43

سندس فاؤنڈیشن کی تاریخی کاوش، پاکستان میں پہلی بار جین تھراپی کے ذریعے تھیلیسیمیا کے مستقل علاج کی بنیاد رکھ دی گئی

لاہور: پاکستان میں تھیلیسیمیا کے مستقل علاج اور اس بیماری کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے۔ سندس فاؤنڈیشن نے عالمی ادارے گلوبل تھیلیسیمیا فاؤنڈیشن (برطانیہ) کے اشتراک سے ملک میں پہلی مرتبہ جین تھراپی سینٹر آف ایکسی لینس قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جہاں جدید CRISPR-Cas9 Gene Editing Technology کے ذریعے تھیلیسیمیا میجر کے مریضوں کا مستقل علاج ممکن بنایا جائے گا۔
ترجمان سندس فاؤنڈیشن کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں تھیلیسیمیا کے خلاف جاری جدوجہد کا سب سے اہم اور انقلابی قدم ہے جس کا مقصد صرف مریضوں کو خون کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ انہیں اس موروثی بیماری سے ہمیشہ کے لیے نجات دلانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ پچاس لاکھ افراد تھیلیسیمیا کے جینیاتی کیریئر ہیں جبکہ ایک لاکھ سے زائد بچے تھیلیسیمیا میجر کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ہر سال تقریباً نو ہزار نئے بچے اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں، جس کے باعث ہزاروں خاندان مسلسل جسمانی، ذہنی اور مالی مشکلات سے دوچار رہتے ہیں۔
پاکستان میں پہلی بار جدید جین تھراپی کے ذریعے مریض کے اپنے اسٹیم سیلز میں موجود جینیاتی خرابی کو درست کیا جائے گا، جس کے بعد جسم خود صحت مند ہیموگلوبن بنانا شروع کر دے گا۔ عالمی طبی تحقیق کے مطابق اس علاج کے بعد تقریباً 89 فیصد مریض مستقل طور پر خون لگوانے سے آزاد ہو سکتے ہیں۔
سندس فاؤنڈیشن اس منصوبے کے تحت پاکستان میں پہلی بار “لیبز آن ویلز” کے نام سے جدید موبائل جینیاتی اسکریننگ پروگرام بھی شروع کر رہی ہے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور کشمیر میں چلنے والی یہ موبائل لیبارٹریاں گھر گھر جا کر تھیلیسیمیا کیریئر اسکریننگ کریں گی جبکہ خطرے سے دوچار جوڑوں کو جینیاتی مشاورت بھی فراہم کی جائے گی۔ اس پروگرام کے ذریعے نئے تھیلیسیمیا مریضوں کی پیدائش میں 90 فیصد سے زائد کمی لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت پاکستان رجسٹریا ں بھی قائم کی جا رہی ہے جس میں تھیلیسیمیا سے متعلق جینیاتی معلومات کا جامع قومی ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا۔ اس رجسٹری کی بدولت عالمی ادویہ ساز اداروں کے ساتھ تعاون، جدید علاج تک رسائی اور پاکستانی مریضوں کو بین الاقوامی کلینیکل ٹرائلز میں شامل کرنے کے مواقع میسر آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں سے تھیلیسیمیا کے مریضوں کو محفوظ خون، علاج اور طبی سہولیات فراہم کرنے والی سندس فاؤنڈیشن اب پاکستان میں اس بیماری کے مستقل علاج کی بنیاد رکھنے جا رہی ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف موجودہ مریضوں کی زندگی بدل دے گا بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی تھیلیسیمیا سے محفوظ بنانے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔
ترجمان سندس فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ سندس فاؤنڈیشن جدید سائنسی تحقیق، عالمی تعاون اور قومی خدمت کے جذبے کے ساتھ پاکستان کو تھیلیسیمیا فری بنانے کے مشن میں اپنی قائدانہ ذمہ داری ادا کرتی رہے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں