اعشاریہ 75 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

بجٹ تقریر میں ڈیجیٹیل بینکنگ استفادے سے متعلق اہم انکشاف

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں ڈیجیٹیل بینک کی سہولت سے مستفید ہونے والوں کی تعداد 13 کروڑ 30 ہوچکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈیجیٹل پاکستان اور مالی شمولیت کے ایجنڈے میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہی وجہ ہے بینکنگ یوزرز میں اضافہ ہوا ہے، جس سے ڈیجیٹیل ٹرانزیکشن اور کیش لیس اکنامی کے فروغ کی بنیاد مضبوط ہوئی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پچھلے سال کے پانچ لاکھ کے مقابلے میں 16 لاکھ 77 ہزار تاجر ڈیجیٹل پیمنٹ کے نظام سے جڑ چکے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اسی طرح ڈیجیٹل بینکنگ کی سہولت سے استفادہ کرنے والے صارفین کی تعداد 9 کروڑ 50 لاکھ سے بڑھ کر 13 کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ سالانہ ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کی تعداد 6 اعشاریہ 9 ارب سے بڑھ کر 10اعشاریہ 1 ارب ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں وصول ہونے والی ترسیلات کا 92 فیصد بینک اکاؤنٹس میں موصول ہوا جبکہ جی 2 پی کا 75 فیصد اب اسی ڈیجیٹل نظام کے تحت کیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی اثاثے رکھنے پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنے کی تجویز

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے بیرونِ ملک ادائیگیوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس 0.5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ غیر ملکی اثاثے رکھنے پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی ہے۔

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران وفاقی بجٹ میں ٹیکس نظام میں مزید تبدیلیوں کی تجویز دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ غیر ملکی اثاثے رکھنے والوں پر عائد کیپیٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق یہ ٹیکس غیر ملکی اثاثوں کو ظاہر کرنے اور قانونی طور پر ڈکلیئر کرنے کی حوصلہ شکنی کا باعث بن رہا تھا۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ کیپیٹل ویلیو ٹیکس کے خاتمے سے ٹیکس دہندگان کو اپنے غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے کی ترغیب ملے گی اور ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھے گی۔

درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز

وفاقی بجٹ 27-2026 میں درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دے دی گئی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2 سے 3 ہزار سی سی تک کی ایس یو ویز پر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے جبکہ 3 ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا جارہا ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ 2 کروڑ سے مہنگی الیکٹرک گاڑی پر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئی آٹو پالیسی وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کے زیر غور ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ الیکٹرک موٹر سائیکل، رکشوں اور بسوں پر موجودہ رعایتی نظام برقرار رہے گا۔ درآمد کیے جانے والے الیکٹرک ٹرکوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس سہولت کی تجویز ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بیرون ملک بزنس کلاس میں سفر پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے۔

چھوٹے دکانداروں کیلئے فکس ٹیکس سسٹم متعارف کرانے کی تجویز

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس سسٹم متعارف کرانے کی تجویز ہے، اس سسٹم میں وہ دکاندار آسکتے ہیں جن کی سالانی فروخت 20 کروڑ روپے سے کم ہے۔

بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ نے کہا چھوٹے دکارندار اپنی سالانہ سیلز کا ایک فیصد ٹیکس ادا کریں گے، اس ٹیکس میں دکاندار اپنا ودہولڈنگ ایڈجسٹ کراسکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹے دکاندار کو گوشوارے جمع کراتے وقت کم ازکم 25 ہزار روپے جمع کرانا ہوں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا ان کا روٹین میں کوئی آڈٹ نہیں ہوگا، ان پر خریداری پر ودہولڈنگ کی ذمہ داری نہیں ہوگی، پی او ایس مشین رکھنے سے استثنیٰ ہوگا۔

کروڑوں آمدن پر عائد سپر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے 15 سے 50 کروڑ روپے کی آمدنی پر عائد سپر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دے دی۔

بجٹ تقریر میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ ہماری حکومت نے کاروبار سے 15 کروڑ روپے سے 50 کروڑ روپے تک کی آمدنی کے سیلبس پر عائد سپر ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل سپر ٹیکس کی شرح 6 سیلبس کی شکل میں 1 سے ساڑھے 7 فیصد تک عائد تھی۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اسی طرح 50 کروڑ روپے سے زائد آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد تھی، جسے کم کرکے 8 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

سینیٹر اورنگزیب نے یہ بھی کہا کہ بینکوں، تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں اور فرٹیلائزرز پر سرچ برقرار ہے۔

بجلی کے شعبے کیلئے 116 ارب 20 کروڑ روپے مختص

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بجلی کے شعبے کے لیے 116 ارب 20 کروڑ روپے مختص کردیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 14 ارب، مہمند ڈیم کے لیے 22 ارب اور داسو پن بجلی منصوبے کے لیے 15 ارب مختص کیے گئے ہیں۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ کراچی کے بلک واٹر سپلائی ’کے فور‘ منصوبے کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 10 بڑے شہروں کے لیے ڈیجیٹل ماسٹر پلان تیار کیے جائیں گے۔
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین پلے کارڈ اٹھائے ایوان میں داخل ہو گئے، اپوزیشن ارکان نے وفاقی وزیر خزانہ کی تقریر کے دوران ایوان میں شور شرابہ کیا۔

پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ارکان نشستوں پر کھڑے ہوگئے، اس دوران انہوں نے احتجاج کیا اور نعرے بازی کرتے رہے۔اپوزیشن کی طرف سے عوام کو ریلیف دو کے نعرے لگائے گئے اور بینرز لہرا دیے گئے۔

علاوہ ازیں ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان گتھم گتھا ہو گئے۔

قبل ازیں وفاقی کابینہ نے بجٹ 27-2026ء کی منظوری دی، وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ نے بجٹ دستاویزات اور فنانس بل مسودے کی منظوری دے دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں