54

وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کا ایم 6 موٹروے کیلئے اے ڈی بی اور این ایچ اے کے درمیان تاریخی معاہدے کا خیرمقدم

وفاقی وزیرمواصلات عبدالعلیم خان نے کراچی کو سکھر سے ملانے والی ایم 6 موٹروے کی تعمیر کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے درمیان اسٹریٹجک معاہدے پر دستخط کا باضابطہ خیرمقدم کیا ہے۔ اس تاریخی کامیابی پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات نے اس منصوبے کو پاکستان کی مستقبل کی ترقی کا اہم راستہ اور اقتصادی خوشحالی کی جانب ایک فیصلہ کن قدم قرار دیا ہے۔
وفاقی وزیرمواصلات عبدالعلیم خان نے کہا کہ اللہ کے فضل سے حکومت نے اس منصوبے کا کامیابی سے آغاز کر دیا ہے جو گزشتہ 30 سال سے زائد عرصے سے تعطل کا شکار تھا اور محض دو سال کی بھرپور کوششوں سے یہ اہم سنگ میل عبور کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایم 6 موٹروے ملک کے کراچی سے سکھر کوریڈور کا ”مسنگ لنک” ہے جس کی تکمیل پائیدار قومی ترقی کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے مزید کہا کہ یہ موٹروے پاکستان کے اہم ترین بنیادی ڈھانچے میں سے ایک ہے جسے ملکی تجارت اور لاجسٹکس کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اس مسنگ لنک کی تکمیل سے پاکستان کا ٹرانسپورٹ نیٹ ورک جدید خطوط پر استوار ہو جائے گا جس کے ذریعے کراچی پورٹ سے آنے والی ٹریفک ایک مسلسل موٹروے سسٹم کے ذریعے پشاور اور گلگت تک باآسانی سفر کر سکے گی۔وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے کہا کہ 306 کلومیٹر طویل یہ چھ رویہ منصوبہ جدید ٹولنگ اور سیفٹی سسٹمز سے لیس ہوگا جس میں مسافروں اور تجارتی ٹرانسپورٹرز کی سہولت کے لیے 15 انٹرچینج اور 10 جدید ترین سروس ایریاز بنائے جائیں گے۔وفاقی وزیر مواصلات نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے ڈھانچے میں حیدرآباد سے نواب شاہ تک کے دو اہم سیکشنز شامل ہیں جنہیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت تیار کیا جائے گا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں اسلامی ترقیاتی بینک اور اوپیک فنڈ پہلے ہی دیگر تین سیکشنز کے لیے فنانسنگ کی منظوری دے چکے ہیں وہیں وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایم 6 کا مکمل منصوبہ اگلے دو سال کے عرصے میں مکمل کر لیا جائے گا۔عبدالعلیم خان نے مزید کہا کہ کراچی کی بندرگاہوں کو شمالی علاقوں سے جوڑنا ایک قومی ترجیح ہے جس سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کی علاقائی تجارتی رابطوں میں بہتری آئے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں