238

فوج کا مورال اور نئی نسل ڈاکٹر صغرا صدف

فوج کا مورال اور نئی نسل
ڈاکٹر صغرا صدف
حالیہ مختصر جنگ کے بارے عالمی سطح پر جس چیز کا اعتراف کیا گیا وہ پاکستان کی سفارتی اور جنگی برتری ہے.یہ پہلی جنگ ہے جس میں پاکستان نے اپنے تمام پتے بہت دانشوری سے کھیلے،کسی موقع پر جذباتیت کا شکار ہو کر کوئی غلط شارٹ نہیں کھیلا،ایک ایسا ملک جو اپنے گھمبیر معاملات اور معاشی مسائل میں گرا ہوا تھا اور جسے ہندوستان اور اسکے ہمنوا تر نوالہ سمجھ رہے تھے،نے دنیا کو اپنی ثابت قدمی سے حیران کر دیا،امن کی بات ضرور کی مگر جنگ سے بھاگا نہیں،پاک فضائیہ کی دھاک اور برتری پوری دنیا نے دیکھی اور تسلیم کی،یہ وہ جنگ تھی جو پاکستانیوں کی اکثریت نے سوشل میڈیا پر اپنی فوج کے شانہ بشانہ لڑی،شاید ہی کوئی لمحہ ہو جب ہم صورتحال سے بے خبر رھے ھوں،فوج کے ساتھ مل کر لڑ رھے تھے اور حکومتی موقف اور کاوشوں کو دنیا بھر تک پہنچا رہے تھے،کچھ شرپسند عناصر کے منفی پروپیگنڈے کی وجہ سے انڈیا پاکستان کو کمزور سمجھ کر بات چیت کے دروازے بند کر بیٹھا تھا،جدید اسلحے، نفری اور امریکہ اسرائیل حمایت نے اس کی فرعونیت کو مزید تقویت دی،مگر پاکستانی فوج نے بتایا کہ جنگ صرف اسلحے کی مدد سے نہیں لڑی جاتی،وجود میں ہمت اور حوصلے کا پٹرول نہ ھو تو جہاز خوف سے ہی گرنے لگتے ہیں،جبکہ قربانی کے جذبے کو ڈھال بنا کر اُڑنے والے خطروں سے بچ کر لوٹ آتے ھیں،دنیا نے دیکھا کہ ھم سے کئی گنا طاقتور فوج کو ہر محاذ پر شکست اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا
نئی نسل کی مثبت سوچ اور حب الوطنی نے شدید متاثر کیا،اچانک شہروں میں گرنے والے میزائلوں اور ڈرونوں کی بارش نے انھیں متفکر کر دیا تھا۔مگر فوج کے طاقتور جواب نے ان کی ہمت بندھائی،میری بیٹی لمحہ بہ لمحہ جنگ کی صورتحال سے جڑی رہی،سیاستدانوں اور ڈی جی آئی ایس آر کی پریس کانفرنسز سن کر جو مدلل تبصرہ کرتی تھی میں حیران رہ جاتی تھی،پاکستان کے طاقتور جواب پر اُس کی خوشی دیدنی تھی کیونکہ اُس کے بقول شاطر اور شرانگیز دشمن کے سامنے بزدلی دکھائی جائے تو وہ اور بدترین ہو جاتا ہے اور اپنے ارد گرد ملکوں کے لئے خطرہ بن جاتا ہے،اُس کو یہ بھی اطمینان تھا کہ ھماری فوج نے سویلینز پر حملے نہیں کئے، ھم سمجھتے تھے یہ لوگ زمینی حقائق سے بے خبر اور بے پرواہ اپنی دنیا میں مگن ھیں مگر ایسا نہیں تھا.میری بیٹی کے نظریات تو پہلے ھی مثبت تھے کہ میں نے اُسے ھمیشہ شخصیت پرستی کی بجائے وطن کی آن اور اقدار کی پاسداری کا سبق دیا ، مگر اُسکی عمر کے جو لوگ لاتعلق اور ناراض تھے اُن کا بھی قصور نہیں تھا کہ انھیں گھروں اور سکولوں میں ایسی تصویر دکھا کر انکی برین واشنگ کی گئی کہ وہ بھی جھانسے میں آگئے اور منفی تاثر پالتے رھے .جدید تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم پندرہ سے بیس سال کی عمر کے نوجوانوں کے سامنے حقیقی منظر نامہ آیا تو انھوں نے اپنی رائے قائم کرکے بھرپور حُب اوطنی کا ثبوت دیا.یہ گالی گلوچ کرنے والی کلاس نہیں اس لئے ان کی قومی دھارے میں شمولیت مثبت ھوگی .
اس میں دو رائے نہیں کہ سوشل میڈیا پر متحرک نئی نسل کی اکثریت جو شخصیت پرستوں کے بہکاوے میں آکر فوج کے خلاف اپنے اندر شدید غم و غصہ پالے بیٹھی تھی کے سوشل میڈیا پر تاثرات دیکھ کر اندازہ ہوا کہ انکے خیالات میں بھی حیرت انگیز تبدیلی آ چکی ھے
یقینا فوج اور حکومت عوام میں اپنا مورال بحال کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں.اب دونوں کو اس مورال کو قائم رکھنے کے لئے جدوجہد کرنی ھے
جنرل عاصم منیر کو اپنے ادارے میں ایسی اصلاحات اور اقدامات کرنے چاھیے جنہیں تاریخ میں احترام کا درجہ حاصل ھو
بھارت اور پاکستان کو مذاکرات کے ذریعے کشمیر اور دیگر مسائل حل کرکے پائیدار امن اور خوشحالی کی طرف بڑھنا ھوگا۔ غربت ، جہالت ، صحت اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے ایشوز پر مل کر کام کرنا ھوگا۔ رحمان فارس کے اشعار جو دونوں ملکوں کے عوام کے لئے ھیں سنیے اور سوچیے
بہت سے کام رہتے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی
کروڑوں لوگ بُھوکے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی
کھلونوں والی عُمروں میں اِنہیں ہم موت کیوں بانٹیں ؟
بڑے معصوم بچے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی
پڑوسی یار ! جانے دو، ہنسو اور مسکرانے دو
مسلسل اشک بہتے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی
بھلا اقبال و غالب کا کہاں بٹوارہ ممکن ہے ؟
کہ یہ سانجھے اثاثے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی
اگر نفرت ضروری ہے تو سرحد پر اکٹھے کیوں ؟
پرندے دانہ چُگتے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی
چلو مل کر لڑیں ہم تُم جہالت اور غربت سے
بہت سپنے اُدھورے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی
سنبھالیں اُن کو مل جُل کر سکھائیں فن محبت کا
بہت جوشیلے لڑکے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی
اِدھر لاہور اُدھر دِلّی، کہاں جائیں گے ہم فارس
یہی دو چار قصبے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں