معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب برائے پرائس کنٹرول سلمی بٹ نے رمضان ریلیف پیکج بارے پر ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے جن کو قابو کرنے کیلئے وزیر اعلیٰ مریم نواز روزانہ کی بنیاد پر رپورٹس طلب کرتی ہیں،پرائس کنٹرول اینڈ کماڈیٹیز مینجمنٹ کے محکمے کو بنانے کا مقصد طلب و رسد کے سٹینڈرڈز کو واضح کرنا ہے،مہنگائی اور مصنوعی مہنگائی میں واضح فرق ہے،گراں فروشی پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، ماہ مبارک کے دوران مارکیٹ قیمتوں میں مزید کمی کیلئے حکومت پنجاب انڈسٹری سے مل کر واضح ریلیف فراہم کر رہی ہے، علاوہ ازیں مستحق افراد کو براہ راست ریلیف کیلئے بذریعہ بینک پے آرڈرز 10 ہزار روپے دے جائیں گے،صوبہ بھر میں 30 لاکھ گھرانوں کو 30 ارب روپے کا براہ راست ریلیف دیا جارہا ہے، پنجاب سوشل اکنامک رجسٹری، پی آئی ٹی بی اور پنجاب بینک کے تعاون سے ریلیف فراہمی کا عمل ممکن ہوگا،صوبہ بھر میں 18 ہزار سے زائد پوائنٹس عوامی سہولت کے پیش نظر بنائے گئے ہیں، دوسری جانب پنجاب کے 25 اضلاع میں ماڈل بازار قائم جبکہ باقی اضلاع میں سہولت بازار قائم کیے گئے ہیں،گھی اور آئل میں 10 روپے، چکن کی قیمت میں 24 روپے جبکہ دالیں ہول سیل قیمتوں پر دستیاب ہوں گی،سبزیوں اور پھلوں کے نرخ بھی ضلعی انتظامیہ کے مقرر کردہ نرخوں سے بھی کم ہوگا،آلو، پیاز ، لیموں،کھجور سمیت دیگر اشیاء خورونوش گزشتہ سال کی نسبت قدرے سستی ہیں، صوبہ بھر میں 600 سٹالز پر چینی فی کلو 130 روپے فی کلو میں فراہم کی جائے گی، معاون خصوصی برائے پرائس کنٹرول سلمی بٹ نے واضح کیا کہ آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت گزشتہ سال کی نسبت ایک ہزار روپے کم ہے،سہولت سٹالز میں مزید 50 سے 100 روپے تک ریلیف فراہم کیا جارہا یے،مارکیٹ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور طلب و رسد پر کڑی نظر ضروری ہے، امپورٹ ہونیوالی اشیاء کے میکنزم کو بھی جلد واضح کیا جائے گا،مقامی سطح پر اشیاء کی پیداوار میں اضافے بارے بھی سفارشات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
***
76