303

حکومت پنجاب کا تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کے حوالے سے ایس او پیز جاری ،چیزوں کا مشترکہ استعمال اورسماجی فاصلے کو برقرار نہ رکھنا کورونا وائرس کی وجہ بن سکتا ہے۔ سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر

لاہور(ٹیوٹرپاکستان) حکومت پنجاب کا تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کے حوالے سے ایس او پیز جاری
سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا

سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئرکیپٹن (ر) محمد عثمان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس متاثرہ شخص کے کھانسنے،چھینکنے یا بولنے کے دوران خارج ہونےوالے ننھے ذرات سے پھیل سکتا ہے۔

تعلیمی اداروں میں چیزوں کا مشترکہ استعمال اورسماجی فاصلے کو برقرار نہ رکھنا کورونا وائرس کی وجہ بن سکتا ہے۔

کورونا وائرس کسی بھی عمر کے فرد پر حملہ آور ہوسکتا ہے بچوں اور اساتذہ کے تحفظ کے لئے خاص احتیاط کرنا ہو گی۔

سکول انتظامیہ سے گزارش ہے کہ وہ بلا امتیاز ایسے اسٹاف اور بچوں کو الگ کریں جو کورونا وائرس کا شکار رہ چکے ہوں

بچوں کو احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہ کریں بالخصوص کسی بھی چیز کی سطح کو پکڑنے یا چھونے سے پرہیز کریں۔

سکول میں بچوں کو بار بارہاتھ صابن سے اچھی طرح 40سیکنڈ تک دھونے کی تلقین کریں۔
سکول میں بچوں کو آگاہ کیا جا ئے کہ وہ گھر پہنچنے پردیگر اہلِ خانہ سے میل جول کرنے سے قبل نہائیں ۔
بغیر ہاتھ دھوئے آنکھوں،ناک اور منہ کو چھونے سے مکمل پرہیز کریں۔
تمام تعلیمی اداروں میں بچوں اور اسٹاف کے لیے ہینڈ سینیٹائزر اور ماسک لازمی رکھا جائے۔س

کھانسی یا سانس کے مسائل سے دوچار اسٹاف اور بچوں کو مکمل طور پر صحت یاب ہو جانے تک گھر رہنے کی تلقین کریں۔

دوران ِ لیکچر ماسک پہننا لازمی ہے ، ماسک کے درست استعمال کے حوالے سے اساتذہ بچوں کو آگاہ کریں۔

کھانستے یا چھینکتے وقت بچوں کو منہ ٹشو پیپر، رومال یا کہنی سے ڈھانپنے کی تلقین کریں۔س
ماسک کو بار بار ہاتھ لگانے سے گریز کریں اور گیلا ہونے کی صورت میں کوڑا دان میں ضائع کر دیں۔

6 فٹ کے سماجی فاصلے کو قائم رکھنے کے لیےسکول کی حدود میں نشانات لگائیں ۔س

وباء ختم ہو جانے تک تمام سکولوں میں صبح اسمبلی سے مکمل طور پر گریز کیا جا ئے۔س

کلاس رومز، لائبریری، اسٹاف روم ، لیبارٹری اور دیگر کمروں میں سماجی فاصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے طلباء اور اسٹاف کے بیٹھنے کا انتظام کریں۔

داخلی اور خارجی پوائنٹس پرسماجی فاصلے کو برقرار رکھنے کےلئے اضافی طور پر مانیٹرز کو نگرانی کی ڈیوٹی دیں۔ س

چھٹی کے وقت ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک سے زائد داخلی اور خارجی راستوں کا استعمال کیا جا ئے۔کیپٹن

ہاتھ ملانے،بغل گیر ہونے سے مکمل پرہیزکریں اور آپس میں ماسک کا تبادلہ ہرگز نہ کریں ۔س
چھوٹی جماعتوں کے بچوں کو کھیل کود کی سرگرمیوں میں مشغول نہ کریں
تعلیمی اداروں میں تما م انڈور گیم ایریاز ، پلے گراؤنڈز اور جھولے بند رہیں گے۔س

اسکول انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ سکول وین ، بس، رکشہ میں گنجائش کاصرف 50 فیصد حصہ پر کیا جا ئے۔

ہوسٹلز میں صرف کل گنجائش کے 30 فیصد حصے کو پر کیا جا ئے ، ایسی تمام سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کی جا ئے جو وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ بن سکتی ہیں ۔

ہوسٹل کی حدودمیں سماجی فاصلے، صفائی ستھرائی ، احاطے کی ڈس انفیکشن اور برتنوں کی صفائی کا خصوصی خیال رکھا جا ئے۔

زیادہ استعمال ہونے والی جگہوں،گیٹ،فرنیچر،بنچیز،ہینڈلز،واش بیسن،ٹوائلٹس کو بار بار صاف اور سینٹائز کیا جائے گا۔

صفائی کا عملہ مکمل حفاظی کٹ (گلوز،ایپرن، لانگ بوٹ، ماسک، گوگلز اور ہیڈ کور) کا استعمال لازمی کریں گے۔س

تعطیلات کے اختتام سے 3-5روز قبل تعلیمی اداروں اور ہوسٹلز کی صفائی اور ڈس انفیکشن کو یقینی بنائیں۔
سکول ،کالج ، یونیورسٹیوں میں داخل ہونے سے پہلے تھرمل ا سکینرسے ٹمپریچر لازمی چیک کیا جائے گا۔س

تعلیمی اداروں میں تمام ایسی نصابی اور غیر نصابی سر گرمیوں سے گریزکیا جا ئے جو وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ بن سکتی ہیں ۔

اساتذہ بچو ں اور طلباء کو گھر سے لنچ لانے کی تلقین کریں ۔
تعلیمی اداروں میں فرش پر قالین بچھانے کی اجازت نہیں ، تما م کمروں میں وینٹیلیشن کا مناسب انتظام یقینی بنا ئے گا ۔

پک اینڈ ڈراپ کے لئے استعمال ہونے والی گاڑیوں کی دن میں دو مرتبہ صفائی اور ڈس انفیکشن کو یقینی بنا یا جا ئے۔

تعلیمی اداروں کےتمام داخلی راستوں پرکورونا وائرس سے بچاؤکی احتیاطی تدابیرکی اسٹینڈیزلگائی جائیں گی۔س

کورونا وائرس کا خطرہ انتہائی احتیاط اور سمجھ داری سے ختم کیا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں