پاکستان دفاعی مصنوعات کا ابھرتا ہوا برآمد کنندہ (عبدالباسط علوی)
بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کاروں، علاقائی سیکورٹی مبصرین اور خصوصی فوجی مطبوعات کی جانب سے آنے والی متعدد معتبر اور بڑے پیمانے پر تصدیق شدہ رپورٹس کے مطابق آسٹریلوی حکومت نے اپنے مقررہ بااختیار بیوروکریٹک اور اسٹریٹجک ذرائع کے ذریعے کافی قیاس آرائیوں اور پس پردہ سفارتی کوششوں کے بعد اب باضابطہ طور پر تصدیق کر دی ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ ایک احتیاط سے طے شدہ مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کر چکا ہے۔ یہ دستاویز خاص طور پر مستقبل میں غیر متعینہ تعداد میں جے ایف-17 تھنڈر بلاک III ملٹی رول لڑاکا طیاروں کے حصول سے متعلق ہے، جو ایک ایسی پیش رفت ہے جو جغرافیائی طور پر دور لیکن تیزی سے ہم آہنگ ہونے والے ان دو ممالک کے درمیان جاری دوطرفہ دفاعی تعاون اور اسٹریٹجک شراکت داری کے ارتقاء میں ایک نمایاں طور پر اہم اور تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ بنیادی معاہدہ، اگرچہ اپنی قانونی نوعیت میں ابتدائی ہے اور سخت ترین معاہداتی تشریح کا پابند نہیں ہے، اس کے باوجود ایک گہرے اور اہم ادارہ جاتی اور حکومتی عزم کی نمائندگی کرتا ہے جو مستقبل کے ٹھوس معاہدوں، جامع تکنیکی جائزوں، آپریشنل فزیبلٹی اسٹڈیز اور رائل آسٹریلین ایئر فورس اور پاکستان کے ابھرتے ہوئے اور تکنیکی طور پر ترقی یافتہ دفاعی ہوا بازی کے شعبے، جس میں پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس اور وسیع تر فوجی صنعتی ڈھانچہ شامل ہے، کے درمیان گہری اسٹریٹجک ہم آہنگی کے لیے ضروری انتظامی، تکنیکی اور طریقہ کار کی بنیاد رکھتا ہے۔ جیو پولیٹیکل مبصرین اور دفاعی حکمت عملی کے ماہرین کے ایک وسیع حلقے کی نظر میں اس اقدام کو آسٹریلیا کی اس وسیع تر اور طویل مدتی اسٹریٹجک کوشش کے ایک لازمی جزو کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کا مقصد اپنے پرانے ہوتے ہوئے فضائی بیڑے کو جدید بنانا اور اس میں تنوع لانا ہے، خاص طور پر ایک ایسے اہم وقت میں جب پیچیدہ علاقائی سیکورٹی صورتحال اور جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجیز عالمی سطح پر فضائی افواج کو اپنے روایتی ڈھانچے اور خریداری کی حکمت عملیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر رہی ہیں۔
آسٹریلوی دفاعی منصوبہ سازوں اور اسٹریٹجک پالیسی سازوں کے نقطہ نظر سے جے ایف-17 تھنڈر بلاک III کو ایک قابل عمل پلیٹ فارم کے طور پر سنجیدگی سے زیر غور لانے کا فیصلہ آپریشنل لچک اور حکمت عملی کے اختیارات کو بڑھانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے، جس میں ایک جدید اور انتہائی قابل 4.5 پلس جنریشن کے جنگی طیارے کو شامل کیا جا رہا ہے۔ یہ پلیٹ فارم فضائی برتری، درست حملوں، قریبی فضائی مدد اور آسٹریلوی براعظم کے وسیع بحری راستوں کے دفاع جیسے متنوع مشن مکمل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ رائل آسٹریلین ایئر فورس کے بیڑے میں، جو تاریخی طور پر مغربی پلیٹ فارمز پر منحصر رہا ہے، یہ شعوری تنوع روایتی سپلائرز پر ضرورت سے زیادہ انحصار کو کم کرنے کا کام کرتا ہے، جس سے سپلائی چین اور صنعتی معاونت کے نیٹ ورکس میں قومی لچک پیدا ہوتی ہے، جبکہ ساتھ ہی مختلف آپریشنل حالات اور ممکنہ تنازعات میں اعلیٰ تیاری کی سطح کو برقرار رکھنے کے لیے ممکنہ طور پر زیادہ سستے اختیارات فراہم کرتا ہے۔ جے ایف-17 بلاک III کو خاص طور پر ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو جدید جنگی صلاحیتوں، جیسے کہ اس کا جدید ایوی اونکس سوٹ اور ہتھیاروں کا انضمام اور نسبتاً کم خریداری و آپریشنل اخراجات کے درمیان ایک بہترین توازن قائم کرتا ہے، جس سے یہ آسٹریلیا کے موجودہ ہائی اینڈ فضائی اثاثوں جیسے کہ ایف-35 اے لائٹننگ II کی معاونت کے لیے ایک مالی طور پر دانشمندانہ انتخاب بن کر ابھرتا ہے۔
باخبر ذرائع سے سامنے والی انہی رپورٹس میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ طیاروں کی ابتدائی خریداری، جس میں ممکنہ طور پر ایک سکواڈرن یا تشخیصی بیچ شامل ہوگا، ایک بڑے اور زیادہ پرجوش کثیر مرحلہ وار خریداری کے منصوبے کا محض پہلا مرحلہ ہے، جس میں آسٹریلوی دفاعی حکام نے کارکردگی کی بنیاد پر طیاروں کی تعداد میں اضافے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ یہ مرحلہ وار طریقہ کار رائل آسٹریلین ایئر فورس کو ضروری وقت اور آپریشنل گنجائش فراہم کرتا ہے تاکہ وہ بڑے قومی وسائل صرف کرنے سے پہلے طیارے کی حقیقی کارکردگی، موجودہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے ساتھ اس کے انضمام اور آسٹریلیا کی مخصوص آپریشنل ضروریات کے لیے اس کی موزونیت کا مکمل جائزہ لے سکے۔ یہ محتاط اور شواہد پر مبنی حکمت عملی پائلٹس اور گراؤنڈ کریو کی جامع تربیت اور لاجسٹک منصوبہ بندی کو بھی منظم طریقے سے آگے بڑھانے کی اجازت دیتی ہے، جس سے یہ یقینی بنتا ہے کہ نئے طیارے کی شمولیت سے جاری آپریشنل ذمہ داریوں میں کوئی خلل نہ پڑے۔
جے ایف-17 تھنڈر بلاک III طیارہ بذات خود ایرو اسپیس انجینئرنگ کا ایک شاہکار ہے جو پاک چین مشترکہ کاوشوں سے بننے والے اس فائٹر کا اب تک کا سب سے جدید اور بہترین ورژن ہے، جس میں ایسی جدید ٹیکنالوجیز شامل ہیں جو عام طور پر بین الاقوامی مارکیٹ میں بہت مہنگے پلیٹ فارمز میں پائی جاتی ہیں۔ ان میں ایکٹو الیکٹرانیکلی اسکین شدہ ایرے (AESA) ریڈار سسٹم شامل ہے جو دشوار گزار برقی مقناطیسی ماحول میں صورتحال سے آگاہی اور طویل فاصلے تک دشمن کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے، نیز جدید ہیلمٹ ماونٹڈ ڈسپلے سسٹم پائلٹ کی کارکردگی کو انتہائی شدید جنگی حالات میں کئی گنا بہتر بنا دیتا ہے۔ طیارے کے ڈیزائن میں پی ایل-15 ای (PL-15E) جیسے جدید فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے انضمام پر بھی زور دیا گیا ہے جو دشمن کے خلاف دفاعی صلاحیت کو مضبوط بناتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ تمام خصوصیات بلاک III کو عصر حاضر کی مارکیٹ میں ایک حقیقی اور قابل بھروسہ پلیٹ فارم کے طور پر پیش کرتی ہیں جو بہترین کارکردگی اور کم قیمت کا امتزاج ہے۔
پاکستان کے لیے آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ ملک کے ساتھ اس مفاہمتی یادداشت کا حصول فوری مالی فوائد سے کہیں زیادہ بڑھ کر اسٹریٹجک اور علامتی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ پاکستان کی مقامی دفاعی پیداوار اور ایرو اسپیس کی صلاحیتوں کی بڑھتی ہوئی پختگی، تکنیکی مہارت اور بین الاقوامی مارکیٹ میں ان کی قبولیت کو ظاہر کرتا ہے، خاص طور پر جنگی طیاروں کے ڈیزائن، پیداوار اور انضمام جیسے پیچیدہ شعبوں میں۔ آسٹریلیا جیسے تکنیکی معیار رکھنے والے ملک کے ساتھ معاہدہ نہ صرف پاکستان کی دفاعی برآمدات کو فروغ دے گا بلکہ ایک قابل اعتماد سپلائر کے طور پر اس کے بین الاقوامی وقار کو بھی مستحکم کرے گا۔ براہ راست برآمدی آمدنی کے علاوہ، ایسے تاریخی معاہدے سے مقامی پیداواری لائنوں کی توسیع، ٹیکنالوجی کی مزید ترقی، اعلیٰ ہنرمند افرادی قوت کی تربیت اور دیکھ بھال و مرمت کے طویل مدتی انتظامات کے ذریعے وسیع تر معاشی فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔
مزید برآں، اس ممکنہ دوطرفہ تعاون کا دائرہ محض طیاروں کی ترسیل تک محدود نہیں ہے، کیونکہ اس نوعیت کی دفاعی برآمدات کے ساتھ پائلٹس اور ٹیکنیشنز کے تربیتی پروگرام اور دونوں فضائی افواج کے درمیان پیشہ ورانہ تعاون کے وسیع پیکجز بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس طرح کا گہرا ادارہ جاتی رابطہ سفارتی اور فوجی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، جنگی فن اور حکمت عملی پر معلومات کے تبادلے اور مستقبل کی مشترکہ مشقوں کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اس تناظر میں یہ ایم او یو محض ایک تجارتی لین دین نہیں بلکہ ایک ابھرتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری کا موقع ہے جو آسٹریلیا کی جدت کاری کے اہداف کو پاکستان کی اس قومی خواہش کے ساتھ جوڑتا ہے کہ وہ دفاعی سازوسامان درآمد کرنے والے ملک سے عالمی سطح پر ایک بااثر برآمد کنندہ بن کر ابھرے۔
ایک اور مساوی اہمیت کی پیش رفت میں مختلف علاقائی اور بین الاقوامی ذرائع کے مطابق پاکستان نے لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ چار ارب امریکی ڈالر سے زائد مالیت کا ایک بہت بڑا دفاعی برآمدی معاہدہ کیا ہے، جسے مبصرین پاکستان کی پوری قومی تاریخ کی سب سے اہم دفاعی فروخت قرار دے رہے ہیں۔ یہ معاہدہ حال ہی میں لیبیا کے شہر بن غازی میں پاکستان کے ملٹری چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور لیبیا کی نیشنل آرمی کے ڈپٹی کمانڈر انچیف صدام خلیفہ حفتر کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطح کی ملاقات میں طے پایا۔ اس ملاقات کو ایک فیصلہ کن سفارتی لمحہ قرار دیا جا رہا ہے جس نے طویل مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچایا اور پیچیدہ علاقائی جیو پولیٹکس کے درمیان فریقین کے بڑھتے ہوئے باہمی اعتماد کی عکاسی کی۔
اس معاہدے کی وسعت اور مالی قدر پاکستان کی دفاعی صنعت کے مستقبل کے لیے اسٹریٹجک اور علامتی اعتبار سے انتہائی اہم ہے۔ اگر آنے والے سالوں میں اس پر مکمل عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ پاکستان کی طرف سے اب تک کی جانے والی سب سے بڑی سمندر پار اسلحے کی فروخت ہوگی، جو پاکستان کے ایک خود مختار برآمد کنندہ بننے کے سفر کو تقویت دے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس جامع سودے میں سولہ جے ایف-17 تھنڈر فائٹر جیٹ اور بارہ سپر مشاق ٹرینر طیاروں کی فروخت شامل ہے۔ لڑاکا اور تربیتی طیاروں کی بیک وقت شمولیت خریدار کے اس جامع نقطہ نظر کی نشاندہی کرتی ہے جس کا مقصد نہ صرف اپنی فوری کارروائیوں کی صلاحیت کو بڑھانا ہے بلکہ پائلٹس کی تربیت کے مکمل عمل کی حمایت کے ذریعے اپنی ادارہ جاتی صلاحیت کو بھی مضبوط کرنا ہے۔ جے ایف-17 پاکستان کی برآمدات کا ایک اہم ترین ستون بن کر ابھرا ہے جس کی آپریشنل استعداد اور کم قیمت کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، جبکہ سپر مشاق پہلے ہی دنیا کی کئی فضائی افواج میں ایک مضبوط اور قابل بھروسہ تربیتی طیارے کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔
پاکستان کے لیے لیبیا کے ساتھ یہ معاہدہ معاشی اور صنعتی لحاظ سے بے پناہ فوائد کا حامل ہے جو برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ مالی فائدے کے علاوہ یہ ملکی پیداوار کو بے مثال سطح تک بڑھانے، انجینئرنگ کے شعبے میں ہزاروں ملازمتیں پیدا کرنے اور دفاعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کی ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔ یہ پاکستان کی ایک ایسے سپلائر کے طور پر ساکھ کو مضبوط کرتا ہے جو مکمل جنگی حل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے دوسرے خطوں میں بھی پاکستان کے لیے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس تناظر میں ماہرین معاشیات اور مبصرین نے اس پیش رفت کو پاکستان کے لیے انتہائی مثبت خبر قرار دیا ہے جو اس کی دفاعی مصنوعات پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
پاکستانی شہریوں کے لیے مقامی طاقت کی اس پذیرائی اور دفاعی برآمد کنندہ کے طور پر پاکستان کے عروج کو دیکھنا انتہائی حوصلہ افزا اور قومی فخر کا باعث ہے، جو کہ دہائیوں کی ادارہ جاتی کوششوں اور صبر آزما اسٹریٹجک منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ حالیہ دنوں میں پاک فوج نے پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل تیاری کی جو اعلیٰ مثالیں قائم کی ہیں، انہیں ملک کے اندر فوجی فضیلت اور جنگی تیاری کے ثبوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر سرحدی چیلنجز کے تناظر میں۔ معرکہ حق جیسے واقعات کو محب وطن عوام ایسے لمحات کے طور پر دیکھتے ہیں جنہوں نے ملکی دفاعی پوزیشن پر اعتماد کو تقویت دی اور فوجی قیادت کی حکمت عملی اور ٹیکنالوجی کی بہتری کو اجاگر کیا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کو اندرون اور بیرون ملک ایک مضبوط اور لچکدار ریاست کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے جس کے پیچھے ایک ڈسپلن والی اور پیشہ ور فوج کھڑی ہے جو قومی مفادات کے تحفظ میں مہارت رکھتی ہے۔
قومی اعتماد کا یہ بڑھتا ہوا ذخیرہ محض اندرونی تاثرات تک محدود نہیں ہے، بلکہ پاکستان کی مسلح افواج اور ان کے تیار کردہ سازوسامان کو بین الاقوامی دفاعی فورمز پر بھی سراہا جا رہا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں اور پارٹنر ممالک نے ہوا بازی، بکتر بند گاڑیوں اور تربیتی پلیٹ فارمز کے شعبوں میں پاکستان کی مینوفیکچرنگ صلاحیت میں گہری دلچسپی لی ہے۔ قومی خدمت اور کثیر القومی مشقوں میں بہترین کارکردگی نے پاکستان کی دفاعی مصنوعات پر بیرونی اعتماد کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جس سے یہ مصنوعات ان ممالک کے لیے زیادہ پرکشش بن گئی ہیں جو بغیر کسی سیاسی شرائط کے مؤثر اور کم لاگت فوجی حل چاہتے ہیں۔ یہ تبدیلی تاریخی طور پر اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ پاکستان کے غیر ملکی سپلائرز پر انحصار کے پرانے دور کے خاتمے اور ایک بااختیار پوزیشن کی جانب منتقلی کی علامت ہے۔
لیبیا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو پاکستانی عوام ملک کی مضبوط فوجی صلاحیت اور جدید دفاعی صنعتی بنیاد کا ایک فطری نتیجہ سمجھتے ہیں۔ پاکستان کے لوگوں کے لیے یہ پیش رفت مادی قومی ترقی، خود انحصاری اور فوجی تجربے کے دفاعی پیداوار کے ساتھ کامیاب ملاپ کی علامت ہے۔ یہ پائیدار معاشی ترقی اور بین الاقوامی وقار کے حوالے سے بھی امید افزا ہے، کیونکہ دفاعی برآمدات نہ صرف مالی استحکام اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرتی ہیں بلکہ سائنسی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوتی ہیں۔ عوام کی جانب سے محسوس کیا جانے والا یہ فخر اس پختہ یقین سے جڑا ہے کہ یہ کامیابیاں پاک فوج کی غیر متزلزل لگن، پیشہ ورانہ مہارت اور ملکی دفاع و خودمختاری سے وابستگی کا براہ راست نتیجہ ہیں، جنہوں نے مجموعی طور پر ملک کو اس سنہری مرحلے میں داخل کیا ہے جسے لوگ اب پاکستان کے اسٹریٹجک اور صنعتی ارتقاء کا ایک تابناک دور قرار دے رہے ہیں