تاریخِ عالم کے سائے میں کچھ ایام ایسے ہوتے ہیں جو صرف تاریخ کا حصہ نہیں بنتے، بلکہ کسی قوم کے اجتماعی حافظے پر ایک گہرا اور نہ مٹنے والا زخم بن کر ثبت ہو جاتے ہیں۔ 5 اگست 2019ء کا دن بھی مقبوضہ جموں و کشمیر کے غیرت مند انسانوں اور بین الاقوامی آئین و قانون کی تاریخ کا ایک ایسا ہی سیاہ ترین باب ہے۔ یومِ استحصالِ کشمیر کشمیری عوام کی استقامت، قربانیوں اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے۔ کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی اور انصاف کی حمایت ہمارا مشترکہ عزم ہے۔
آج سے ٹھیک سات برس قبل بھارتی جنونیت نے اپنے ہی آئین کی اہم ترین شقوں آرٹیکل 370 اور 35A کو یکطرفہ، غیر قانونی اور جابرانہ طور پر منسوخ کر کے وادی کی خاص اور نیم خودمختار حیثیت پر ڈاکہ ڈالا۔
اس شومئیِ قسمت فیصلے کا مقصد صرف ایک قانونی یا آئینی ترمیم نہ تھا، بلکہ اس کے پیچھے وادی کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے اور کشمیریوں کی صدیوں پرانی تاریخ، ثقافت اور سیاسی شناخت کو ہمیشہ کے لیے مٹانے کا مکروہ اور مذموم منصوبہ شامل تھا۔ اس اقدام کو نافذ کرنے کے لیے پوری وادی کو دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل میں تبدیل کر دیا گیا؛ سخت ترین کرفیو، مواصلاتی بائیکاٹ اور ہزاروں نوجوانوں و حریت رہنماؤں کی بیجا گرفتاریوں نے وہاں انسانیت کا دم گھوٹ کر رکھ دیا۔
پاکستان میں اس دن کو “یومِ استحصالِ کشمیر” کے طور پر منایا جانا محض ایک رسمی کارروائی یا سالانہ تذکرہ نہیں، بلکہ یہ اس عہد کا دوبارہ اعادہ ہے کہ ہم کشمیری بھائیوں کے ساتھ ان کے بنیادی اور قانونی حق—حقِ خودارادیت—کے لیے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔ مسئلہ کشمیر صرف دو ملکوں کا سرحدی تنازع نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ان درجنوں قراردادوں کا امتحان ہے جن پر دہائیوں سے دھول جم چکی ہے۔
قابض بھارتی فوج نے اراضی قوانین اور ڈومیسائل پالیسیوں میں تبدیلیاں کر کے غیر کشمیریوں کو وادی میں بسانے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، وہ جغرافیائی و آبادیاتی تناسب کو مسخ کرنے کی کھلی سازش ہے۔ لیکن بھارتی ایوانوں میں بیٹھے پالیسی ساز شاید اس بات سے ناواقف ہیں کہ بندوق کی نوک پر خاموشی تو مسلط کی جا سکتی ہے، مگر کسی قوم کے دل میں دہکتی ہوئی حریت کی شمع کو بجھایا نہیں جا سکتا۔
5 اگست کا یہ ستم ظریف دن عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور دنیا بھر کے انسانی حقوق کے دعویداروں کے ضمیر پر ایک بھاری سوالیہ نشان ہے۔ مفادات کی سیاست سے باہر نکل کر اگر عالمی طاقتوں نے اس المیے پر اب بھی خاموشی نہ توڑی تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
کشمیری عوام نے اپنی آزادی، وقار اور تشخص کی خاطر خون کی جو ہولیاں کھیلی ہیں اور جو بے مثال قربانیاں دی ہیں، وہ ضائع نہیں ہوں گی۔ ظلم و بربریت کی یہ تیرہ و تاریک رات بالاخر چھٹے گی اور وادیِ چنار میں آزادی کا سورج پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہو کر رہے گا-
مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 7 سال گزرنے کے بعد بھی عالم اسلام اورعالمئ حقوق کی تنظیمیں اس بارے مین کیا کر رہی ہے کیا کوئی ایسا کام ابھی تک ہوا ہے کہ کشمیری بھائیوں کے زخموں پر کسی نے مرہم لگائی ہو یا انکے ساتھ قدم ملا کر انکے حقوق بنوانے کیلیے علم بلند کیا ہو سیاسی نعرے تو ہر کوئی لگا دیتا ہے مگر حقیقی ازادی کیلے لڑنا اصل جہاد ہے
دعا ہے کہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو اور کشمیری عوام کے جائز حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے
38