1,190

سوال نمر:1 زبان کی ساخت اور تشکیل کن عوامل اور محرکات کی مرہون منت ہے؟نیز بتایئں کے اردو زبان کے کے تشکیلی مراحل کیا ہے-

سوال نمر:1 زبان کی ساخت اور تشکیل کن عوامل اور محرکات کی مرہون منت ہے؟نیز بتایئں کے اردو زبان کے کے تشکیلی مراحل کیا ہے-
جواب نمبر :1 ہم دن رات الفاظ بولتے اور سنتے ہیں اور بقدرظرف ٹھنڈے اورگرم الفاظ کا استمعال بھی کرتے ہیں لیکن شاید ہی شعوری طور پر کبھی چند لمحات کیلیے گفتگو روک کر اس امر پر غور کیا ہو گا کہ حرف اور صوت کا باہمی تعلق کیا ہے-لفظ کیسے معرض وجود میں اتا ہے جملوں کی صورت میں کیسے الفاض کی مالا گندھتے اور کیسے فقرہ کے روپ میں لفظوں کی مالا تیار ہوتی ہے-
زبان،ادب اورتخلیق اپنی اصل میں لفطون کا کھیل ہی تو ہے اور لفظ. کیا ہے حلق ہونٹوں زبان اور تالو کے تال میل سے جنم لینے والے وہ آوازیں جنھین سننے والا اپنے حلق ہونٹون ، زبان اور تالو میں سے جنم لینے والی آوازون سے مشابہ پاتا ہے تو انہیں معنی دے دیتا ہے-یہی آوازیں جب سرتال مین ادا ہوتی ہے تو نغمہ کہلاتی ہیں-جبکہ لفظون کی بامعنی اور کوبسورت ترتیب ادب پارہ کا نام پاتی ہے الفاط کے حسن انتخاب سے کلام معرض وجود میں اتا ہے-جبکہ بے ترتیب الفاظ پاگل کی بڑ سمجھے جاتے ہیں-
زبان کیا ہے اسکی ساخت اور تشکیل کن عوامل اور مھرکات کی مرہون منت ہوتی ہے، زبان نے کن لوگوں میں جنم لیا؟مختلف زبانین کیسے ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتی ہے؟ وقت تہذیب تمدن اور تعلیم کیسے الفاظ کو سنوارتی ہے الفاظ مردہ ہو کر کیسے متروک ہوتے ہیں اور زبان میں نے الفاظ کی آمد اورقبولیت کا عمل کیسے جاری رہتا ہے اور اسطرع کے متعدد سوالات کا جواب جو علم دیتا ہے وہ ہے ،، علم اللسان،علم لسانیات کے میلے میں-
زبان کی پیدائش-
جہاں تک اردو زبان کی جائےپیدائش ،تشکیلی مراحل اور مخصوص صورت پزیری کا تعلق ہے تو اس ضمن می ماہر لساینات نے خاصی خامی فراسائی کی ہے – اردو لسانیات کا مجوعی مطالعہ کرنے پر یہ امر بھی واضع ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ زور اردو زبان کی جائے پیدائش پر دیا جاتا ہے – اب زبان کوئی انسان تو نہیں کہ سکی جائے پیدائش کا قطع طور پر تعین کیا جا سکے-زبان انسان تو نہیں ہاں مگر انسانون کی ضرورت ہے،اینٹ پتھر کی ماند الفاظ مادی وجود نہیں رکھتےانکا وجود اور ساتھ ہی عمر بھی انکے استمعال سے مشروط ہے-
چناچہ فرد،افراد،گروہ قوم کے ساتھ ساتھ الفاظ بھی حیات پاتے سفرکرتے اور ماضی کے ساتھ حال و مستقبل میں بھی اپنا وجود برقرار رکھتے ہیں-تاریخ اس بات کی امر ہے کہ قوموں اور نسلون کے معدوم ہونے کے ساتھ انک عمارت کی مانند انکی زبانیں بھی آثار قدیمہ میں شمار ہوئیں،ہم اردو ہندی بنگلہ تامل اور بڑی زبانوں کی تعداد اگر ہزاروں تک نہیں تو سینکڑوں تک ضرور پہنچی ہے-

اس لسانی تنوع کا سب سے برا سبب اس خطہ کو وسعت ہے آج برصغیرتین ممالک کا منقسم ہے مگر نصف صدی بیشتر یہ ایک تھا ایسا جس کی تاریخ بہت قدیم تھی-جس میں مختلف اوقاتمیں مختلف زبانیں آکر اباد ہوتے رہی-یہان اباد ہونے والے گروہ اقوام اور متنوع اپنے ثقافت اساطیر رسمیں لباس،خوراک اور زبانیں بھی ساتھ لائی اگرچہ کحچھ کی بودباش کے بعد اس خطہ کی ہو کر رہ گئی لیکن انکی زبان ثقافت اور اساطیر کے قومی عناصر نے اپنا تشخش برقرار رکھا شاید یہی وجہ ہے کہ ایک رنگی کے باوجود اختلافات کی زیریں لہروں کا مشاہدہ بھی کیا جا سکتا ہے کبھی تو پنجاب سرحد چترال جداگانہ نظر اتے ہین بھارت میں تو یہ اساس اور بھی شدت سے محسوس کیا جا سکتا ہے کہ پنجاب تامل ناڈو اور بنگالی صوبے نہیں بلکہ جداگانہ خطے محسوس ہوتے ہیں-

جب ساڑھے چار ہزار برس قبل آریہ وسطی یورپ سے نکلے اور پنجاب میں وارد ہوئے تو پہلے سے آباد واراوڑ کول وغیرہ نسلوں سے شمالی ہند کا خطہ خالی کروا لیا-دراوڑوں نے جنوب کا سفر اختیار کر لیا اور چند بلوچستان بھی جا بسے-بلوجستان کے مکرانی اور تامل ناڈو کے باشندے آسام اور اڑٰٰیسہ کع بعض قبائل جیسے کول بنتھال وغیرہ دراوڑ نسل سے مطلق سمجھے جاتے تھے-اب یہ بھہ دعوہ کیا جا رہا ہے کہ اس خطہ میں دراڑو سے پہلے منڈا نسل کے لوگ آباد تھے-
اسکا مطلب یہ ہوا کہ مغل لشکر مین مختلف قومون کے باہمی میل ملاپ سے ایک ایسی بولی نے جنم لیا جس مین ہر زبان کے الفاظ کی آمیزش اور لہجون کا امتزاج شامل تھا-ہوں دیکھیں تو اردو زبان کو( خودرد ) پودے سے مشابہ قرار دی جا سکتی ہے-کسی کو شعوری کاوش سے بغیر عوام سے زریعہ سے عوامی طور پر اس نے وجود پایا اس سے اردو کے عوامی مزاج کا تعین بھی ہوتا ہے اردع ایسے زبان ہے جو عوامی ضرورت کیلیے عوامی تقاضوں کی تکمیل کیلیے عوام نے وضع کی-
ترکی زبان میں لشکر کیلیے اردو استمعال ہوتا ہے- شہنشاہ اکبر کے عہد میں زبان کی ساخت کیلیے جس عمل کا آغاز ہوا، شاہ جہاں کے عہد تک وہ واضع صورت اختیار کر جاتا ہے کہ گلی محلہ کے ساتھ ساتھ اردو شاہی دربار اور محلات تک جا پہنچی ورنہ شاہ جہاں اسے اردو معلئے نا کہتا-
ان چند سطروں میں ہم نے جو کچھ بیان کیا یہ بے یہ بے حد متنازہ اور الجھے مباحث ہیں- لسانیات اساطیر اور علم اللسان کے محقیقین نے اس ضمن میں تحقیقات بھی کیں اور خاصی خاصی فرسانی بھی پھر بھی یہ اساس باقی رہا کہ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نا ہوا-
ہندوستان میں صوبوں سے تہذٰیبی ثقافت اور لسانی عوامل کا تال میل جاری تھا کہ مسلمانوں نے اس خطہ کا رخ کیا مگر شمال سے انے والی دیگر اقوام کی مانند مسلمان صرف ایک طرف سے ہی ہندستان مین وارد نہ ہوئے بلکہ تین طرف سے یعنی شمال ( پنجاب) مغرب (سندہ) اور جنوب ( جنوبی ہند کا مغربی ساحل) پنجاب اور سندہ پر مسلمان حملہ آور ہوئے،قابض ہوئے حکومت قائم کی جبکی انکے برعکس جنوب میں
بغرض تجارت مسمانون کی آمد کا آغاز ہوا-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں