مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر مسلم دنیا کے تزویراتی منظر نامے میں ایک اہم موڑ ثابت ہونے والی اس پیش رفت میں سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ایک بڑا فوجی دستہ ملک کے مشرقی صوبے میں واقع تزویراتی اہمیت کے حامل شاہ عبدالعزیز ایئر بیس پہنچ گیا ہے۔ اس تعیناتی میں پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں اور معاون جہازوں کا ایک مضبوط دستہ شامل ہے، جو ستمبر 2025 میں دونوں خود مختار ممالک کے درمیان طے پانے والے “تزویراتی باہمی دفاعی معاہدے” (SMDA) کا سب سے ٹھوس اور واضح مظہر ہے۔ پاکستان کے عوام کے لیے یہ محض ایک جغرافیائی سیاسی چال یا معمول کی فوجی مشق نہیں ہے، بلکہ یہ ایک “بابرکت مشن” اور ایک مقدس فریضہ ہے جو مذہبی عقیدت اور قومی فخر کے گہرے جذبوں کو بیدار کرتا ہے۔ یہ تصور کہ پاکستان کے سپاہیوں اور پائلٹوں کو مکہ اور مدینہ کے مقدس مقامات یعنی حرمین شریفین کی سلامتی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، پورے ملک میں ایک گونج کی طرح پھیل گیا ہے جس نے ایک دوطرفہ دفاعی معاہدے کو ایک جذباتی اور روحانی مہم میں بدل دیا ہے۔ اس دستے کی آمد ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطہ غیر معمولی عدم استحکام کا شکار ہے اور وسیع تر تنازع کے سائے منڈلا رہے ہیں اور یہ اس شراکت داری کو مزید مستحکم کرتا ہے جو مالی امداد اور تیل کی سپلائی کے روایتی لین دین سے بہت آگے نکل کر ایک وجودی اور لازمی باہمی دفاعی عہد میں تبدیل ہو چکی ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر جاری کردہ باضابطہ بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ یہ تعیناتی دونوں “برادر” ممالک کے درمیان دستخط شدہ مشترکہ تزویراتی دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔ وزارت کی جانب سے استعمال کی گئی زبان نہایت درست اور تزویراتی ارادوں سے بھرپور تھی جس میں کہا گیا کہ لڑاکا اور معاون طیاروں پر مشتمل اس دستے کا مقصد “دونوں ممالک کی افواج کے درمیان فوجی تعاون کو مضبوط بنانا، آپریشنل تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا اور علاقائی و عالمی امن و استحکام کو فروغ دینا” ہے۔ تاہم، امن پسندی کے اس سفارتی لبادے کے نیچے فوجی مدافعت کی ایک سخت حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ تجزیہ کاروں اور دفاعی ماہرین نے نوٹ کیا ہے کہ مشرقی صوبے میں شاہ عبدالعزیز ایئر بیس پر ان اثاثوں کی موجودگی—جو خلیجی بحری گزرگاہوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے قریب ہونے کی وجہ سے بے حد اہم ہے—علاقائی مخالفین کو ایک واضح پیغام دیتی ہے۔ پاک فضائیہ، جو دہائیوں کے انسدادِ دہشت گردی آپریشنز اور اپنے بہت بڑے بھارتی پڑوسی کے ساتھ پیشہ ورانہ رقابت کی وجہ سے جنگی تجربہ رکھتی ہے، مملکت کے لیے وہ تزویراتی مہارت اور آپریشنل پختگی لائی ہے جس کی بہت زیادہ قدر کی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس تعیناتی کا پیمانہ کافی وسیع ہے اور اندازوں کے مطابق اس دستے میں نہ صرف جدید لڑاکا طیاروں کا ایک سکواڈرن شامل ہے بلکہ معاون عملے کی ایک بڑی تعداد بھی ہے، جن کی تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہے، تاکہ سعودی ایئر ڈیفنس نیٹ ورک کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس لمحے کی سنگینی کو پوری طرح سمجھنے کے لیے 17 ستمبر 2025 کی تاریخ کو یاد کرنا ضروری ہے، جسے اسلامی فوجی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ اس دن ریاض کے پُرشکوہ الیمامہ محل میں سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے “تزویراتی باہمی دفاعی معاہدے” پر دستخط کیے۔ یہ تقریب محض فوٹو سیشن نہیں تھی بلکہ اتحاد کا ایک باضابطہ مظاہرہ تھا جس میں دونوں ممالک کی عسکری قیادت کے اعلیٰ ترین حکام بشمول پاکستان کے طاقتور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکت کی۔ اس معاہدے کی بنیادی شق اپنی سادگی اور شدت میں حیران کن ہے کہ “کسی بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا”۔ یہ الفاظ نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسے اجتماعی دفاعی اصولوں کی عکاسی کرتے ہیں، جس نے تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی بادشاہت اور ایٹمی طاقت کے حامل جنوبی ایشیائی ملک کی سلامتی کی تقدیر کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ اس کے روایتی کردار یعنی “تزویراتی گہرائی” فراہم کرنے والے یا ہنگامی دستوں کے ذریعہ کے بجائے، اسلام کے مقدس ترین مقامات کی سرزمین کی خود مختاری کے ضامن کے طور پر ایک بہت بڑی تبدیلی کی علامت تھا۔
اس فولادی معاہدے کے آغاز کو 2020 کی دہائی کے وسط کی مشرقِ وسطیٰ کی تلخ جغرافیائی سیاسی حقیقتوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ خطہ ہائی الرٹ کی حالت میں رہا ہے جہاں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ خاص طور پر خلیجی ریاستوں کا تزویراتی حساب کتاب دوحہ میں اسرائیلی فضائی حملوں اور اپنے اتحادی کو لگام دینے میں امریکہ کی ہچکچاہٹ یا ناکامی جیسے واقعات سے بری طرح لرز اٹھا تھا، جس سے روایتی مغربی سیکورٹی ضمانتوں پر اعتماد کا بحران پیدا ہوا۔ ریاض پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اگرچہ امریکی شراکت داری قیمتی ہے، لیکن کسی بیرونی سپر پاور کی قابل اعتباری پاکستان جیسے مسلم اکثریتی ملک کے عقیدے پر مبنی وابستگی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ پاکستان میں یہ احساس کہ مکہ اور مدینہ کی حفاظت پوری امتِ مسلمہ کی ذمہ داری ہے، ہمیشہ سے ایک طاقتور سیاسی اور سماجی قوت رہا ہے۔ اس معاہدے نے اس جذبے کو ایک قابلِ عمل عسکری نظریے کی شکل دے دی۔ جیسے ہی ایرانی تنازعے کے بڑھنے کے بعد خطہ جوابی حملوں اور سفارتی تعطل سے لرز اٹھا، یہ معاہدہ محض کاغذ کے ٹکڑے سے ایک زندہ جاوید فوجی اتحاد میں تبدیل ہو گیا۔
تعیناتی پر پاکستان کے اندر ردعمل کسی جشن سے کم نہیں رہا، جس نے ملک کی ہنگامہ خیز سیاست کی روایتی تقسیم کو بھی پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ اسلام آباد کے ایوانِ اقتدار سے لے کر لاہور اور کراچی کے بازاروں تک ایک ہی بیانیہ سامنے آیا ہے کہ پاک فوج کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مقدس اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ اس جذبے کا بہترین اظہار سیاسی رہنما بلاول بھٹو زرداری نے کیا جنہوں نے جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اعلان کیا کہ “ہر پاکستانی مکہ اور مدینہ کا دفاع کرنا چاہتا ہے”۔ عام شہری کے لیے یہ منظر کشی بہت طاقتور ہے۔ مقدس شہروں پر پاکستانی پائلٹوں کے گشت یا پاکستانی فوجیوں کے پہرے کا تصور، تاکہ زائرین سکون سے طواف کر سکیں، ایک گہرے فخر کا احساس پیدا کرتا ہے۔ یہ دفاع کے نام پر قوم کی دہائیوں کی قربانیوں کی توثیق کرتا ہے اور ایک ایسی فوج کو، جسے اکثر داخلی سیاست کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، عالمی مسلم عقیدے کے محافظ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا حب الوطنی کے ترانوں، خانہ کعبہ کے ساتھ پاکستانی پرچم کی تصاویر اور تعینات دستوں کی سلامتی کی دعاؤں سے بھر گیا ہے۔ اسے جنگی اقدام کے طور پر نہیں بلکہ ایک “بابرکت مشن” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے—جو پاکستان کے لیے نبی کریم ﷺ کی سرزمین کے اس روحانی قرض کو چکانے کا ایک موقع ہے جو اس کے ذمے ہے۔
مذہبی جوش و خروش کے ساتھ ساتھ ایک گہرا تزویراتی فخر بھی شامل ہے۔ دہائیوں سے پاکستان خود کو “اسلام کا قلعہ” کہتا رہا ہے، لیکن یہ شناخت اکثر صرف بیانات تک محدود تھی۔ اس معاہدے پر دستخط اور اس کے بعد فضائی و زمینی اثاثوں کی تعیناتی کے ساتھ اس شناخت کو ٹھوس فوجی شکل مل گئی ہے۔ پاکستانی قوم، جس نے دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ کی ہولناکیاں اور ایک بڑی بھارتی فوجی مشینری کے وجودی خطرے کا سامنا کیا ہے، اب خود کو درست ثابت ہوتا محسوس کرتی ہے۔ اس کا عسکری نظریہ، جو لچک اور جارحانہ دفاع پر زور دیتا ہے، اب امت کے مرکز کی حفاظت کے لیے برآمد کیا جا رہا ہے۔ یہ حقیقت کہ اس معاہدے پر ایسے وقت میں دستخط کیے گئے جب پاکستان معاشی مشکلات سے نبرد آزما تھا، اسے شہریوں کے لیے مزید جذباتی بنا دیتی ہے؛ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مالی رکاوٹوں کے باوجود ملک کی تزویراتی رسائی اور اخلاقی حیثیت نہ صرف برقرار ہے بلکہ پھیل رہی ہے۔ یہ صرف پیسے یا تیل کی بات نہیں ہے—اگرچہ وہ عوامل بھی موجود ہیں—بلکہ یہ عزت کی بات ہے۔ پاکستانی عوام اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ حرمین شریفین کے خادموں نے اسلام آباد کو اپنی حفاظت کے حتمی ضامن کے طور پر منتخب کیا ہے۔
خالصتاً آپریشنل اور عسکری نقطہ نظر سے شاہ عبدالعزیز ایئر بیس پر پاک فضائیہ کے دستے کی آمد دونوں مسلح افواج کے درمیان باہمی تعاون (Interoperability) میں ایک بڑی چھلانگ کی علامت ہے۔ اگرچہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان فوجی تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے—جس میں 1960 کی دہائی سے مملکت میں پاکستانی فوجیوں کی موجودگی اور مشترکہ مشقیں شامل ہیں—لیکن موجودہ تعیناتی اپنے دائرہ کار اور “مشترکہ مدافعت” کے واضح مینڈیٹ کے لحاظ سے منفرد ہے۔ مشرقی صوبے میں واقع یہ فضائی اڈہ فضائی حدود کی نگرانی اور طاقت کے اظہار کے لیے ایک اہم مرکز ہے۔ پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کو سعودی رائل ایئر فورس کے اثاثوں کے ساتھ ضم کر کے دونوں ممالک درحقیقت ایک متحد فضائی دفاعی نظام تخلیق کر رہے ہیں۔ یہ محض علامتی اشاروں سے کہیں بڑھ کر ہے؛ اس میں حساس ڈیٹا لنکس کا اشتراک، ریڈار کوریج کی ہم آہنگی اور مشترکہ مشن کی منصوبہ بندی شامل ہے۔ ماہرین نے نوٹ کیا ہے کہ یہ تعیناتی دونوں افواج کی “آپریشنل تیاری” کو بڑھاتی ہے جس سے وہ ایک متحد کمانڈ ڈھانچے کے تحت حقیقی وقت میں خطرات کا جواب دے سکتے ہیں۔ اس میں شامل پائلٹوں کے لیے یہ پیشہ ورانہ کامیابی کا اعلیٰ ترین درجہ ہے—نہ صرف علاقائی خود مختاری بلکہ اسلام کے مقدس جغرافیے کا دفاع کرنا۔
اس تعیناتی کے گرد موجود جغرافیائی سیاسی تناظر ایران کے ساتھ جاری تنازعے سے بہت متاثر ہے۔ جیسے جیسے جنگ میں شدت آئی اور ایرانی جوابی حملوں نے خطے میں مختلف مفادات کو نشانہ بنایا اور امریکی افواج شدید مہمات میں مصروف ہوئیں، سعودی عرب نے خود کو ایک نازک پوزیشن میں پایا۔ مملکت نے غیر معمولی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے تاکہ وہ کسی ایسی براہِ راست جنگ میں نہ پھنس جائے جو خطے کی معیشت کو تباہ کر دے۔ تاہم پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے نے تہران کے لیے خطرے کے حساب کتاب کو بنیادی طور پر بدل دیا ہے۔ جیسا کہ سابق سینئر فوجی افسران اور تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے کہ اگر سعودی عرب جوابی کارروائی کرے یا خود کو کسی براہِ راست بڑے حملے کی زد میں پائے، تو وہ تنہا نہیں ہوگا۔ پاکستان جیسی ایٹمی طاقت کی موجودگی، جو ایک باضابطہ معاہدے کی پابند ہے، ایک طاقتور رکاوٹ کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہاں تک کہ ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی قیادت کو واضح طور پر اس معاہدے کی موجودگی کی یاد دہانی کرائی، جو کہ ایک سفارتی انتباہ ہے اور اس سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے جس کے ساتھ اسلام آباد اپنے عہد کو دیکھتا ہے۔ اگرچہ پاکستان ایک ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے—مذاکرات کی میزبانی اور تحمل کی اپیل کر رہا ہے—لیکن لڑاکا طیاروں کی تعیناتی ایک “خاموش ضمانت” ہے کہ اس کے صبر اور ثالثی کے پیچھے مہلک فوجی طاقت موجود ہے۔
مزید برآں، تعیناتی کا پیمانہ عارضی طاقت دکھانے کے بجائے طویل مدتی وابستگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ مختلف خبر رساں اداروں کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ اس دستے میں نہ صرف لڑاکا طیارے بلکہ “معاون طیارے” بھی شامل ہیں، جن میں عام طور پر الیکٹرانک وارفیئر طیارے، فضائی قبل از وقت وارننگ اور کنٹرول سسٹم (AEW&C) اور فضا میں ایندھن بھرنے والے ٹینکرز شامل ہوتے ہیں۔ ان طاقتور معاون ذرائع کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ پاک فضائیہ کا دستہ خود کفیل ہے اور ضرورت پڑنے پر مسلسل جنگی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مزید یہ کہ بعض ذرائع نے مملکت کے اندر وسیع تر سیکورٹی ڈھانچے میں 13,000 تک پاکستانی فوجیوں کے شامل ہونے کا ذکر کیا ہے، جو پہلے سے مشاورتی اور تربیتی کرداروں میں موجود ہزاروں فوجیوں کے علاوہ ہیں۔ یہ پاکستانی افرادی قوت کی ایک بڑی تعیناتی ہے جو اس اتحاد کے زمینی پہلو کو مزید مستحکم کرتی ہے۔ یہ محض کسی مشق کے لیے آنے والا دستہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک مقدس مشن کے لیے آنے والی محافظ فوج ہے۔ سعودی عرب کے لیے یہ بیلسٹک میزائل خطرات اور فضائی مداخلت کے خلاف اس کے دفاع کو مضبوط بناتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ اپنے روایتی میدانوں سے دور، ہائی تھریٹ ماحول میں مربوط فضائی دفاعی آپریشنز کا انمول تجربہ فراہم کرتا ہے۔
مستقبل میں سعودی عرب میں پاک فوج کا یہ “بابرکت مشن” مسلم دنیا کے سیکورٹی ڈھانچے کی نئی تعریف کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ خلیج کی سیکورٹی کی ضمانت دینے میں مغربی طاقتوں کے تاریخی غلبے کو چیلنج کرتا ہے اور اس کی جگہ مشترکہ عقیدے اور تزویراتی ہم آہنگی پر مبنی تعاون کا ماڈل لاتا ہے۔ پاکستان کے عوام کے لیے اپنے سپاہیوں اور طیاروں کو نبی کریم ﷺ کی سرزمین کے لیے روانہ ہوتے دیکھنا ایک ایسا جذباتی منظر تھا جس نے معاشی تنگی اور سیاسی عدم استحکام کی تھکن کو دھو ڈالا۔ اس نے ان کے اس یقین کی تجدید کی کہ ان کے ملک کا، تمام تر مسائل کے باوجود، عالمی سطح پر ایک اہم کردار ہے—صرف سیکورٹی حاصل کرنے والے کے طور پر نہیں بلکہ اسے فراہم کرنے والے کے طور پر بھی۔ شاہ عبدالعزیز ایئر بیس پر سعودی پرچم کے ساتھ پاکستانی پرچم کا لہرانا اتحاد کی ایک طاقتور علامت ہے۔ یہ دنیا کو بتاتا ہے کہ حرمین شریفین کا دفاع ایک اجتماعی ذمہ داری ہے اور ریاض اور اسلام آباد کے درمیان رشتہ اب فولادی، خون سے مہر بند اور ایمان سے بابرکت ہے۔ جیسے جیسے علاقائی کشیدگی برقرار ہے، یہ دستہ ایک بیدار تلوار کی طرح مقدس ترین زمین کی حفاظت کے لیے تیار کھڑا ہے، جس کی پشت پر 25 کروڑ شکر گزار پاکستانیوں کی دعائیں ہیں