108

تنویر جمال کی بیٹی نے اپنی یادیں شیئر کر دیں

حال ہی میں جاپان میں وفات پاجانے والے پاکستان کے معروف اداکار تنویر جمال نے زندگی میں ایک ہی شادی جاپانی خاتون سے کی تھی جن کا نام موتوکو واگوری سید تھا۔

ان خاتون سے تنویر جمال کے 3 بچے ہیں، بیٹے کا نام ریو جبران واگوری سید، ایک بیٹی کا نام حنا نتاشا واگوری سید جبکہ دوسری کا نام مایا ردا واگوری سید ہے۔

تنویر جمال کی وفات کے بعد ان کی صاحبزادی حنا نتاشا واگوری سید نے اپنے والد کے ساتھ گزارے گئے لمحات کے حوالے سے روزنامہ ’جنگ‘ کے لیے خصوصی یادداشت تحریر کی ہے جس میں بچپن سے آخری لمحات تک ان کے ساتھ گزارے گئے لمحات اور احساسات کو خوبصورتی کے ساتھ قلم بند کیا گیا ہے۔

حنا نتاشا واگوری سید روزنامہ ’جنگ‘ کے لیے بھیجی گئی اپنی یادداشتوں میں لکھتی ہیں کہ پاپا مجھے بہت پیار کرتے تھے، میں بھی انہیں بہت پیار کرتی تھی، بچپن سے ایک ہی سوچ بار بار آتی تھی کہ ایک دن تو پاپا کو اللّٰہ تعالیٰ بلالیں گے تو اس وقت میری حالت کیا ہو گی کیونکہ میں انہیں بہت زیادہ چاہتی تھی، مجھے لگتا تھا میں ان کے بغیر نہیں رہ پاؤں گی، وہ مجھے اپنے ساتھ ٹی وی اسٹیشن شوٹنگز پر لے کر جاتے، سب کو بتاتے تھے کہ میری بیٹی نتاشا ہے، سب سے خوشی سے ملواتے تھے۔

اداکار تنویر جمال کی بیٹی نے لکھا ہے کہ وہ اکثر گاڑی میں احمد رشدی کا گانا ’کوکوکو رینا’ گایا کرتے تھے، اس کے علاوہ انہیں Queen کاگانا We Will Rock You بھی بہت پسند تھا، بچپن میں ’کوکوکو رینا‘ وہ پہلا گانا تھا جو یاد کیا اور ہم گاڑی میں ساتھ گایا کرتے تھے، مجھے ان پر بہت فخر ہے، وہ ہر ڈارمے میں لیڈ رول ہی کیا کرتے تھے، بہت ہی اچھے اداکار تھے، کئی نہ بھولنے والے کردار کیے، مجھے خوشی ہوتی ہے کہ میں تنویر جمال کی بیٹی ہوں۔

تنویر جمال کی بیٹی نے اپنی یادیں شیئر کر دیں
تنویر جمال کی بیٹی نے لکھا ہےکہ 6 سال پہلے ان کا کینسر کا پہلا آپریشن جاپان میں ہوا تو ڈاکٹروں نے کہا کہ اگر سگریٹ نہیں چھوڑیں گے تو یہ دوبارہ ہو جائے گا، امی میں اور سب منع کیا کرتے تھے لیکن وہ سگریٹ نہ چھوڑ پائے، اس طرح کچھ سال اور گزر گئے، کھانسی ہوتی رہی اور کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ کینسر پھر سے ہو گیا ہے، میں کافی بار پاکستان آتی جاتی رہتی تھی۔

حنا نتاشا واگوری سید نے لکھا ہے کہ انہوں نے جاپان میں کئی ڈارمے بنائے اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ چاہتے تھے کہ پاکستان کے لوگ جاپان دیکھ سکیں، انہیں بہار کا موسم بہت پسند تھا۔

حنا نتاشا لکھتی ہیں کہ مجھے اور پاپا کو بھارتی اداکار عامر خان بہت پسند تھے، صرف عامر خان کی بھارتی فلم ہی دیکھتے تھے، ’لگان‘ فلم ان کو پسند تھی اور لبنان کے شاعر خلیل جبران وہ بہت پسند تھے، اسی لیے اپنے بیٹے کا نام جبران رکھا تھا۔

حنا نتاشا کے مطابق تنویر جمال کو اسلامی تاریخ پڑھنے کا بہت شوق تھا، ان کی ہمیشہ خواہش تھی کہ فلم بناؤں، ایک دفعہ فون پر بہت خوشی سے بتایا کہ پاکستان میں بھارتی فلمیں بند ہوگئی ہیں، اس لیے مجھے دبئی سے آفر آئی ہے، جاپان میں فلم بنائی اس کے بعد پاکستان چلے گئے، باقی فلم وہاں مکمل کی، اس کے بعد کورونا کی وباء شروع ہو گئی اسی دوران ان کی طبیعت خراب ہونا شروع ہو گئی، میں نے پاکستان جانا چاہا لیکن کورونا اور فلائٹس کی بندش کے باعث ممکن نہ ہو سکا۔

تنویر جمال کی بیٹی نے لکھا ہے کہ وہ کہتے تھے کہ فلم مکمل کر کے جاپان آؤں گا، جاپان آ کر تمہارے ہاتھ کے کھانے کھاؤں گا، بہت عرصے سے تمہارے ہاتھ کے کھانے نہیں کھائے، انہیں جاپانی کھانے بہت پسند تھے، مئی میں جاپان آگئے، جب ملاقات ہوئی تو بہت کمزور ہو گئے تھے لیکن میں نے کچھ نہیں کہا، ورنہ انہیں اور محسوس ہوتا، میر ے بیٹے سے مل کر بہت خوش ہوئے، اسے اس کا من پسند تحفہ دلایا تو بہت خوش ہوا، میں نے انہیں فادرز ڈے پر کیک بھجوایا تو بہت خوش ہوئے۔

اُنہوں نے لکھا ہے کہ ان کے والد آخری دنوں میں تویاما میں اپنے دوست اشرف سہارا صاحب کے ساتھ رہے کیونکہ انکا ڈاکٹر وہاں کے مقامی اسپتال میں تھا اور انہیں اکثر دکھانے جانا پڑتا تھا، ایک رات کو ان کے دوست کا فون آیا کہ پاپا کو سانس لینے میں مسئلہ ہو رہا ہے، اس لیے انہیں اسپتال لے کر جا رہے ہیں، پھر پتہ چلا کہ کینسر پورے پھیپڑوں میں پھیل چکا ہے اور ڈاکٹروں نے صرف 6 ماہ کا وقت دیا ہے۔

میں اور بھائی اسپتال گئے تو ڈاکٹر نے بتایا کہ ریڈی ایشن کا علاج تقریباً ناممکن ہے اس لیے کہ انہیں تکلیف نہ ہوتو مورفن کا علاج ہے۔

اداکار کی بیٹی نے لکھا کہ مجھے تھویاما بہت دور پڑتا تھا تو فیصلہ یہ ہوا کہ انہیں میرے قریب والے اسپتال میں منتقل کر دیا جائے، اسی دوران 30 جون کو ان کی سالگرہ آگئی، جو اسپتال میں ہی منائی اور ان کا پسندیدہ چیز کیک بنایا، وہ بہت خوش تھے، بھائی کے بچے سے بھی ان کی پہلی دفعہ ملاقات ہوئی جسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔

تنویر جمال کی بیٹی نے لکھا ہے کہ 6 جولائی کو اسپتال آئی، ان کے لیے ان کی من پسند فلیور دہی اور چیز دال بھی لائی تھی لیکن کھانسی کی وجہ سے ان سے کھایا نہیں جا رہا تھا، جب تھک گئے تو سونے لگے، میں نے کہا کہ آپ کی من پسند چیز دال رکھی ہے، کھا لیجیے گا، میں اب جمعے کو آؤں گی، پھر جب جمعے کو گئی تو فرج خالی تھا۔

نرس نے کہا کہ بنیان اور تولیا چاہیے، پھر میں نے تولیہ اور کھانے کا سامان رکھ دیا، اس دن بھی مورفین کی وجہ سے نیند میں تھے، کہنے لگے کہ تم کچھ دیر رکو کیونکہ اسپتال کا عملہ بار بار چیک کرنے آتا ہے، تو میں سو نہیں پا رہا، میں کچھ دیر رکی پھر وہ سو گئے۔

جب دوبارہ اتوار کو گئی تو بیٹھے ہوئے تھے، ان کی ناک میں تکلیف ہو رہی تھی، پھر آرام کرنے لگے اور کہا کہ سونے دینا، جب میں جانے لگی تو میرا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگے نتاشا ابھی نہ جاؤ۔

حنا نتاشا کے مطابق اتوار کی ملاقات آخری تھی، منگل 12 جولائی کو شام 4 بجے فون آیا کہ طبیعت صحیح نہیں ہے اور جان کا خطرہ ہے، تم فوراً آجاؤ، میں گاڑی میں تھی، میں نے روتے ہوئے کہا کہ پاپا میرے آنے تک رکیے گا، جائیے گا نہیں، جب میں پہنچی تو بہت دیر ہوگئی تھی اور وہ جا چکے تھے، میرے دماغ میں ایک جھٹکا سا لگا کہ میں وقت پر نہیں پہنچ سکی۔

اداکار کی بیٹی نے لکھا ہے کہ پھر سوچا کہ میں آخری وقت اپنے پاپا کو تڑپتے ہوئے نہیں دیکھ پاتی، شاید دیکھ لیتی تو مجھے زیادہ تکلیف ہوتی اور وہ بھی آرام سے اس دنیا سے نہ جا پاتے، ان کی شکل ایسی پُرسکون لگ رہی تھی کہ جیسے سو رہے ہوں، انہیں میری بہت فکر رہتی تھی کیونکہ میری پہلی شادی ناکام ہوئی تو بہت پریشان رہتے تھے، جب 2 سال پہلے پاکستان میں میری دوسری شادی ہو گئی تو بہت خوش ہوئے اور خوشی سے رو رہے تھے۔

اُنہوں نے لکھا ہے کہ اس دنیا سے سکون سے چلے گئے کہ ان کے بعد ان کی بیٹی کا خیال اس کا شوہر رکھ لے گا اور خوش رکھے گا، جاپان آنے کے بعد وہ سارا وقت ہمارے ساتھ گزارنا چاہتے تھے اور اپنی آنے والی فلم اپنے فینز کے لیے چھوڑ گئے جو کہ کچھ مہینوں بعد ریلیز ہونے والی ہے، اگر وہ فلم کی ریلیز کے وقت تک زندہ ہوتے تو بہت فکر مند ہوتے کیونکہ یہ فلم ان کا دیرینہ خواب تھی۔

حنا نے لکھا ہے کہ بھائی کو اسپتال میں کہا دیا تھا کہ میری خواہش ہے کہ میری تدفین جاپان میں ہی ہو اور کوئی بھی میری تصویر نہ کھینچے، نہ ہی میڈیا میں آئے، ہم سب گھر والوں کے لیے انہیں آخری لمحات میں ملنا یوں ممکن ہو سکا کہ ان کے آخری ایام جاپان میں گزرے، ورنہ شاید ہم ان سے مل بھی نہیں پاتے اور ساری زندگی یہی ملال رہتا، میری ان کے ساتھ بہت ساری یادیں ہیں، ابھی تک یقین ہی نہیں آ رہا کہ وہ ہمیں چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

تنویر جمال کی بیٹی نے یہ بھی لکھا ہے کہ میرے والد اپنے والد یعنی میرے دادا سے بہت محبت کرتے تھے، مجھے یقین ہے کہ وہ ان کے ساتھ بہت خوش ہوں گے، اتوار کو جب میں آخری دفعہ گئی تو ان کا فریج بھرا ہوا تھا، جو انہوں نے کھایا وہی ان کی آخری خوراک تھی، بہت خوش ہوئے اور کہا کہ ہر چیز میری پسند کی تھی، میرے لیے ان کے سامنے رونا اور پھر برداشت کرنا بہت مشکل تھا، اس لیے میں چاہتے ہوئے بھی بہت کچھ نہ کہہ سکی نہ بتا سکی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں