85

ایمان مزاری اور علی وزیر 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری اور علی وزیر کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

انسدادِ دہشت گردی عدالت میں ایمان مزاری اور علی وزیر کے خلاف بغاوت، دھمکانے اور اشتعال پھیلانے کے کیس کی سماعت ہوئی۔

جج ابوالحسنات کی عدالت میں ایمان مزاری اور علی وزیر کو پیش کیا گیا۔

علی وزیر کے چہرے پر کپڑا ڈال کر کمرۂ عدالت پہنچایا گیا۔

محفوظ شدہ فیصلہ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سنا دیا۔

پراسیکیوٹر نے ایمان مزاری اور علی وزیر کے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔

میں نے بھوک ہڑتال کر دی ہے، ایمان مزاری
ایمان مزاری عدالت پہنچنے پر والدہ شیریں مزاری سے گلے لگ کر آبدیدہ ہوگئیں۔

ایمان مزاری نے کہا کہ میں نے بھوک ہڑتال کر دی ہے، مجھے میری نظموں کی کتابیں نہیں دی گئیں، مجھ سے دوران تفتیش کسی نے کوئی سوال نہیں پوچھے۔
وکیل صفائی نے کہا کہ ایمان مزاری کو ایک دن کا ریمانڈ مل چکا ہے، پولیس کو تاحال کچھ موصول نہیں ہوا، دو دن سے کچھ نہیں ملا، پولیس نے ایمان مزاری سے کوئی تفتیش نہیں کی۔

وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایمان مزاری بھاگ نہیں رہیں، یہیں موجود ہیں، ان کا موبائل اور لیپ ٹاپ پولیس نے لے لیا، ایک ہی نوعیت کے دو مقدمات ان کے خلاف درج ہیں، ایمان مزاری پر الزام ہے ان کے بیانات سے ملک دشمن عناصر کو فائدہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ایمان مزاری کا پولیس کسٹڈی میں رہنا کوئی ضروری نہیں، ان کے ساتھ 900 سے زائد نامزد ملزمان ہیں، ملک میں وکالت کرنا بھی جرم ہے، ایمان مزاری وکیل ہیں۔

ایمان مزاری کے وکلاء نے ملزمہ کے جوڈیشل ریمانڈ کی استدعا کر دی۔
ایمان مزاری پر الزام کیا ہے؟ جج
اے ٹی سی جج ابوالحسنات نے استفسار کیا کہ ایمان مزاری پر الزام کیا ہے؟ معلوم تو ہو۔

پراسیکیورٹر راجا نوید نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد میں جلسہ ہوا، ریاست مخالف نعرے اور تقاریر ہوئیں، ایمان مزاری پر 2022 میں ایسا ہی ریاست مخالف بیانات پر کیس درج ہو چکا ہے۔

پراسیکیورٹر نے کہا کہ ایمان مزاری سے ثبوت برآمد کرنے ہیں، ان کا فوٹو گریمیٹک ٹیسٹ اور وائس میچنگ ٹیسٹ کرانا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں