116

ٹیکس وصولی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے

وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو سنیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مالی سال 2022-23ء کی پہلی سہ ماہی میں 84ارب روپے کے ریفنڈز جاری کرتے ہوئے بھی جولائی ستمبر 2022ء کی پہلی سہ ماہی میں ایف بی آر نے 1609ارب روپے کے ٹارگٹ کے مقابلے میں 26ارب زیادہ 1635ارب روپے کا ریونیو جمع کر کے ملکی تاریخ میں ریونیو وصولی کی نئی تاریخ رقم کی ہے جو کہ 2021-22ء کی پہلی سہ ماہی جولائی تا ستمبر کی ٹیکس وصولیوں کے مقابلے میں 62ارب روپے (35اعشاریہ پانچ فیصد) زیادہ ٹیکس ریونیو ہے۔
شدید سیلاب سے ملک بھر میں تباہی کے باوجود ایف بی آر نے 1947ء سے 2022ء تک کا سب سے زیادہ ٹیکس ریونیو جمع کیا ہے۔ ڈائریکٹ ٹیکسوں میں 41فیصد اضافہ پہلی سہ ماہی میں ریکارڈ کیا گیا جس کی ملک کی 75سالہ تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ ڈائریکٹ ٹیکس موجودہ حکومت کی اس پالیسی کا آئینہ دار ہے کہ غریبوں کی بجائے صاحب ثروت لوگوں سے ٹیکس زیادہ لیا جائے۔
ایف بی آر کی انقلابی ریونیو حکمت عملی اور فیلڈ فارمیشنوں میں اسکے موثر نفاذ کے نتیجے میں یہ بلاشبہ ایک بڑا کارنامہ ہے۔
جولائی تا ستمبر 2021ء کے پی ٹی آئی دور میں 62ارب روپے کے ریفنڈ جاری کئے گئے تھے جبکہ جولائی تا ستمبر 2022ء کے اتحادی حکومت کے دور میں 84ارب روپے کے ریفنڈز جاری ہوئے ہیں۔ اس طرح پہلی سہ ماہی میں پچھلے سال کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 35اعشاریہ پانچ فیصد زیادہ ریفنڈز بھی ایف بی آر نے جاری کئے جس سے سرمایہ کاروں کو بزنس کے فروغ کیلئے کیپٹل میسر آگیاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں